بجلی کی قیمتوں میں نمایاں کمی اور تاریخی اصلاحات، وزارت توانائی کارکردگی رپورٹ جاری
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
اسلام آباد:
وزارتِ توانائی پاور ڈویژن نے سال 2025 کی ایک سالہ کارکردگی پر مبنی رپورٹ جاری کر دی ہے، جس کے مطابق بجلی کی قیمتوں میں نمایاں کمی اور تاریخی اصلاحات کی گئیں۔
رپورٹ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت، چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی بھرپور حمایت اور وزیر توانائی اویس احمد خان لغاری کی رہنمائی میں ایسے اہم فیصلے کیے گئے جو برسوں سے التوا کا شکار تھے۔
رپورٹ کے مطابق حکومت میں آنے سے اب تک گھریلو صارفین کے لیے بجلی کی قیمت میں 8.
وزارت توانائی نے ’’روشن معیشت پیکیج‘‘ کے تحت صنعتی اور زرعی صارفین کو تین سال کے لیے اضافی بجلی 22.98 روپے فی یونٹ فراہم کرنے کا اعلان کیا۔ آئی پی پیز کے ساتھ مشکل مگر کامیاب مذاکرات کے نتیجے میں صارفین اور قومی خزانے پر 3400 ارب روپے کا بوجھ ختم کیا گیا۔
ناکارہ پاور پلانٹس کی بندش سے تنخواہوں کی مد میں 7 ارب روپے کا بوجھ کم ہوا، جبکہ بجلی کی زائد پیداوار کو مدنظر رکھتے ہوئے 9500 میگاواٹ کے آئندہ منصوبے ختم کر کے عوام کو بجلی کے نرخوں میں ممکنہ ایک روپے فی یونٹ اضافے سے بچا لیا گیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بجلی کی ریکوری میں بہتری آئی، تین بجلی کمپنیوں کی نجکاری کا آغاز کیا گیا اور پی ٹی وی فیس ختم کر دی گئی۔ مزید قرضے لیے بغیر گردشی قرضوں میں 780 ارب روپے کی ریکارڈ کمی کی گئی۔
مزید پڑھیںحکومت نے 200 ارب روپے کی بجلی سبسڈی کی منظوری دیدی
بجلی کے نیٹ میٹرنگ صارفین کیلئے نیا میکنزم تیار
الیکٹرک وہیکلز کے چارجنگ ٹیرف میں 44 فیصد کمی سے آلودگی سے پاک مستقبل کی جانب اہم پیش رفت ہوئی۔ ’’اپنا میٹر، اپنی ریڈنگ‘‘ ایپ کے ذریعے میٹر ریڈنگ کا اختیار عوام کو دیا گیا، جبکہ جدید 118 ہیلپ لائن کے آغاز سے سفارش کلچر کے خاتمے اور یکساں سلوک کو یقینی بنایا گیا۔
اسمارٹ میٹرز کی شفاف اور مسابقتی بولی کے نتیجے میں قیمتوں میں 40 فیصد کمی آئی جس سے سالانہ 100 ارب روپے سے زائد کا فائدہ متوقع ہے۔ نیپرا میں بروقت نظرثانی کی کوششوں سے ٹیکس ادا کرنے والے صارفین کو 100 ارب روپے کے اضافی بوجھ سے ریلیف ملا۔
گوادر میں عوامی اور صنعتی ضروریات کے لیے قابل اعتماد بجلی نظام کی منصوبہ بندی اور عملدرآمد جاری ہے، جبکہ حکومت بجلی کی خرید و فروخت سے الگ ہو کر نجی شعبے کے تحت آزاد اور مسابقتی نظام متعارف کروا رہی ہے۔
وزارت توانائی میں میرٹ پر ماہر اور نوجوان پروفیشنلز کی تقرری کی گئی ہے، جبکہ وزیراعظم کی ہدایت پر گلگت بلتستان میں 100 میگاواٹ کا گرین انرجی منصوبہ شروع کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان اس وقت خطے میں گرین انرجی کا لیڈر ہے، جہاں 55 فیصد بجلی ماحول دوست ذرائع سے پیدا کی جا رہی ہے اور 2034 تک یہ شرح 90 فیصد تک پہنچانے کا ہدف ہے۔
وزارت توانائی کے مطابق یہ بے مثال کارکردگی قوم کی امیدوں کی عکاس ہے اور انشاء اللہ آئندہ بھی عوام اور صنعتی صارفین کو بین الاقوامی معیار اور قیمتوں پر بجلی کی فراہمی جاری رہے گی، جبکہ 2026 میں بھی اصلاحات اور ترقی کا یہ سفر برقرار رکھا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: وزارت توانائی روپے فی یونٹ صارفین کو کے مطابق ارب روپے بجلی کی کے لیے
پڑھیں:
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر بڑا اضافہ، پیٹرول اور ڈیزل مہنگے
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان کرتے ہوئے نیا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کا یہ فیصلہ کیا گیا ہے جس کا اطلاق آج رات 12 بجے سے ہوگا۔
نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 6 روپے 39 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 327 روپے 12 پیسے مقرر ہو گئی ہے۔ اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 7 روپے 83 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے اور اب ڈیزل کی نئی قیمت 375 روپے 4 پیسے ہوگی۔ پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ یہ نئی قیمتیں آج رات سے نافذ العمل ہوں گی اور 23 جولائی تک برقرار رہیں گی۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
مزید :