منشیات بردار کشتیوں پر امریکی فوج کی کارروائیوں میں ہلاکتیں 110 ہو گئیں
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
امریکی فوج نے بین الاقوامی سمندری حدود میں منشیات اسمگلنگ کے خلاف جاری اپنی کارروائیوں کے دوران 3 مبینہ منشیات بردار کشتیوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے، جس کے نتیجے میں 3 افراد ہلاک ہو گئے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق ان ہلاکتوں کے بعد امریکی کارروائیوں میں مارے جانے والے افراد کی مجموعی تعداد کم از کم 110 تک پہنچ گئی ہے، جس سے خطے میں سیکورٹی صورتحال پر نئی بحث چھڑ گئی ہے۔
امریکی سدرن کمانڈ کے مطابق یہ کارروائیاں ایک قافلے کی صورت میں سفر کرنے والی کشتیوں کے خلاف کی گئیں، جن پر منشیات اسمگلنگ میں ملوث ہونے کا شبہ تھا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ہلاک ہونے والے تینوں افراد ایک ہی کشتی میں سوار تھے، تاہم دیگر کشتیوں میں موجود افراد کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
امریکی حکام نے تاحال ان حملوں کے درست جغرافیائی مقام کی وضاحت نہیں کی، تاہم ماضی میں اس نوعیت کی کارروائیاں بحیرہ کیریبین اور مشرقی بحرالکاہل کے علاقوں میں کی جاتی رہی ہیں، جہاں منشیات اسمگلنگ کے نیٹ ورکس سرگرم رہے ہیں۔ امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ یہ کارروائیاں عالمی منشیات اسمگلنگ کے نیٹ ورک کو کمزور کرنے کے لیے ناگزیر ہیں۔
ماہرین کے مطابق امریکی فوج کی جانب سے بین الاقوامی پانیوں میں اس نوعیت کی کارروائیاں نہ صرف سیکورٹی بلکہ سفارتی سطح پر بھی سوالات کو جنم دیتی ہیں، کیونکہ کئی ممالک ان کارروائیوں کو اپنی خودمختاری کے خلاف تصور کرتے ہیں، تاہم واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ منشیات اسمگلنگ ایک عالمی مسئلہ ہے اور اس کے خلاف سخت اقدامات ضروری ہیں۔
گزشتہ برسوں میں امریکی سدرن کمانڈ کی کارروائیوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کا مقصد منشیات کی ترسیل، غیر قانونی اسلحہ اور منظم جرائم کے نیٹ ورکس کا خاتمہ بتایا جاتا ہے۔ ان کارروائیوں کے نتیجے میں اگرچہ منشیات کی بڑی کھیپیں ضبط کی گئیں، تاہم انسانی جانوں کے ضیاع پر بین الاقوامی تنظیموں کی جانب سے تشویش کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل منشیات اسمگلنگ بین الاقوامی کے خلاف
پڑھیں:
نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان
تل ابیب: اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے لبنان میں فوجی کارروائیوں کو مزید وسعت دینے کا اعلان کرتے ہوئے اسرائیلی فوج کو اپنی موجودگی اور آپریشنز بڑھانے کی ہدایت جاری کر دی۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ بیوفورٹ قلعے پر قبضہ ایک “ڈرامائی قدم” اور اسرائیلی پالیسی میں بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل غزہ، مصر اور لبنان سمیت مختلف محاذوں پر سرگرم ہے۔ اور سرحدوں سے باہر سیکیورٹی زونز قائم کیے جا رہے ہیں تاکہ اسرائیلی آبادی کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیلی فوج کو ہدایت دی گئی ہے کہ لبنان میں اپنی موجودگی کو مزید مضبوط اور وسیع کیا جائے۔ خصوصاً ان علاقوں میں جہاں ماضی میں حزب اللہ کا اثر و رسوخ رہا ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم نے دعویٰ کیا ہے کہ اکتوبر 2023 سے اب تک حزب اللہ کے 8 ہزار جنگجو مارے جا چکے ہیں۔
دوسری جانب رپورٹس کے مطابق جنگ بندی کے بعد سے اب تک متعدد اسرائیلی ہلاکتیں بھی سامنے آئی ہیں، جن میں حالیہ ڈرون حملے میں مارا گیا ایک فوجی بھی شامل ہے۔