data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260102-08-12
حیدرآباد (نمائندہ جسارت)حیدرآباد چیمبر آف اسمال ٹریڈرز اینڈ اسمال انڈسٹری کے صدر سلیم میمن نے حیدرآباد میں قائم مگر غیر فعال ٹراما سینٹر کی فوری بحالی اور فعالیت کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ مرکز شہر کے نہایت اہم اور اسٹریٹجک مقام پر واقع ہے، جہاں سے نہ صرف شہری علاقوں بلکہ قومی شاہراہوں پر پیش آنے والے حادثات کے متاثرین کو بروقت طبی امداد فراہم کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد سندھ کا ایک بڑا تجارتی، صنعتی اور ٹرانسپورٹ حب ہے، جہاں روزانہ قومی شاہراہوں پر مال بردار گاڑیوں، پبلک ٹرانسپورٹ اور مسافر ٹریفک کی بھاری آمدورفت رہتی ہے۔ ایسے میں ٹریفک حادثات اور ایمرجنسی صورتحال میں قیمتی انسانی جانوں کا انحصار فوری اور معیاری ٹراما سہولیات پر ہوتا ہے، مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ سرکاری فنڈز سے تعمیر کیا گیا حیدرآباد ٹراما سینٹر تاحال غیر فعال ہے۔صدر چیمبر نے کہا کہ اس ٹراما سینٹر کے غیر فعال ہونے کے باعث تمام ایمرجنسی اور حادثاتی مریضوں کو سول اسپتال حیدرآباد منتقل کیا جاتا ہے، جو پہلے ہی مریضوں کے شدید دباؤ کا شکار ہے۔ اس صورتحال میں نہ صرف قیمتی وقت ضائع ہوتا ہے بلکہ کئی مواقع پر بروقت طبی امداد نہ ملنے کے باعث انسانی جانوں کو بھی خطرات لاحق ہو جاتے ہیں۔ سلیم میمن نے کہا کہ حیدرآباد جیسے بڑے شہر میں ایک تیار مگر غیر فعال ٹراما سینٹر کا ہونا افسوسناک ہے۔صدر چیمبر نے بتایا کہ حیدرآباد چیمبر آف اسمال ٹریڈرز اینڈ اسمال انڈسٹری کی جانب سے اس اہم عوامی مسئلے پر باقاعدہ طور پر وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور صوبائی وزیر صحت سندھ کو خط لکھا گیا ہے، جس میں حیدرآباد ٹراما سینٹر کو فوری طور پر فعال کرنے، مطلوبہ طبی عملہ تعینات کرنے اور جدید آلات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹراما سینٹر کی فعالیت نہ صرف قیمتی انسانی جانوں کو بچانے میں مددگار ثابت ہوگی بلکہ سول اسپتال حیدرآباد پر دباؤ کم کرے گی، قومی شاہراہوں پر ایمرجنسی رسپانس کو بہتر بنائے گی اور عوام کا سرکاری صحت کے نظام پر اعتماد بحال کرے گی اس کے ساتھ حیدرآباد سائٹ ایریا میں موجود سیکڑوں فیکٹریوں کے مزدورں کے لیے ٹراما سینٹر بہتر صحت کی سہولیات فراہم کرنے میں اہم کردارادا کرے گا۔ صدر چیمبرسلیم میمن نے امید ظاہر کی کہ سندھ حکومت اس نہایت اہم عوامی مسئلے کا سنجیدگی سے نوٹس لے گی اور حیدرآباد ٹراما سینٹر کو جلد از جلد فعال بنا کر عوام کو سہولت فراہم کرے گی۔

سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: نے کہا کہ غیر فعال

پڑھیں:

پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم

پاکستان نے بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی اور علمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو کو نئے کمپیوٹر عطیہ کر دیے، جبکہ پاکستانی ہائی کمیشن کے تعاون سے قائم جدید کمپیوٹر لیبارٹری اور تزئین و آرائش شدہ کلاس رومز کا بھی افتتاح کر دیا گیا۔

تقریب میں بنگلہ دیش میں پاکستان کے ہائی کمشنر عمران حیدر اور ڈھاکہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اے بی ایم عبیدالاسلام نے مشترکہ طور پر کمپیوٹر لیب کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے تعلیم، تحقیق، ثقافتی روابط اور انسانی وسائل کی ترقی کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا۔

ہائی کمشنر عمران حیدر نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کمپیوٹر لیب کا قیام صرف نئی سہولیات کی فراہمی نہیں بلکہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تعلیم، ثقافتی ہم آہنگی اور نئی نسل کے روشن مستقبل کے لیے مشترکہ عزم کی علامت ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جدید لیبارٹری طلبہ اور اساتذہ کی صلاحیتوں میں اضافے، تحقیق کے فروغ اور معیاری تعلیم کے حصول میں اہم کردار ادا کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ تعلیم باہمی اعتماد، تعاون اور عوامی روابط کو فروغ دینے کا مؤثر ذریعہ ہے، اسی مقصد کے تحت پاکستانی ہائی کمیشن مختلف تعلیمی اور علمی تعاون کے منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کی جامعات کے درمیان مشترکہ تحقیقی منصوبوں، اساتذہ اور طلبہ کے تبادلہ پروگرام، سمسٹر ایکسچینج، مشترکہ ڈگری پروگرامز اور قلیل مدتی تربیتی کورسز شروع کرنے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔

اس سے قبل ہائی کمشنر عمران حیدر نے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اے بی ایم عبیدالاسلام سے ملاقات کی، جس میں ڈھاکہ یونیورسٹی اور پاکستان کی مختلف جامعات کے درمیان تعلیمی روابط بڑھانے اور مشترکہ تحقیقی سرگرمیوں کو فروغ دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش میں طارق رحمان کی وزراتِ عظمیٰ: پاک بنگلہ دیش تعلقات میں تاریخی پیشرفت کے مواقع

وائس چانسلر نے پاکستانی ہائی کمیشن کی جانب سے شعبہ اردو کی ترقی کے لیے فراہم کیے گئے تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ 1921 میں قائم ہونے والا شعبہ اردو یونیورسٹی کے قدیم اور ممتاز شعبوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں اس وقت بی ایس (آنرز)، ماسٹرز، ایم فل اور پی ایچ ڈی کی سطح پر تعلیم دی جا رہی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان کا تعاون مستقبل میں بھی جاری رہے گا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور تعلیمی تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔

تقریب میں فیکلٹی آف آرٹس کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر محمد ابوالکلام سرکار، شعبہ اردو کے چیئرمین ایسوسی ایٹ پروفیسر محمد غلام مولا، پروفیسر ڈاکٹر محمد غلام ربانی، پاکستانی ہائی کمیشن کے ڈپٹی ہائی کمشنر محمد واصف سمیت اساتذہ، طلبہ اور دونوں ممالک کے حکام نے بھی شرکت کی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پاک بنگلہ دیش پاکستان پروفیسر ڈاکٹر محمد ابوالکلام سرکار ڈھاکہ یونیورسٹی کمپیوٹر لیب

متعلقہ مضامین

  • پٹرول کی قیمت میں 4 روپے اضافے پر شہری مایوس، فوری ریلیف کا مطالبہ
  • پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن