عمران خان کا پیغام لیکر آرہا ہوں ،وزیراعلیٰ پختونخوا کا کراچی و سندھ کے دورے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پشاور (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے 9 جنوری کو کراچی و سندھ کے دورے کا اعلان کردیا۔ نجی ٹی وی کے مطابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے چند روز قبل لاہور کا 3 روزہ دورہ کیا تھا اور اب انہوں نے کراچی سمیت سندھ کے دورے کا اعلان کیا ہے۔ اپنے ایک بیان میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ میںبانی چیئرمین عمران خان کا پیغام لے کر آرہا ہوں، کراچی و سندھ تیار رہے۔ اپنے ایکس (ٹوئٹر) پر بیان میں انہوں نے لکھا کہ ’’ کراچی، سندھ تیار ہو؟ ان شا اللہ عمران خان صاحب کا پیغام لے کر ہم آرہے ہیں۔ تمام پارٹی کے دوستوں سے جمعہ کے دن ملاقات ہوگی۔ انہوں نے مزید لکھا کہ تمام دوستوں سے 9 جنوری (جمعہ) کے روز ملاقات ہوگی۔ دوسری جانب وزیراعلیٰ پختونخوا کے دورے کے دوران مختلف سیاسی اور انتظامی کے انعقاد کی توقع کی جارہی ہے، جبکہ وزریراعلیٰ سہیل آفریدی کے دورے کو لے کر سندھ کے مختلف حلقوں میں تیاریاں جاری ہیں، تجزیہ کاروں کے مطابق یہ دورہ صوبائی اور ملکی سیاست میں نئی پیش رفت کے اسارے دے سکتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
تہران: ایران کے ایک سینئر سفارتی عہدیدار نے کہا ہے کہ موجودہ کشیدگی کے باوجود تہران نے سفارت کاری کا دروازہ بند نہیں کیا اور مختلف علاقائی ثالثوں کے ذریعے امریکا کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ اب بھی جاری ہے۔
غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی عہدیدار نے الزام عائد کیا کہ امریکا ایران کے اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا کر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ شہری تنصیبات پر حملے جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں اور یہ اقدامات امریکا کی بے بسی کو ظاہر کرتے ہیں۔
سینئر ایرانی سفارتی ذریعے نے کہا کہ ایران نے ہمیشہ مذاکرات اور سفارتی حل کے لیے مثبت رویہ اختیار کیا تاہم امریکا کی دھمکی آمیز پالیسی، جارحانہ اقدامات اور مسلسل فوجی کارروائیوں نے مذاکراتی ماحول کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران اب بھی اختلافات کے حل کے لیے سفارتی راستے کو اہم سمجھتا ہے، لیکن ساتھ ہی اپنی قومی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ آپشنز بھی زیر غور رکھے ہوئے ہے۔
ایرانی عہدیدار نے مزید دعویٰ کیا کہ موجودہ بحران کی بنیادی وجہ 17 جون کو ہونے والی مفاہمتی یادداشت سے امریکا کی مبینہ دستبرداری ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن نے اپنے وعدوں پر عمل نہیں کیا، جس کے باعث خطے میں کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کر گئی۔
ایرانی حکام کے مطابق اگر امریکا اپنی پالیسی میں تبدیلی لاتا ہے اور معاہدے کی شرائط کا احترام کرتا ہے تو سفارتی پیش رفت کی گنجائش موجود ہے، تاہم موجودہ حالات میں تہران اپنی دفاعی اور سیاسی حکمت عملی پر عمل جاری رکھے گا۔
تاحال امریکی حکومت کی جانب سے ایرانی عہدیدار کے ان تازہ الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔