پلوامہ حملہ بی جے پی کی سازش تھی، بھارتی سیاستدان کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
بھارتی سیاستدان اور سماج وادی پارٹی کے رہنما سنتان پانڈے نے مودی سرکار کے جھوٹ کا پردہ چاک کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ پلوامہ حملہ بی جے پی کا رچایا ہوا ڈرامہ تھا۔ بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق سنتان پانڈے کا کہنا تھا کہ 2019 میں پلوامہ حملہ غیر ملکی نہیں بلکہ بی جے پی کی سازش کا حصہ تھا، بی جے پی نے جھوٹ چھپانےکیلئے پلوامہ کی سازش کا ڈھونگ رچایا۔انہو ں نے کہا کہ بی جے پی آج تک نہ بتاسکی کہ حملے میں استعمال ہوا آرڈی ایکس کہاں سے آیا، بغیر تحقیقات اور ثبوت کے پاکستان پر الزام لگانا مودی حکومت کی عادت بن گئی ہے۔سماج وادی پارٹی کے رہنما نے مزید کہا کہ بمبئی اورپلوامہ حملے، سمجھوتہ ایکسپریس اور پہلگام جیسے فالس فلیگ آپریشنز کیے گئے، ایسےفالس فلیگ آپریشنز مودی حکومت کے مذموم مقاصد کے حصول کا پرانا طریقہ ہے۔یاد رہے کہ مودی سرکار نے 2019 میں ہونے والے پلوامہ حملے اور پھر 2025 میں ہونے والے پہلگام واقعے کا الزام پاکستان پر عائد کیا تاہم پاکستان کی جانب سے ہر بین الاقوامی فورم پر بھارت کےبے بنیاد اور جھوٹے الزامات کی سختی سے ناصرف تردید کی گئی بلکہ کہا گیا کہ اگر بھارتی حکومت شواہد فراہم کرے تو پاکستان ہر قسم کے تعاون کے لیے تیار ہے تاہم بھارت کی ہندو انتہا پسند سرکار آج تک ان حملوں سے متعلق کوئی ایک بھی ثبوت فراہم نہیں کر سکی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: بی جے پی
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔