محسن نقوی کی زیر صدارت اجلاس، اسلام آباد کیلئے متعدد جدید منصوبوں کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
(اویس کیانی)وفاقی دارالحکومت میں کئی جدید منصوبوں کا اعلان کیا گیا اور اس حوالے سے اہم فیصلے بھی کیے گئے ہیں۔
وفاقی وزیر داخلہ اور چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کی زیر صدارت سی ڈی اے ہیڈ کوارٹر میں اجلاس ہوا، جس میں چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا نے بریفنگ دی جب کہ عوام کی فلاح وبہبود کے متعدد پراجیکٹس پر پیش رفت کا جائزہ اور مزید پراجیکٹس شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
مسلمان کھلاڑی کی نیوزی لینڈ دورہ سے قبل طوفانی سینچری،بھارتی سلیکٹرز کو کھلا پیغام
محسن نقوی نے اسلام آباد میں اسٹیٹ آف دی آرٹ کرکٹ اسٹیڈیم بنانے کا اعلان کرتے ہوئے 10 روز میں سٹیڈیم کا حتمی ڈیزائن طلب کر لیا۔
اس کے علاوہ اسلام آباد میں نیشنل پارک کے لیے مخصوص ایریا مختص کرنے، جدید طرز پر سیف سٹی پراجیکٹ کا دائرہ کار بڑھنے اور کشمیر چوک پر ٹریفک کی روانی کے لیے اسمارٹ انڈر پاس بنانے کا فیصلہ کرتے ہوئے انڈر پاس کا حتمی ڈیزائن بھی 10 روز میں طلب کیا گیا ہے۔
بالائی علاقوں میں بارش برفباری ؛ محکمہ موسمیات نے اہم الرٹ جاری کردیا
وفاقی دارالحکومت میں فائیو سٹار ہوٹل کی تعمیر کے لیے معروف کمپنیوں کی خدمات لینے کا فیصلہ کرنے کے ساتھ عرصہ دراز سے خالی کمرشل پلاٹوں کی تفصیل طلب کی گئی اور سالڈ ویسٹ منیجمنٹ کمپنی کی خدمات حاسل کرنے کے لیے خصوصی ٹیم تشکیل دینے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔
اجلاس میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ہیڈ کوارٹرز کے لیے بھی اراضی مختص کرنے کا فیصلہ کیا گیا،جب کہ نئے کنونشن سینٹر کی تعمیر کے لیے مختلف تجاویز پر غور کیا گیا،اس کے علاوہ ایف سی، رینجرز، اسلام آباد ٹریفک پولیس کے ہیڈ کوارٹرز کیلئے اراضی مختص کرنے کی تجویز کا بھی جائزہ لیا گیا۔
دعا ہے نیا سال ملک کیلئے امن، ترقی اور خوشحالی کا پیامبر ثابت ہو' جمشید اقبال چیمہ، مسرت چیمہ
وزیر داخلہ نے کہا کہ اسلام آباد میں تجاوزات کے خلاف آپریشن پوری قوت سے جاری رہے گا اور واگزار کرائی گئی اراضی کا مفاد عامہ کے لیے بہترین استعمال کیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: اسلام ا باد کا فیصلہ کیا گیا کے لیے
پڑھیں:
نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
سپریم کورٹ نے نیب قانون میں کی گئی ترامیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق اہم مقدمے کا محفوظ شدہ فیصلہ سنا دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) سے متعلق تمام مقدمات اب وفاقی آئینی عدالت میں سنے جائیں گے۔
جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ نیب قانون میں ترامیم کے بعد سپریم کورٹ کو نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار حاصل نہیں رہا، اس لیے نیب سے متعلق تمام زیر التوا اور آئندہ مقدمات وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں:ایرانی ڈیزل اسمگلنگ کیس: وفاقی آئینی عدالت نے اہم سوالات اٹھا دیے
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں نیب اور وفاقی حکومت کا مؤقف درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 175، نیب آرڈیننس کے سیکشن 32 اور 32 اے کے تحت نیب مقدمات کی سماعت کے لیے وفاقی آئینی عدالت ہی مجاز فورم ہے۔
سپریم کورٹ نے اس معاملے پر فریقین کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا، جو جمعہ کو سنایا گیا۔
اس فیصلے کے بعد نیب سے متعلق تمام مقدمات کی سماعت اب وفاقی آئینی عدالت میں ہوگی، جبکہ سپریم کورٹ ان مقدمات کی سماعت نہیں کرے گی۔ یہ فیصلہ نیب مقدمات کے عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق ایک اہم آئینی نظیر قرار دیا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں