ایک اور یورپی ملک بلغاریہ نے یورو کرنسی اپنالی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
جنوبی مشرقی یورپی ملک بلغاریہ جو بلقان ریاستوں میں شامل ہے نے دہائیوں بعد اپنی قومی کرنسی لیو کو چھوڑ کر یورو کرنسی اختیار کر لی۔
بلغاریہ نے باضابطہ طور پر یورو کو اپنا لیا ہے جو کہ یورپی یونین میں داخل ہونے کے تقریباً دو دہائیوں بعد واحد کرنسی یعنی یورو میں شامل ہونے والا اکیسواں ملک بن گیا ہے۔
یہ ایک ایسا اقدام ہے جس نے جشن اور بے چینی دونوں کو جنم دیا ہے۔
بدھ کی آدھی رات کو بلقان ملک نے 19ویں صدی کے آخر سے اپنی قومی کرنسی لیو کو الوداع کہہ دیا۔
یورپی مرکزی بینک کی صدر کرسٹین لیگارڈ نے کہا کہ “میں بلغاریہ کو یورو فیملی میں خوش آمدید کہتی ہوں۔”
کچھ رہائشیوں نے امید کے ساتھ تبدیلی کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ “بہت اچھا اقدام ہے۔ یکے بعد دیگرے بلغاریہ کی حکومتوں نے یورو کو اپنانے کی حمایت کی ہے، یہ دلیل دی کہ یہ ملک کی کمزور معیشت کو مضبوط کرے گا اور اسے مغربی اداروں کے اندر زیادہ مضبوطی سے اپنایا جائے گا اور روسی اثرورسوخ کمزور پڑ جائے گا۔
بلغاریہ کی آبادی تقریباً 6.
آدھی رات سے پہلے ایک ٹیلیویژن خطاب میں، صدر رومن رادیو نے یورو کو بلغاریہ کے یورپی یونین میں انضمام کا “آخری قدم” قرار دیا۔ تاہم انہوں نے اس فیصلے پر عوامی ریفرنڈم کی عدم موجودگی پر تنقید کی۔
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
بھارتی روپیہ تاریخ کی بدترین گراوٹ کا شکار
نئی دہلی بھارتی کرنسی کو ایک اور بڑا دھچکا لگا ہے، جہاں بھارتی روپیہ اپنی تاریخ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق پہلی بار ایک امریکی ڈالر کی قدر 97 بھارتی روپے سے تجاوز کر گئی، جس کے بعد کرنسی مارکیٹ میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق بھارتی روپیہ اس سے قبل مئی 2026 میں اپنی ریکارڈ کم ترین سطح 96 روپے 96 پیسے فی ڈالر تک گر گیا تھا، تاہم تازہ گراوٹ نے یہ ریکارڈ بھی توڑ دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ روپے کی مسلسل کمزور ہوتی قدر بھارتی معیشت کے لیے نئے چیلنجز پیدا کر سکتی ہے۔
اقتصادی تجزیہ کاروں کے مطابق عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے بھارتی روپے پر شدید دباؤ ڈالا ہے۔ چونکہ بھارت اپنی توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ درآمدی تیل سے پورا کرتا ہے، اس لیے تیل مہنگا ہونے سے درآمدی بل میں اضافہ اور امریکی ڈالر کی طلب بڑھ جاتی ہے، جس کا براہِ راست اثر مقامی کرنسی پر پڑتا ہے۔
خبر ایجنسی کے مطابق روپے کی گراوٹ کو روکنے کے لیے ریزرو بینک آف انڈیا (RBI) نے زرمبادلہ مارکیٹ میں مداخلت کرتے ہوئے ڈالر فروخت کیے اور روپے کو سہارا دینے کی کوشش کی، تاہم اس کے باوجود کرنسی مزید دباؤ کا شکار رہی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتیں بلند رہیں اور بیرونی مالیاتی دباؤ برقرار رہا تو بھارتی روپے کی قدر میں مزید کمی آ سکتی ہے، جس کے نتیجے میں درآمدی اشیا مہنگی ہونے، مہنگائی میں اضافے اور صنعتی شعبے پر منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔
معاشی حلقوں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں بھارتی حکومت اور مرکزی بینک کو روپے کے استحکام، مہنگائی پر قابو پانے اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی کے لیے مزید مؤثر مالیاتی اور معاشی اقدامات کرنا ہوں گے تاکہ کرنسی مارکیٹ میں استحکام لایا جا سکے۔