پاکستان میں سال 2026 کا پہلا سورج امیدوں، دعاؤں اور خوشخبریوں کے ساتھ طلوع ہو گیا
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
سال 2026 کا سورج پاکستان میں نئی امنگوں، امیدوں اور خوابوں کے ساتھ طلوع ہو گیا۔ تلخ و شیریں یادوں سے بھرپور 2025 ماضی کی جھروکوں میں دفن ہو گیا جبکہ نئے سال کا آغاز دعاؤں، بارانِ رحمت اور بہتر مستقبل کی امیدوں کے ساتھ ہوا۔
کراچی میں نئے سال کے پہلے سورج نے صبح 7 بج کر 17 منٹ پر اپنی کرنیں بکھیرنا شروع کیں۔
شہریوں کی بڑی تعداد ہل پارک پہنچی جہاں انہوں نے سال 2026 کے پہلے طلوع آفتاب کے مناظر کیمرے کی آنکھ میں قید کیے۔
مساجد میں ملکی سلامتی، ترقی، خوشحالی اور امن کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔ شہریوں کا کہنا تھا کہ ہم دنیا اور خصوصاً پاکستان کے لیے امن و استحکام کے دعا گو ہیں۔
دوسری جانب جڑواں شہروں راولپنڈی اور اسلام آباد میں موسلا دھار بارش کے باعث شہری نئے سال کا سورج نہ دیکھ سکے، تاہم بارش کو قدرت کی جانب سے بڑی نعمت قرار دیا جا رہا ہے۔
چار ماہ کی خشک سالی کے بعد برسنے والی بارانِ رحمت کو نئے سال کی دوسری بڑی خوشخبری کہا جا رہا ہے۔
صبح سویرے گرج چمک کے ساتھ ہونے والی شدید بارش سے شہر جل تھل ہو گئے، پارکس اور درخت دھل گئے اور فضا میں تازگی پھیل گئی۔
نئے سال کے پہلے دن کا آغاز جڑواں شہروں کی مساجد اور امام بارگاہوں میں نمازِ فجر سے ہوا۔ بارش کے باوجود مساجد میں باجماعت نماز میں غیر معمولی رش دیکھا گیا۔
نماز کے بعد پاکستان کی ترقی، خوشحالی، سلامتی اور مضبوط مستقبل کے لیے خصوصی دعائیں مانگی گئیں۔
ادھر نئے سال کے سورج نے دو بڑی خوشخبریوں کے ساتھ طلوع ہونے کا پیغام بھی دیا۔
پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں دس روپے تک ریکارڈ کمی کو عوام کے لیے نئے سال کا بڑا تحفہ قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ دوسری خوشخبری خشک سالی کے بعد برسنے والی بارش ہے۔
لاہور سمیت پنجاب بھر میں ابرآلود موسم اور شدید دھند کے باعث نئے سال کے پہلے سورج کو اپنا مکھڑا دکھانے میں مشکلات پیش آئیں۔
لاہور میں طلوعِ آفتاب کا وقت صبح 7 بج کر 1 منٹ تھا، مگر بادل آڑے آ گئے اور سورج پوری طرح نمودار نہ ہو سکا۔ شہریوں کی یہ خواہش کہ نئے سال کے پہلے سورج کو کیمرے میں قید کریں، پوری نہ ہو سکی۔
شہر میں اس وقت درجہ حرارت 10 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جبکہ رات بھر وقفے وقفے سے ہلکی بوندا باندی ہوتی رہی۔ آج شام نئے سال کے پہلے سورج کے غروب ہونے کا وقت 5 بج کر 10 منٹ ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ دعا ہے نئے سال کا پہلا سورج امید، شکرگزاری اور نئے خوابوں کی علامت ثابت ہو، اور 2026 میں وہ تمام خواب پورے ہوں جو 2025 میں ادھورے رہ گئے تھے۔
یوں سال 2025 اپنی یادوں، تجربات اور سبق کے ساتھ ماضی کا حصہ بن گیا، جبکہ 2026 ایک نئی شروعات، نئی روشنی اور روشن مستقبل کی امید لے کر طلوع ہو چکا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: نئے سال کے پہلے سورج نئے سال کا کے ساتھ طلوع ہو کے لیے
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔