Juraat:
2026-07-24@08:23:57 GMT

فنا کی کہانی

اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT

فنا کی کہانی

بے لگام / ستار چوہدری

پہلے آپ اللہ تعالیٰ کے اس نظام پرغورکریں۔۔۔!!اس نظام کو ہم ” نظام شمسی ” کہتے ہیں، سورج نظام شمسی کا مرکز، روشنی اورحرارت کا
بنیادی ذریعہ ہے ، یہ ہیں سیارے ،عطارد،زہرہ،زمین،مریخ،مشتری،زحل،یورینس،نیپچون، تمام سیارے بیضوی مدار میں سورج کے گرد
گردش کرتے ہیں، اورہر سیارے کی رفتاراورمدار مختلف ہوتا ہے ۔ نظام شمسی میں سیاروں کی گردش کوئی اتفاقی یا وقتی عمل نہیں بلکہ کائنات کی
عمرجتنا قدیم اور نظم و ضبط سے بندھا ہوا سلسلہ ہے ۔ سائنس کے مطابق نظام شمسی تقریباً ساڑھے چار ارب سال پہلے وجود میں آیا، اور تب
سے لے کر آج تک تمام سیارے سورج کے گرد اپنے اپنے مقررہ مدار میں گردش کر رہے ہیں، یہ اربوں سالہ گردش اس بات کی گواہ ہے کہ
کائنات محض ہنگامہ نہیں بلکہ ایک انتہائی باریک حساب، توازن اورقوانین فطرت کی پابند ہے ۔ سورج، جو نظام شمسی کا مرکز ہے ، اپنی بے پناہ
کمیت کی بدولت کشش ثقل پیدا کرتا ہے ، اور یہی کشش ہر سیارے کو اس کے مدار میں باندھے رکھتی ہے ۔ سیارے نہ سورج میں گرتے ہیں
اور نہ ہی خلا میں بکھر جاتے ہیں، کیونکہ ان کی رفتار اور سورج کی کشش کے درمیان ایک نازک مگر کامل توازن قائم ہے ۔ہرسیارہ اپنے مدار
میں ایک غیر مرئی مگر مضبوط زنجیر سے بندھا محسوس ہوتا ہے ۔ یہ زنجیر کشش ثقل ہے ، جو نظر نہیں آتی مگر اس کے اثرات پورے نظام شمسی پر
حاوی ہیں ۔
زمین، جس پر ہم بستے ہیں، تقریباً ساڑھے چار ارب سال سے اسی رفتاراوراسی فاصلے پر سورج کے گرد گھوم رہی ہے ۔ اگر زمین کا مدار
معمولی سا بھی بدل جائے ، اگر وہ سورج کے ذرا قریب آ جائے توپوری دنیا جل کرراکھ بن جائے ،اگر ذرا دور ہو جائے تو سردی سے سب کچھ منجمد ہوجائے گا۔ یہی حال باقی سیاروں کا ہے ، ہر ایک اپنے مدار میں اپنی بقا کا قرض دار ہے ۔کوئی سیارہ اپنے مدار سے معمولی سا بھی ہٹ جائے توکائنات کا نظام تباہ ہوجائے گا،کیونکہ ایک سیارے کا اگرمدار بگڑتا ہے تو دوسروں سیاروں کا بھی مدار بگڑجائے گا اور پوری دنیا تباہ ہوجائے گی، نظامِ شمسی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے توازن کا نام ہے ۔ یہ اربوں سالہ مسلسل گردش ہمیں یہ احساس دلاتی ہے کہ کائنات میں استحکام محض طاقت سے نہیں بلکہ توازن سے قائم ہے ۔ سورج اپنی جگہ قائم ہے ، سیارے اپنی حدود میں رواں ہیں، اور یہی پابندی زندگی، وقت اوربقا کی ضامن ہے ۔ اگر یہ نظم ایک لمحے کیلئے بھی ٹوٹ جائے تو دنیا ختم ہوجائے گی، بقا کا راز مدار میں رہنے میں ہے ، حد سے تجاوز میں نہیں۔ کائنات میں جو اپنے دائرے میں رہتا ہے وہ صدیوں نہیں بلکہ اربوں سال زندہ رہتا ہے ، اور جو اپنی راہ سے ہٹتا ہے وہ فنا کی کہانی بن جاتا ہے ۔اللہ تعالیٰ کو اتنا پیچیدہ نظام بنانے کی کیا ضرورت تھی۔۔۔ ؟کبھی ہم نے غورکیا۔۔۔؟ بس سیاروں کے نام ہی یاد رکھے ہوئے ،تعلیمی اداروں میں بچے بس نظام شمسی پڑھ لیتے ہیں، ہم سوچتے نہیں،سوچوں پرپہرے لگائے ہوئے ،ہمیں نظام شمسی کیا سبق دے رہا۔۔۔ ؟ بعد میں بات کرتے ہیں۔
اب آپ ”زمینی خدا” کے نظام پرغورکریں۔۔۔!!امریکی فوجی نظام میں کمان اور جنرل سربراہان دو الگ مگر باہم مربوط تصورات ہیں، امریکہ کے پاس اس وقت 11یونیفائیڈ کامبیٹنٹ کمانڈز ہیں۔ یہ وہ اعلیٰ ترین عملی کمانیں ہیں جو دنیا بھر میں امریکی فوجی کارروائیوں کی ذمہ دار ہوتی ہیں۔ ان میں سے چھ جغرافیائی ہیں اور پانچ فنکشنل۔ ان 11کمانوں میں سے ہر ایک کی سربراہی ایک چار ستارہ جنرل یا ایڈمرل کرتا ہے ،یعنی کہ عملی طور پرامریکی فوج کے 11اعلیٰ ترین جنرل سربراہ ہیں جو براہ راست صدر اور وزیردفاع کو جواب دہ ہوتے ہیں،بات کی جائے فوج کے مرکزی عسکری سربراہان کی، یعنی وہ جرنیل جو پالیسی، مشاورت اور فوجی قیادت کی علامت سمجھے جاتے ہیں، تو وہ جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کہلاتے ہیں۔ ان کی تعداد آٹھ ہے ، یہ جرنیل براہ راست جنگی کمان نہیں کرتے بلکہ صدراور وزیردفاع کو عسکری مشورہ دیتے ہیں، امریکی فوجی نظام میں تمام کمانڈرز کا ایک ساتھ بیٹھنا یا آزادانہ آپس میں ملاقات کرنا قانونی اور انتظامی طور پر محدود ہے ، فوجی ڈھانچے کو اس طرح ترتیب دیا گیا کہ طاقت کسی ایک گروہ یا جرنیلوں کے اجتماع میں مرتکز نہ ہو،اس لئے تمام جرنیلوں کا آپس میں کوئی مستقل یا خودمختار فورم نہیں ہے جہاں وہ بغیر سیاسی قیادت کی موجودگی کے فیصلے کر سکیں۔ ان کی براہ راست کمان کی زنجیر صدر اور وزیر دفاع تک جاتی ہے ، نہ کہ ایک دوسرے کے ذریعے ۔ کمان کے سربراہ براہ راست ایک دوسرے کو احکامات نہیں دے سکتے ، نہ ہی اجتماعی طور پر کوئی پالیسی یا جنگی فیصلہ کر سکتے ہیں۔ امریکی نظام میں فوج، ریاست کے ماتحت ہے ، ریاست فوج کے ماتحت نہیں، اس لیے طاقت کو منتشر رکھا گیا ہے ، رابطے کو کنٹرول میں رکھا گیا ہے ، اور فیصلہ سازی کو سول قیادت کے ہاتھ میں رکھا گیا ہے ۔امریکی آئین 1787میں لکھا گیا، 238سال ہوگئے ہیں۔آج تک ایک بار بھی چند لمحوں کیلئے بھی آئین معطل نہیں ہوا اور نہ ہی ان اڑھائی صدیوں میں فوج نے حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کی ہے ،کسی جنرل نے ایک تک بغاوت نہیں کی، نہ آئین توڑا۔ پوری امریکی تاریخ میں جنرل ڈگلس میک آرتھرنے کوریا کی جنگ کے دوران صدر ہیری ٹرومین کی پالیسیوں پراختلاف کیا تھا،لیکن بغاوت نہیں کی تھی،صدر ہیری نے انہیں برطرف کردیا تھا، امریکی فوج دنیا کی طاقتورترین فوج ہے ،دنیا کا جدید ترین اسلحہ ان کے پاس ،دنیا بھر میں انکے اڈے ،اربوں ڈالرکے فنڈز ہیں۔ 11 کمانوں کے سربراہ،8جوائنٹ چیف آف اسٹاف، صدر کے سامنے ‘بلی ” بن کر کھڑے ہوتے ہیں،کسی کی ہمت نہیں آگے سے کوئی ایک لفظ انکارکا بول لے ،صدر جب چاہے کسی کو برطرف کردے ۔یہ ہے امریکی نظام۔۔۔۔ نظام شمسی کی طرح،ہرجنرل،ہر ادارہ اپنی حدود میں رہتا ہے ،صدیوں سے کوئی ” سیارہ ” اپنے مدار سے ذرا برابر بھی آگے ،پیچھے نہیں ہوا۔
امریکی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ طاقتورجنرل بھی آئین سے بڑا نہیں ہوتا،بندوق کبھی آئین کے مقابل نہیں آئی،یہی ہے وہ نظام جس کی بنا کر امریکا پوری دنیا پرحکومت کررہا۔ امریکا نے تو” نظام شمسی ” سے سبق حاصل کرلیا اور پوری دنیا پرحکمرانی کررہا،ہم نے صرف سیاروں کے نام رٹہ لگا کر یاد کئے ہیں۔کائنات میں استحکام طاقت سے نہیں، توازن سے قائم ہے ، جو اپنے دائرے میں رہتے ہیں، وہی زندہ رہتے ہیں ،جو اپنی راہ سے ہٹتے ہیں وہ فنا کی کہانی بن جاتے ہیں۔ہم پاکستان حاصل کرکے 24سال بعد ہی فنا کی کہانی بن گئے تھے ، کیونکہ ہم دائرے میں نہیں رہتے ،طاقت سے استحکام قائم کرتے ہیں،اللہ تعالیٰ ہی موجودہ پاکستان کوسلامت رکھے ،ہم تو ”دائرے ”میں رہنے والے لوگ نہیں ہے ۔
٭٭٭

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: فنا کی کہانی امریکی فوج براہ راست نہیں بلکہ اپنے مدار پوری دنیا جائے تو قائم ہے سورج کے

پڑھیں:

پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا

پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔

آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔

 پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔

پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔

 بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔

حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔

 پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔

اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔

اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔

پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔

اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔

عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔

پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین

  • باکو میں بین الاقوامی جوڈیشل ٹریننگ پروگرام، سپریم کورٹ کے جج نے متبادل نظامِ انصاف پر زور
  • کوڑا ٹیکس کی وصولی کی تیاریاں، محکمہ ایکسائز متحرک
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • چین کا ایک اور کامیاب خلائی مشن، 5 سیٹلائٹس مقررہ مدار میں داخل
  • پیٹرول کی قیمتیں روزانہ بدلنے کا نظام، عوام خوش یا پریشان؟
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت