data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

امریکی فوج نے بین الاقوامی سمندری حدود میں منشیات اسمگلنگ کے خلاف جاری اپنی کارروائیوں کے دوران 3 مبینہ منشیات بردار کشتیوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے، جس کے نتیجے میں 3 افراد ہلاک ہو گئے۔

بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق ان ہلاکتوں کے بعد امریکی کارروائیوں میں مارے جانے والے افراد کی مجموعی تعداد کم از کم 110 تک پہنچ گئی ہے، جس سے خطے میں سیکورٹی صورتحال پر نئی بحث چھڑ گئی ہے۔

امریکی سدرن کمانڈ کے مطابق یہ کارروائیاں ایک قافلے کی صورت میں سفر کرنے والی کشتیوں کے خلاف کی گئیں، جن پر منشیات اسمگلنگ میں ملوث ہونے کا شبہ تھا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ہلاک ہونے والے تینوں افراد ایک ہی کشتی میں سوار تھے، تاہم دیگر کشتیوں میں موجود افراد کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

امریکی حکام نے تاحال ان حملوں کے درست جغرافیائی مقام کی وضاحت نہیں کی، تاہم ماضی میں اس نوعیت کی کارروائیاں بحیرہ کیریبین اور مشرقی بحرالکاہل کے علاقوں میں کی جاتی رہی ہیں، جہاں منشیات اسمگلنگ کے نیٹ ورکس سرگرم رہے ہیں۔ امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ یہ کارروائیاں عالمی منشیات اسمگلنگ کے نیٹ ورک کو کمزور کرنے کے لیے ناگزیر ہیں۔

ماہرین کے مطابق امریکی فوج کی جانب سے بین الاقوامی پانیوں میں اس نوعیت کی کارروائیاں نہ صرف سیکورٹی بلکہ سفارتی سطح پر بھی سوالات کو جنم دیتی ہیں، کیونکہ کئی ممالک ان کارروائیوں کو اپنی خودمختاری کے خلاف تصور کرتے ہیں، تاہم واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ منشیات اسمگلنگ ایک عالمی مسئلہ ہے اور اس کے خلاف سخت اقدامات ضروری ہیں۔

گزشتہ برسوں میں امریکی سدرن کمانڈ کی کارروائیوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کا مقصد منشیات کی ترسیل، غیر قانونی اسلحہ اور منظم جرائم کے نیٹ ورکس کا خاتمہ بتایا جاتا ہے۔ ان کارروائیوں کے نتیجے میں اگرچہ منشیات کی بڑی کھیپیں ضبط کی گئیں، تاہم انسانی جانوں کے ضیاع پر بین الاقوامی تنظیموں کی جانب سے تشویش کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: منشیات اسمگلنگ بین الاقوامی کے خلاف

پڑھیں:

مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق

بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔

واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے تجاوز کر گئیں
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سیشن جج عبد الحکیم کاکڑ جاں بحق
  • موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ