پاکستان، بھارت کے درمیان ایٹمی تنصیبات فہرستوں کا سالانہ تبادلہ
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
اسلام آباد(نیوزڈیسک)پاکستان اور بھارت کے درمیان ایٹمی تنصیبات کی فہرستوں کا سالانہ تبادلہ مکمل کر لیا گیا ہے۔ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق یہ تبادلہ پاک بھارت ایٹمی تنصیبات کے خلاف حملوں کی ممانعت کے معاہدے کے تحت عمل میں آیا۔ پاکستان نے اپنی ایٹمی تنصیبات کی فہرست بھارتی ہائی کمیشن کے نمائندے کے حوالے کی، جبکہ بھارت نے اپنی ایٹمی تنصیبات کی فہرست پاکستانی ہائی کمیشن کے نمائندے کو فراہم کی۔
ترجمان کے مطابق دونوں ممالک ہر سال یکم جنوری کو ایٹمی تنصیبات کی فہرستوں کا تبادلہ کرتے ہیں۔ اس معاہدے پر 31 دسمبر 1988ء کو دستخط کیے گئے تھے جبکہ یہ 27 جنوری 1991ء کو نافذ العمل ہوا۔ دونوں ممالک یکم جنوری 1992ء سے مسلسل اس معاہدے کے تحت فہرستوں کا تبادلہ کر رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
مصر کے وزیرِ خارجہ کا اسحاق ڈار کو ٹیلیفون، خطے کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال
سٹی 42 : نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار سے مصر کے وزیرِ خارجہ بدر عبدالعاطی کا ٹیلیفونک رابطہ ہوا ۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے خطے کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال کیا ۔ اسحاق ڈار اور مصر کے وزیرِ خارجہ بدر عبدالعاطی کی جانب سے امن اور استحکام کے فروغ کے لیے مسلسل سفارتی روابط کی ضرورت پر زور دیا گیا ۔
ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ دونوں فریقین نے قریبی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا ۔
لاہور بورڈ کا بڑا فیصلہ، داخلہ فارم مکمل طور پر آن لائن کرنے کی تجویز