جرمنی؛ چوروں کی فلمی انداز میں دیوار توڑ کر بینک میں ڈکیتی
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
جرمنی میں کرسمس کی تعطیلات کے دوران چوروں کی فلمی انداز میں ایک بڑی اور غیر معمولی بینک ڈکیتی نے پورے ملک میں سنسنی پھیلا دی ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق مغربی جرمنی کے شہر گیلسن کرچن میں اسپارکاس بینک کی ایک بند برانچ میں چور دیوار میں سوراخ کرکے داخل ہوئے اور انوکھی واردات انجام دی۔
پولیس نے مزید بتایا کہ نامعلوم ملزمان بینک سے منسلک ایک پارکنگ گیراج کی دیوار میں سوراخ کرکے بینک کے اندر تک پہنچے۔
بھاری مشینری اور بڑے ڈرل کی مدد سے انہوں نے بینک کی موٹی کنکریٹ دیوار میں سوراخ کیا اور زیر زمین والٹ روم میں داخل ہو گئے۔
وہاں موجود تقریباً 3 ہزار سیف ڈپازٹ بکس کو توڑا گیا جن میں نقد رقم، سونا اور قیمتی زیورات رکھے گئے تھے۔
لُوٹے گئے سامان کی مجموعی مالیت کا اندازہ 10 ملین سے 90 ملین یورو کے درمیان لگایا جا رہا ہے جو امریکی ڈالر میں تقریباً 11 ملین سے 105 ملین بنتی ہے۔
جرمن خبر رساں اداروں کا کہنا ہے کہ یہ واردات ملک کی تاریخ کی بڑی چوریوں میں شامل ہو سکتی ہے۔
پولیس کے ایک ترجمان نے بتایا کہ اس منصوبے کو انجام دینے کے لیے غیر معمولی مہارت، پیشگی معلومات اور بھرپور منصوبہ بندی کی ضرورت تھی۔
بینک انتظامیہ کا کہنا ہے کہ 3 ہزار 250 میں سے 95 فیصد سے زائد صارفین کے سیف ڈپازٹ بکس متاثر ہوئے ہیں۔
اگرچہ ہر باکس کی اوسط بیمہ شدہ مالیت 10 ہزار یورو سے کچھ زیادہ تھی، تاہم کئی صارفین نے پولیس کو بتایا ہے کہ ان کے نقصان کی اصل مالیت بیمہ شدہ رقم سے کہیں زیادہ ہے۔
پولیس کو اس واردات کا علم اس وقت ہوا جب پیر کے روز بینک میں فائر الارم بجا۔ تاہم اب تک یہ تصدیق نہیں ہو سکی کہ چوری کس دن یا کس وقت کی گئی۔
سیکیورٹی کیمروں کی فوٹیج میں ایک سیاہ رنگ کی آڈی آر ایس 6 کار کو بینک کی پارکنگ سے نکلتے دیکھا گیا جس میں نقاب پوش افراد سوار تھے۔
تحقیقات سے پتا چلا ہے کہ گاڑی کی نمبر پلیٹ پہلے ہینوور شہر سے چوری کی گئی تھی تاہم اب تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی۔
دوسری جانب بینک کے صارفین میں شدید غصہ پایا جاتا ہے۔ درجنوں متاثرہ افراد بینک کے باہر جمع ہوئے اور انتظامیہ سے جواب دہی کا مطالبہ کیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی خدشات اور بینک عملے کو ملنے والی دھمکیوں کے باعث شاخ کو عارضی طور پر بند رکھا گیا ہے تاہم صورت حال اب نسبتاً پُرسکون ہے۔
بینک انتظامیہ نے متاثرہ صارفین کو خطوط ارسال کرنے اور ہاٹ لائن قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ بیمہ کمپنیوں کے ساتھ رابطے میں رہتے ہوئے معاوضے کے طریقہ کار پر کام شروع کر دیا۔
بینک کے ترجمان نے کہا کہ ہم اس واقعے پر شدید صدمے میں ہیں اپنے صارفین کے ساتھ کھڑے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ ملزمان جلد قانون کی گرفت میں آ جائیں گے۔
واضح رہے کہ حالیہ برسوں میں یورپ اور امریکا میں بڑی ڈکیتیوں کے واقعات سامنے آئے ہیں، جن میں فرانس کے لوور میوزیم سے کروڑوں ڈالر مالیت کے زیورات کی چوری اور امریکا میں نقدی کے بڑے ذخیرے پر ہاتھ صاف کرنے جیسے واقعات شامل ہیں۔
گیلسن کرچن کی یہ واردات بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی سمجھی جا رہی ہے جس نے بینکنگ سکیورٹی پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بینک کے
پڑھیں:
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔
صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔
ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔
حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟
مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔