Jasarat News:
2026-07-24@14:45:01 GMT

گولارچی، سورج مکھی کی فصل میں تشویشناک حد تک کمی

اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260101-05-4
گولارچی (نمائندہ جسارت)تحصیل گولارچی سمیت ضلع بدین میں سورج مکھی کی فصل کے زیرِ کاشت رقبے میں تشویشناک حد تک کمی واقع ہو گئی ہے۔ محکمہ زراعت کے اعداد و شمار کے مطابق ماضی میں ضلع بھر میں سورج مکھی کی فصل2لاکھ ایکڑ سے زائد رقبے پر کاشت کی جاتی تھی، تاہم اب یہ رقبہ گھٹ کر30 ہزار ایکڑ سے بھی کم رہ گیا ہے، جو زرعی شعبے کے لیے خطرے کی گھنٹی قرار دیا جا رہا ہے۔آبادگاروں کا کہنا ہے کہ سورج مکھی کی کاشت میں مسلسل کمی کی بنیادی وجہ گزشتہ کئی برسوں سے غیر معیاری بیج کی کھلے عام فروخت ہے۔ ان کے مطابق فصل کی بوائی کے آغاز کے ساتھ ہی مقامی ذخیرہ اندوز سورج مکھی کے بیج کی بلیک مارکیٹنگ کرتے ہیں اور بیج مہنگے داموں فروخت کیا جاتا ہے، جبکہ معیار انتہائی ناقص ہوتا ہے۔کسانوں کا مزید کہنا ہے کہ غیر معیاری بیج کے باعث فصل سے مناسب پیداواری اوسط حاصل نہیں ہو پاتی، جس کے نتیجے میں فصل پر آنے والے اخراجات بھی پورے نہیں ہوتے اور آبادگاروں کو ہر سال بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ مسلسل خسارے کے باعث کاشتکار سورج مکھی کی فصل سے بددل ہو چکے ہیں۔تحصیل گولارچی اور گردونواح میں آبادگاروں نے سورج مکھی کے بجائے کم خرچ اور زیادہ منافع بخش متبادل فصلوں کی کاشت شروع کر دی ہے، جن میں سرسوں، خربوزہ، بھنڈی سمیت دیگر فصلیں شامل ہیں۔ کاشتکاروں کے مطابق یہ فصلیں کم لاگت میں بہتر منافع فراہم کر رہی ہیں، جس کے باعث سورج مکھی کی کاشت ترک کی جا رہی ہے۔آبادگاروں نے محکمہ زراعت پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ غیر معیاری بیج کی فروخت کے خلاف بروقت کارروائی نہ کرنے کے باعث یہ مسئلہ سنگین صورت اختیار کر گیا ہے، جس کے منفی اثرات سورج مکھی کے زیرِ کاشت رقبے میں نمایاں کمی کی صورت میں سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ معیاری بیج کی فراہمی اور بلیک مارکیٹنگ کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں، تاکہ سورج مکھی کی فصل کو تباہی سے بچایا جا سکے۔

سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سورج مکھی کی فصل ا بادگاروں معیاری بیج کے باعث بیج کی

پڑھیں:

بھارت کا سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل کرنا اشتعال انگیز ہے، اسحاق ڈار

منیلا میں آسیان ریجنل فورم سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے تنازع کا حل ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی بنیاد ہے۔ اسلام ٹائمز۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ بھارت کا سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل کرنا تشویشناک اور اشتعال انگیز اقدام ہے۔ منیلا میں آسیان ریجنل فورم سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے تنازع کا حل ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی بنیاد ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کا سندھ طاس معاہدہ معطل کرنا تشویشناک اور اشتعال انگیز اقدام ہے، سندھ طاس معاہدے سے متعلق یکطرفہ اقدامات 25 کروڑ پاکستانیوں کے مفادات کو متاثر کرسکتے ہیں۔ نائب وزیر اعظم کے مطابق اسلام آباد مفاہمتی عمل نے خطے میں امن کے لیے ایک اہم موقع فراہم کیا، تمام فریق تحمل کا مظاہرہ کریں اور سفارت کاری کے ذریعے مسائل حل کریں، افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے۔

متعلقہ مضامین

  • 20 سے 29 سال کی خواتین میں ٹائپ 2 ذیابیطس کے کیسز میں تشویشناک اضافہ
  • بھارت کا سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل کرنا اشتعال انگیز ہے، اسحاق ڈار