ججز کی تعیناتیوں کے فریم ورک سے متعلق جوڈیشل کمیشن کا اہم اجلاس طلب ،3 نکاتی ایجنڈا جاری
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) 27ویں ترمیم کے تحت وفاقی آئینی عدالت، سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس میں ججز کی تعیناتیوں کے فریم ورک سے متعلق جوڈیشل کمیشن کا اجلاس طلب کر لیا گیا۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق جوڈیشل کمیشن نے مشاورت کے لیے اہم اجلاس کا3 نکاتی ایجنڈا جاری کر دیاہے۔ایجنڈے کے مطابق جوڈیشل کمیشن اجلاس 12جنوری کو ڈیڑھ بجے سپریم کورٹ کانفرنس روم میں ہوگا۔ 27ویں آئینی ترمیم سے آرٹیکل 175 اے کی شق 4 میں امیدوار ججوں کے انٹرویوز کا ذکر کیا گیا ہے۔
جاری کردہ ایجنڈے میں کہا گیا کہ جوڈیشل کمیشن رولز 2025 میں امیدواروں کے انٹرویو کا طریقۂ کار نہیں دیا گیا، اجلاس میں وفاقی آئینی عدالت میں مزید ججز کے تعیناتی کے لیے طریقۂ کار پر غور ہو گا۔ہائی کورٹس میں آئینی بینچز کے لیے ججز کی نامزدگیوں کا طریقۂ کار بھی زیر غور آئے گا۔
کتنے ارکان پارلیمنٹ نے اپنے اثاثوں کی تفصیلات جمع نہیں کروائیں ۔۔۔؟ جان کر آپ حیران رہ جائیں
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: جوڈیشل کمیشن
پڑھیں:
سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
اسلام آباد:سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی۔
دوران سماعت، ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی جس پر عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دے دیا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔
وکیل احسن بھون نے دلائل دیے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف کا اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔
دوران سماعت، اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں، جس پر وکیل اے این ایف نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر دو لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
وکیل ملزمہ احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریماریس دیے کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
دوران سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ اے این ایف اہلکار نے جواب دیا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔