پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے بعد انٹر سٹی ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں بھی کمی
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ کمی کے بعد انٹر سٹی پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں بھی کمی کا اعلان کیا گیا ہے۔
ٹرانسپورٹرز نے سیکرٹری آر ٹی اے لاہور کے ساتھ ملاقات کے بعد فیصلہ کیا کہ کرایوں میں 3 فیصد کمی کی جائے۔ اس کے بعد فوری طور پر تمام بس کمپنیوں نے نئے کرایہ نامے عوام کے لیے آویزاں کر دیے ہیں۔
نئے کرایوں کے مطابق:
کراچی کا کرایہ 5,150 روپے سے کم کر کے 4,950 روپے کر دیا گیا۔
حیدرآباد کا کرایہ 4,800 روپے سے کم کر کے 4,600 روپے ہو گیا۔
ملتان میں کرایہ 1,500 روپے سے 1,450 روپے ہو گیا۔
میانوالی کا کرایہ 1,800 روپے سے کم کر کے 1,750 روپے مقرر کیا گیا۔
مری کا کرایہ 2,370 روپے سے کم کر کے 2,300 روپے کر دیا گیا۔
سرگودھا میں کرایہ 1,160 روپے سے 1,130 روپے کر دیا گیا۔
ٹرانسپورٹ حکام نے کہا کہ یہ اقدام مسافروں کے بوجھ کو کم کرنے اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا براہ راست فائدہ عوام تک پہنچانے کے لیے کیا گیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: روپے سے کم کر کے کا کرایہ کے بعد
پڑھیں:
حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرتے ہوئے پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے۔ اس حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پیٹرول مہنگا ہو تو موٹرسائیکل سوار متاثر نہیں ہوتے، مشیر خزانہ کے بیان پر شدید ردعمل
نوٹیفکیشن کے مطابق اضافے کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 331 روپے 52 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔
نئی قیمتیں نافذجاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے، جس کے بعد ملک بھر کے پیٹرول پمپوں پر صارفین کو نئی قیمتوں کے مطابق ادائیگی کرنا ہوگی۔
عوام پر مزید مالی دباؤ کا خدشہمعاشی ماہرین کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھنے کا امکان ہے، جس کے نتیجے میں اشیائے خورونوش اور دیگر ضروری اشیا کی قیمتوں پر بھی دباؤ آ سکتا ہے۔
مزید پڑھیں:ایران جنگ کے اثرات: پیٹرول مہنگا، یورپ میں الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت میں 51 فیصد اضافہ
ڈیزل کی قیمت میں اضافہ خاص طور پر مال بردار ٹرانسپورٹ اور زرعی شعبے کے اخراجات پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
حکومت ہر 15 روز بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں، درآمدی لاگت، روپے کی قدر اور ٹیکسوں کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا جائزہ لیتی تھی لیکن اب روزانہ کی بنیاد پر یہ عمل جاری ہے۔
اسی جائزہ عمل کے تحت تازہ نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمتیں ملک بھر میں نافذ العمل ہو گئی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پیٹرول پیٹرولیم مصنوعات درآمدی لاگت ڈیزل روپے کی قدر عالمی منڈی مہنگا