شہریوں کو سستی رہائش فراہم کرنا اولین ترجیح ہے ، افشاں رباب
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)نو تعینات ڈائر یکٹر جنرل .HDA افشاں رباب سید نے کہا ہے شہریوں کوسستی عظیم رہائشی سہولیات فراہم کرنا ہماری اولین تر جیح ہے ،عظیم رہائشی اسکیم گلستان سر مست میں بقیہ ترقیاتی کام آئندہ تین سے چار روز میں شروع کرادئیے جائیں تاکہ اسکیم کے الا ٹیز کو بجلی ،پانی،گیس اور سڑکوں کی بہترین سہولیات مہیا ہو سکیں ،انہوں نے ر یکوری کے نظام کو بھی جدید خطوط پر استوار کرنے کی ہدایت کی ۔میڈیا سیل HDA کے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق وہ گذشتہ روز اپنے عہدے کا چارج لینے کے بعد HDA کے مختلف شعبہ جاتی سربراہان کے تعارفی اجلاس سے خطاب کر رہی تھیں۔اجلاس کے آغاز میں مختلف افسران کی جانب سے اپنے شعبہ جات اور تفویض کردہ ذمہ داریوں کے حوالہ سے تفصیلی بریفنگ دی گئی ۔ڈاکٹر افشاں رباب سید نے کہا کہ HDA حیدر آباد کے عوام کو شہری سہولیات فراہم کرنے والا ایک اہم ادارہ ہے۔انشاء اللہ بہتر منصوبہ بندی کے ذریعہ عوام کے سرکاری اداروں پر اعتماد کو بحال کریں گے۔انہوں نے کہا کہ گلستان سرمست ہائوسنگ اسکیم بہترین لو کیشن پر واقع رہائشی منصوبہ ہے جس پر جلد از جلد ترقیاتی کاموں کو مکمل کر کے الاٹیز کو بہترین رہائشی سہولیات مہیا کی جائیں گی۔ڈائر یکٹر جنرل HDA ڈاکٹر افشاں رباب سید نے مزید کہا کہ بہتر ریکوری کے ذریعہ HDA کو موجودہ مالی بحران سے نکالا جا سکتا ہے لہذا ریکوری کے نظام کو دور جدید کے تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے ،تاکہ ادارہ کے ملازمین کو تنخواہیں اور پنشن بر وقت اور باقا عدگی کے ساتھ ادا کی جا سکیں ۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: افشاں رباب
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔