کشتیوں کے ذریعے برطانیہ پہنچنے والے غیرقانونی تارکین وطن کی تعداد میں ہوشربا اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
2025 کے دوران چھوٹی کشتیوں کے ذریعے برطانیہ پہنچنے والے تارکینِ وطن کی تعداد ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی۔ مجموعی طور پر 41 ہزار 472 افراد نے یہ خطرناک سفر طے کیا، جو اب تک کی دوسری سب سے زیادہ سالانہ تعداد ہے۔
برطانوی وزارتِ داخلہ (ہوم آفس) کے مطابق نئے سال کی شام کوئی بھی مہاجر برطانیہ نہیں پہنچا جبکہ آخری بار کشتی کے ذریعے آمد 22 دسمبر کو ریکارڈ کی گئی۔
یہ بھی پڑھیے: کیریبین میں ایک اور امریکی حملہ: منشیات بردار کشتی پر کارروائی، 4 ہلاک
اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں آنے والے مہاجرین کی تعداد اگرچہ 2022 کے ریکارڈ 45 ہزار 774 سے کم رہی، تاہم یہ 2024 کے مقابلے میں 13 فیصد زیادہ ہے، جب 36 ہزار 816 افراد برطانیہ پہنچے تھے۔ اسی طرح یہ تعداد 2023 کے مقابلے میں 41 فیصد زیادہ رہی، جب 29 ہزار 437 تارکینِ وطن نے یہ سفر کیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق ہر چھوٹی کشتی میں سوار افراد کی اوسط تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ 2025 میں فی کشتی اوسطاً 62 افراد سوار تھے، جبکہ یہ تعداد 2024 میں 53 اور 2023 میں 49 تھی۔
فلاحی اداروں کا اندازہ ہے کہ گزشتہ سال اس خطرناک سفر کے دوران کم از کم 36 افراد جان کی بازی ہار گئے۔
یہ بھی پڑھیے: لیبیا کے ساحل کے قریب 2 کشتیوں کے حادثے میں کم از کم 4 تارکین وطن ہلاک، درجنوں لاپتا
اسکائی نیوز کے مطابق، برطانیہ کے وزیراعظم سر کیئر اسٹارمر کے عہدہ سنبھالنے کے بعد سے اب تک تقریباً 65 ہزار مہاجرین برطانیہ پہنچ چکے ہیں۔
دوسری جانب برطانوی حکومت نے اس صورتحال کو قابو سے باہر اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے پناہ اور امیگریشن نظام میں بڑی تبدیلیوں کا اعلان کیا ہے۔ ان مجوزہ اقدامات میں ویزہ قوانین مزید سخت کرنا، مستقل رہائش کے لیے طویل انتظار، بیرونِ ملک سے آنے والے طلبہ کے لیے گریجویشن کے بعد قیام کی مدت 18 ماہ تک محدود کرنا اور بعض مہاجرین کو مستقل رہائش کے لیے 20 سال تک انتظار کروانا شامل ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
برطانیہ تارکین وطن کشتی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: برطانیہ تارکین وطن کشتی کے مطابق کے لیے
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آپریشن "نصر 2" کی 26 ویں لہر کے دوران مشترکہ حملوں میں کویت کے العدیری فوجی اڈے پر قائم امریکی الیکٹرانک وارفیئر کے خصوصی یونٹ کو تباہ کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آپریشن "نصر 2" کی 26 ویں لہر کے دوران مشترکہ حملوں میں کویت کے العدیری فوجی اڈے پر قائم امریکی الیکٹرانک وارفیئر کے خصوصی یونٹ کو تباہ کر دیا۔ بیان کے مطابق اس یونٹ سے وابستہ ایک مرکز کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں متعدد اہلکار ہلاک یا زخمی ہوئے، جبکہ اڈے کے فضائی ٹریفک کنٹرول ٹاور کو بھی نقصان پہنچا۔ پاسدارانِ انقلاب کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ یہ کارروائی جارح کو سزا دینے کے سلسلے کی کڑی ہے اور امریکی فوج کی ان کارروائیوں کا جواب ہے، جن میں جمعرات کی صبح امام حسینؑ کے روضے کی جانب جانے والے زائرین کے راستے کو نشانہ بنایا گیا۔ بیان کے مطابق امریکی حملے میں عراق کی سرحد پر واقع شلمچہ بارڈر کراسنگ پر دو افراد جاں بحق اور 11 زخمی ہوئے۔
سپاہ پاسداران انقلاب نے اپنے بیان میں برطانیہ کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کیخلاف استعمال ہونے والا برطانوی اڈہ جائز ہدف تصور ہو گا۔ بیان کے مطابق امریکی فوج نے گزشتہ روز بحرِ ہند میں موجود اپنے بحری بیڑے کے کروز میزائل ختم ہونے کے بعد برطانیہ کے فیئرفورڈ فضائی اڈے سے اڑنے والے B-1 بمبار طیاروں کا استعمال کیا۔ پاسدارانِ انقلاب نے ایک بار پھر ایرانی وزارتِ خارجہ کے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ ایران پر حملے کے لیے استعمال ہونے والا ہر فوجی اڈہ ایک جائز ہدف تصور کیا جائے گا۔ بیان کے اختتام پر برطانیہ کی حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا گیا کہ وہ خطے کے عوام کی مشکلات کی بنیادی ذمہ دار ہے اور اسلامی ممالک کی تقسیم، قتلِ عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام، فلسطین پر قبضے کی منصوبہ بندی اور اسرائیل کے قیام میں اس کا کردار تاریخ کا حصہ ہے۔ بیان میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا کہ برطانیہ نے ایران کے خلاف حالیہ امریکی اور اسرائیلی حملوں میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔
یاد رہے کہ اس سے قبل آج ہی ایرانی وزارتِ خارجہ نے برطانوی حکومت کے اس فیصلے کی مذمت کی تھی، جس کے تحت امریکہ کو ایران کے خلاف فوجی حملوں کی تیاری کے لیے برطانوی فوجی اڈوں اور تنصیبات کے استعمال کی اجازت دی گئی۔ وزارتِ خارجہ نے کہا کہ ان حملوں کی تیاری یا ان پر عمل درآمد میں کسی بھی قسم کا تعاون جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت کے مترادف ہوگا۔