Jasarat News:
2026-07-24@15:24:27 GMT

سال 2026ء ملک و قوم کیلیے خوشحالی کا باعث بنے ،میئرسکھر

اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260102-05-8

 

سکھر ( نمائندہ جسارت ) نئے سال کے آغاز پر میئر سکھر و ترجمان حکومتِ سندھ بیرسٹر ارسلان اسلام شیخ نے سکھر سمیت پورے پاکستان کے عوام کو دل کی گہرائیوں سے نیا سال مبارک پیش کرتے ہوئے دعا کی کہ سال 2026ء ملک و قوم کے لیے امن، خوشحالی، استحکام اور مثبت تبدیلیوں کا پیامبر ثابت ہو۔ انہوں نے کہا کہ نیا سال ہمیں امید، عزم اور اجتماعی ذمہ داریوں کے نئے احساس کے ساتھ آگے بڑھنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔میئر سکھر نے کہا کہ گزشتہ سال دنیا بھر کے لیے ایک سنجیدہ انتباہ بن کر سامنے آیا، کیونکہ 2025ء تاریخ کے گرم ترین سالوں میں شامل رہا اور عالمی درجہ حرارت صنعتی دور کے مقابلے میں 1.

5 ڈگری سینٹی گریڈ کی خطرناک حد کو چھو چکا ہے۔ اس کے نتیجے میں دنیا اور پاکستان کو شدید موسمی تبدیلیوں، ہیٹ ویوز، سیلاب، خشک سالی اور ماحولیاتی عدم توازن جیسے سنگین خطرات کا سامنا ہے، جو انسانی جان، معیشت اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کے لیے بڑا چیلنج بن چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ان حالات کے پیشِ نظر سکھر میں کلائمنٹ چینج کے اثرات کم کرنے کے لیے ایک لاکھ پودے لگانے کا جامع عزم کیا گیا ہے، جس میں بلدیاتی اداروں، تعلیمی اداروں، تاجر برادری، نوجوانوں، خواتین اور عام شہریوں کی بھرپور شمولیت کو یقینی بنایا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ درخت آلودگی میں کمی، درجہ حرارت کے توازن اور صحت مند شہری زندگی کے ضامن ہیں۔میئر سکھر نے اعلان کیا کہ شجرکاری کے عمل کو مؤثر، شفاف اور پائیدار بنانے کے لیے سکھر میں ڈیجیٹل پلانٹیشن مہم کا آغاز کیا جا رہا ہے، جس کے تحت لگائے جانے والے پودوں کو ڈیجیٹل نظام کے ذریعے رجسٹر، مانیٹر اور ٹریک کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس مہم کا مقصد صرف پودے لگانا نہیں بلکہ ان کی بقا، نگہداشت اور ماحولیاتی اثرات کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ڈیجیٹل پلانٹیشن مہم کے لیے خصوصی وہیکلز کا بھی انتظام کیا گیا ہے تاکہ پودوں کی بروقت ترسیل، شجرکاری، نگرانی اور دیکھ بھال کو مؤثر بنایا جا سکے اور شہر کے مختلف علاقوں میں یہ عمل تسلسل کے ساتھ جاری رہے۔

نمائندہ جسارت

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: نے کہا کہ انہوں نے کے لیے

پڑھیں:

حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیراعظم کے اپنا گھر پروگرام کے تحت اپنا ذاتی گھر حاصل کرنے کے خواہشمند شہریوں کے لیے بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ پروگرام کے تحت کمرشل بینک اب تک 160 ارب روپے مالیت کے ہاؤسنگ قرضے منظور کر چکے ہیں جبکہ کامیاب درخواست گزاروں کو قرضوں کی فراہمی کا عمل بھی تیزی سے جاری ہے۔

یہ بات وزیر خزانہ کے مشیر عدنان پاشا نے کراچی میں منعقدہ فرسٹ انٹرنیشنل انشورنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتائی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا اپنا گھر پروگرام ملک میں تقریباً ایک کروڑ (10 ملین) گھروں کی کمی کو پورا کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے اور اس کے ذریعے کم آمدنی والے خاندانوں کو رعایتی شرائط پر اپنے گھر کا مالک بننے کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔

عدنان پاشا نے بتایا کہ اس اسکیم کے تحت شہریوں کو صرف 5 فیصد رعایتی مارک اپ پر ہاؤسنگ قرض فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ وزارت خزانہ اس منصوبے میں شامل بینکوں کے ممکنہ قرض نقصان کا 10 فیصد تک بوجھ خود برداشت کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ حکومت پہلے 10 سال تک مارک اپ سبسڈی بھی فراہم کر رہی ہے تاکہ ہاؤسنگ فنانس زیادہ سے زیادہ سستا اور عوام کی پہنچ میں رہ سکے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ مستحق خاندان اس سہولت سے فائدہ اٹھائیں، جس سے نہ صرف رہائشی مسائل میں کمی آئے گی بلکہ تعمیراتی شعبے، سیمنٹ، اسٹیل، ٹائلز، الیکٹریکل مصنوعات اور دیگر متعلقہ صنعتوں میں بھی معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔

اس موقع پر عدنان پاشا نے حکومت کے الیکٹرک موٹرسائیکل پروگرام پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت آئندہ برسوں میں 20 لاکھ الیکٹرک موٹرسائیکلیں متعارف کرانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں تقریباً 30 لاکھ رجسٹرڈ موٹرسائیکلیں ہر سال قریب 8 ارب ڈالر مالیت کا درآمدی پٹرول استعمال کرتی ہیں، جس سے نہ صرف قیمتی زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت شہریوں کو الیکٹرک بائیکس کی خریداری پر سبسڈی اور بلاسود فنانسنگ فراہم کر رہی ہے تاکہ ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے، تاہم ملک میں الیکٹرک بائیکس کی پیداوار اور سپلائی کے مسائل اب بھی موجود ہیں، جنہیں دور کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

عدنان پاشا نے زرعی شعبے کے حوالے سے بتایا کہ حکومت نے حال ہی میں زرخیزی اسکیم بھی متعارف کرائی ہے جس کے تحت 21 بینکوں پاکستان بینکس ایسوسی ایشن اور سپارکو کے تعاون سے کسانوں کو ڈیجیٹل زرعی قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے میں سیٹلائٹ مانیٹرنگ اور ریئل ٹائم ڈیٹا کے ذریعے قرضوں کے استعمال کی نگرانی کی جائے گی تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے اور زرعی پیداوار میں اضافہ ہو۔

حکومتی حکام کے مطابق اپنا گھر پروگرام اور دیگر مالیاتی اسکیموں کا مقصد کم آمدنی والے طبقات کو سہولت فراہم کرنے معیشت کو متحرک کرنے، تعمیراتی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور ملک میں پائیدار ترقی کی راہ ہموار کرنا ہے۔

مزید پڑھیں۔سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ

متعلقہ مضامین

  • باب المندب سب کیلیے بند نہیں، صرف سعودی عرب کی ناکہ بندی ہے؛ ترجمان حوثی
  • ایس سی او اجلاس: اسحاق ڈار کا علاقائی امن اور تعاون کے فروغ کے عزم کا اعادہ
  • میسی ارجنٹائن کے صدر بنیں گے؟ نئی پیشگوئی نے سب کو حیران کردیا
  • قومی انڈر-18 ٹیم نے ہاکی فائیو اے سائیڈ ورلڈ کپ کیلیے کوالیفائی کرلیا
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی