آسٹریلیا کا ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں اسپنرز پر انحصار کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
آسٹریلیا نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 2026 کے لیے اسپنرز پر انحصار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
کرکٹ آسٹریلیا کی جانب سے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 2026 کے لیے اعلان کردہ اسپن-ہیوی اسکواڈ میں متعدد نئے چہرے شامل ہیں۔
اپنی پاور ہٹنگ کے لیے مشہور مچل اوون کو کیمرون گرین کی واپسی کے باعث اسکواڈ میں جگہ نہیں مل سکی۔
مچل اسٹارک اور اسپینسر جانسن کی عدم موجودگی کے باوجود آسٹریلوی ٹیم میں کوئی لیفٹ آرم فاسٹ بولر شامل نہیں کیا گیا۔
گزشتہ 12 ٹی ٹوئنٹی میچز میں شرکت نہ کرنے والے کوپر کونولی کو اسکواڈ میں شمولیت دی گئی ہے۔ ان کے علاوہ، میتھیو شورٹ، میتھیو کوہنمن اور زیویئر بارٹلیٹ بھی ورلڈ کپ میں ڈیبیو کرنے والے ہیں۔
مزید پڑھیںانگلینڈ کا ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کیلیے اسکواڈ کا اعلان
افغانستان کا ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کیلیے اسکواڈ کا اعلان
اسکواڈ:
مچل مارش (کپتان)، زیویئر بارٹلیٹ، کوپر کونولی، پیٹ کمنز، ٹم ڈیوڈ، کیمرون گرین، نیتھن ایلس، جوش ہیزل ووڈ، ٹریوس ہیڈ، جوش انگلیس، میتھیو کوہنیمن، گلین میکسویل، میتھیو شارٹ، مارکس اسٹوئنس، ایڈم زیمپا
Australia has gone spin-heavy for the ICC Men's T20 World Cup.
Break down the squad: https://t.co/3o6P5YgvHz pic.twitter.com/DtSdgZ0VWV — cricket.com.au (@cricketcomau) January 1, 2026
واضح رہے کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ سے قبل پاکستان کے خلاف تین ٹی ٹوئنٹی میچز کی سیریز کے لیے اسکواڈ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے لیے
پڑھیں:
گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔
اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔