اسلام ٹائمز: اس تمام گفتگو کا حاصل ہماری یہ خواہش ہے کہ ملت کے مختلف گروہوں کو ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی تمنا میں اپنے اعضاء کو خود اپنے ہاتھوں سے توڑ کر، ایک معذور قوم کی شکل اختیار کرنے کی بجائے، ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر ملت کے مفادات کے گرد ایک ایسا مضبوط حصار بنانا چاہیئے، جو ملت کے مفادات کا تحفظ کرسکے۔ "شکوہء ظلمتِ شب سے تو کہیں بہتر تھا، اپنے حصے کی کوٸی شمع جلاتے جاتے" تحریر: پروفیسر تنویر حیدر نقوی
قوموں میں اگر تقسیم در تقسیم کا عمل جاری رہے تو اس کے ٹکڑے اس کے دشمنوں کے لیے تر نوالے کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔ اسی طرح اگر ملت کی کشتی میں کوٸی ایک سوراخ ہو جائے تو وہ کشتی اپنے تمام سواروں سمیت غرق ہو جاتی ہے۔ آج کم و بیش پاکستان کی ملتِ تشیع اسی صورت حال کا شکار ہے۔ مذہبی اور سیاسی حوالے سے کئی شیعہ جماعتیں جو خود کو شیعہ عوام کی نماٸندہ کہتی ہیں، اس منظرنامے کا حصہ ہیں۔ اب ایک عام شیعہ جب اس صورت حال کو دیکھتا ہے تو پریشان ہو جاتا ہے۔ آج اگر ملت کو کسی شے کی اشد ضرورت ہے تو وہ کسی رہنماء سے زیادہ رہنماٸی کی ہے۔ کیونکہ رہنماء تو خیر سے بہت ہیں۔ خدا ان سب کو اپنی حفاظت میں رکھے۔ ہم ان تمام کا احترام کرتے ہیں، کیونکہ یہ تمام دشمن کی آنکھ میں بہرحال کھٹکتے ہیں۔
لیکن یہاں مسئلہ یہ ہے کہ ہر جماعت کا اپنا الگ پرچم ہے، جو اپنی ایک الگ شناخت رکھتا ہے۔ اب یہاں ملت کا ایک عام فرد کیا کرے اور کس کی معیت میں اپنا سفر جاری رکھے۔؟ زمینی حقیقت یہ ہے کہ قیادت کے ان مساٸل کو دیکھ کر شیعان حیدر کرار کی اکثریت ان میں سے کسی رہنماء کا دامن تھامنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ یقیناً یہ صورت حال ملت کے لیے کوئی اچھی نہیں ہے۔ آخر اس کا حل کیا ہے۔؟ کیا ہم سب اپنی ناپسندیدہ جماعتوں اور ان کے رہنماٶں کے حوالے سے جو شدید تحفظات رکھتے ہیں، محض انہیں ہی موضوع سخن بنائیں یا ان جماعتوں کے جو مثبت کام ہمیں نظر آئیں، انہیں بھی اجاگر کریں اور ان سے حاصل ہونے والی کم یا زیادہ رہنماٸی سے اپنے تہی دامن کو کچھ نہ کچھ تر کرکے آگے کی سمت اپنا سفر جاری رکھیں۔
میں ملت کے ایک فرد کی حیثیت سے یہاں ہر جماعت سے اپنے بعض کم یا زیادہ اختلافات رکھتے ہوئے، اس کا ایک خاص پہلو آپ کے سامنے رکھتا ہوں، جس سے کچھ رہنمائی کشید کی جا سکتی ہے۔ مثلاً سب سے پہلے میں علامہ جواد نقوی صاحب کی جماعت "تحریک بیداریء امت" کے حوالے سے بات کروں گا کہ انہوں نے جس محنت سے "عروة الوثقیٰ" کے نام سے ایک ادارہ تشکیل دیا ہے، وہ تنظیمی حوالے سے ملت کے تمام اداروں کے لیے قابل تقلید ہے۔ ہمارے تمام مدرسوں کو اسی طرح سے ہونا چاہیئے۔ ہمارے باقی علماء کو بھی اپنے ادارے انہی خطوط پر استوار کرنے چاہییں تھے۔ اس طرف توجہ کیوں نہیں دی گئی۔؟ اگر آغا جواد نقوی صاحب نے علماء کے اس چھوڑے ہوۓ خلا کو پر کرکے اہل سنت برادران میں بھی اپنے قد کو بڑھایا ہے تو ان کا یہ حق ہے۔
اب ہم محترم علامہ ساجد نقوی صاحب کی قیادت کے حوالے سے عرض کرتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ پاکستان کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں کے حوالے سے ملت تشیع کے تحفظات رہے ہیں۔ مسلم لیگ نون ہو، پیپلز پارٹی ہو یا تحریکِ انصاف، ان تمام کے نزدیک اہل تشیع کا خون پانی سے بھی زیادہ ارزاں رہا ہے۔ نون لیگ کے حوالے سے کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے۔ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ شیعوں کے ووٹ کو اپنے مفادات کے حصول کے لیے استعمال کیا۔ جہاں ضرورت سمجھی، وہاں شیعہ مخالف جماعتوں سے بھی اتحاد کر لیا۔ تحریک جعفریہ نے جب "پی ڈی اے" کے پلیٹ فارم پر پیپلز پارٹی سے اتحاد کیا تھا تو اس وقت اس جماعت کی نظروں میں تحریک جعفریہ کی جو حیثیت تھی، میں اس کا عینی شاہد ہوں۔ طالبان کی تشکیل کو اس جماعت کی رہنماء اپنا کارنامہ کہتی تھیں۔ وہ طالبان جنہوں نے افغانستان اور پاکستان میں ہزاروں شیعوں کا قتل عام کیا۔
رہی عمران خان کی جماعت، جو اب بحرانی کیفیت سے دوچار ہے، صرف عمران خان کی اپنی ذات تک رہ گئی ہے، ان کی نظر میں شیعہ مظلوموں کے خون کی قیمت جو رہی ہے، کوٸٹہ کے مظلوم ہوں، اعتزاز احسن شہید کا والد ہو یا پارا چنار کے شہداء کے لواحقین ہوں، وہ سب اس کے گواہ ہیں۔ مختلف سیاسی جماعتوں کے ان رویوں کو دیکھتے ہوئے علامہ ساجد نقوی صاحب نے لمحہء موجود میں جس طرح ان مفاد پرست جماعتوں سے کوئی خاص "سیاسی ورکنگ ریلیشن شپ" قاٸم نہیں کی ہوئی، ان کی یہ پالیسی آج کے حالات میں ملت کے مفاد کے حوالے سے زیادہ مناسب ہے۔ اگرچہ ان کی جماعت اب محض علماء کا ایک مخصوص گروہ ہے، جو اپنے ایک مخصوص دائرے میں محدود ہے۔ اب رہی "ایم ڈبلیو ایم" کی کارکردگی تو اس کی سیاسی پالیسی سے ملت کی اکثریت بنیادی نوعیت کے اختلافات رکھتی ہے۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ باقی جماعتوں کے مقابلے میں عوامی سطح پر یہ جماعت اب بھی قدرے مقبول ہے۔
اگرچہ اس کی مقبولیت کا گراف افسوس ناک حد تک گر چکا ہے، لیکن اس کے باوجود اس کا وجود ملت کے لیے سود مند ہے۔ امید ہے کہ یہ جماعت مختلف قسم کے تجربات سے مختلف قسم کے اسباق حاصل کرتے ہوئے کسی ایسے راستے پر آنکھ بند کرکے اپنا سفر زیادہ دیر تک جاری نہیں رکھے گی، جو خودکشی کا راستہ ہے۔ اس تمام گفتگو کا حاصل ہماری یہ خواہش ہے کہ ملت کے مختلف گروہوں کو ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی تمنا میں اپنے اعضاء کو خود اپنے ہاتھوں سے توڑ کر، ایک معذور قوم کی شکل اختیار کرنے کی بجائے، ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر ملت کے مفادات کے گرد ایک ایسا مضبوط حصار بنانا چاہیئے، جو ملت کے مفادات کا تحفظ کرسکے۔
شکوہء ظلمتِ شب سے تو کہیں بہتر تھا
اپنے حصے کی کوٸی شمع جلاتے جاتے
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کے حوالے سے جماعتوں کے نقوی صاحب کے لیے
پڑھیں:
رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر رکشے کو آگ لگا دی
حافظ آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) حافظ آباد میں رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر اپنے رکشے کو آگ لگا دی۔
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق ٹریفک وارڈن کی جانب سے ریلوے پھاٹک کے قریب رکشہ ڈرائیور کا چالان کیا گیا جس پر ڈرائیور مشتعل ہوگیا اور اس نے اپنے رکشے کو آگ لگا دی۔
پولیس کے مطابق رکشہ ڈرائیور کا کہنا تھا کہ آئے روز کے بھاری جرمانوں سے تنگ ہوکر رکشے کو آگ لگائی ہے۔
دوسری جانب ڈی پی او کامران حمید کا کہنا ہےکہ واقعے کے بعد متعلقہ ٹریفک وارڈن کو معطل کر کے تحقیقات شروع کر دی گئی ہے۔
ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار
مزید :