اسٹریٹجک اور حساس قومی اثاثوں کو نجی ہاتھوں میں دینا قومی نقصان ہے، علامہ باقر زیدی
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
رہنما ایم ڈبلیو ایم نے کہا کہ پی آئی اے کی نجکاری کے بعد اسٹیٹ لائف انشورنس، زرعی ترقیاتی بینک، ہاؤس بلڈنگ فنانس کارپوریشن اور بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کو فروخت کرنے کا منصوبہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ موجودہ حکومت قومی اداروں کو سنبھالنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی رہنما علامہ باقر عباس زیدی نے وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری کی جانب سے اسلام آباد، کراچی اور لاہور کے ایئرپورٹس کو لانگ ٹرم کنٹریکٹ پر دینے اور قومی اداروں کی نجکاری کے اعلان کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں، قومی اثاثے قوم کی امانت ہیں، انہیں چند افراد کے فائدے کے لیے قربان نہیں کیا جا سکتا، یہ فیصلے قومی مفادات کے خلاف، عوام دشمن اور ملکی خودمختاری پر کھلا حملہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایئرپورٹس جیسے اسٹریٹجک اور حساس قومی اثاثوں کو نجی ہاتھوں میں دینا درحقیقت انہیں بیچنے کے مترادف ہے، چاہے اسے کسی بھی نام سے پکارا جائے، لانگ ٹرم رعایت کے نام پر قوم کی آنے والی نسلوں کے وسائل گروی رکھے جا رہے ہیں، جو کسی صورت قابل قبول نہیں۔
انہوں نے کہا کہ پی آئی اے کی نجکاری کے بعد اسٹیٹ لائف انشورنس، زرعی ترقیاتی بینک، ہاؤس بلڈنگ فنانس کارپوریشن اور بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کو فروخت کرنے کا منصوبہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ موجودہ حکومت قومی اداروں کو سنبھالنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے اور اپنی نااہلی چھپانے کے لیے سب کچھ بیچنے پر تُلی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ادارے خسارے میں اس لیے نہیں گئے کہ عوام نے نقصان پہنچایا بلکہ بدعنوانی، سیاسی مداخلت اور ناقص حکمرانی نے انہیں تباہ کیا، اب انہی ناکام پالیسیوں کا بوجھ عوام پر ڈال کر قومی اثاثے سرمایہ داروں اور مافیا کے حوالے کیے جا رہے ہیں، ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ حکومت فوری طور پر نجکاری کے اس عوام دشمن ایجنڈے کو واپس لے، پارلیمنٹ اور عوام کو اعتماد میں لے اور قومی اداروں کو مضبوط بنانے کے لیے سنجیدہ اصلاحات کرے، بصورت دیگر عوامی سطح پر شدید ردعمل اور بھرپور مزاحمت کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: نجکاری کے نے کہا کہ
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔