حیدرآباد میں قائم غیر فعال ٹراما سینٹر فوری بحال کیا جائے، سلیم میمن
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260102-08-12
حیدرآباد (نمائندہ جسارت)حیدرآباد چیمبر آف اسمال ٹریڈرز اینڈ اسمال انڈسٹری کے صدر سلیم میمن نے حیدرآباد میں قائم مگر غیر فعال ٹراما سینٹر کی فوری بحالی اور فعالیت کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ مرکز شہر کے نہایت اہم اور اسٹریٹجک مقام پر واقع ہے، جہاں سے نہ صرف شہری علاقوں بلکہ قومی شاہراہوں پر پیش آنے والے حادثات کے متاثرین کو بروقت طبی امداد فراہم کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد سندھ کا ایک بڑا تجارتی، صنعتی اور ٹرانسپورٹ حب ہے، جہاں روزانہ قومی شاہراہوں پر مال بردار گاڑیوں، پبلک ٹرانسپورٹ اور مسافر ٹریفک کی بھاری آمدورفت رہتی ہے۔ ایسے میں ٹریفک حادثات اور ایمرجنسی صورتحال میں قیمتی انسانی جانوں کا انحصار فوری اور معیاری ٹراما سہولیات پر ہوتا ہے، مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ سرکاری فنڈز سے تعمیر کیا گیا حیدرآباد ٹراما سینٹر تاحال غیر فعال ہے۔صدر چیمبر نے کہا کہ اس ٹراما سینٹر کے غیر فعال ہونے کے باعث تمام ایمرجنسی اور حادثاتی مریضوں کو سول اسپتال حیدرآباد منتقل کیا جاتا ہے، جو پہلے ہی مریضوں کے شدید دباؤ کا شکار ہے۔ اس صورتحال میں نہ صرف قیمتی وقت ضائع ہوتا ہے بلکہ کئی مواقع پر بروقت طبی امداد نہ ملنے کے باعث انسانی جانوں کو بھی خطرات لاحق ہو جاتے ہیں۔ سلیم میمن نے کہا کہ حیدرآباد جیسے بڑے شہر میں ایک تیار مگر غیر فعال ٹراما سینٹر کا ہونا افسوسناک ہے۔صدر چیمبر نے بتایا کہ حیدرآباد چیمبر آف اسمال ٹریڈرز اینڈ اسمال انڈسٹری کی جانب سے اس اہم عوامی مسئلے پر باقاعدہ طور پر وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور صوبائی وزیر صحت سندھ کو خط لکھا گیا ہے، جس میں حیدرآباد ٹراما سینٹر کو فوری طور پر فعال کرنے، مطلوبہ طبی عملہ تعینات کرنے اور جدید آلات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹراما سینٹر کی فعالیت نہ صرف قیمتی انسانی جانوں کو بچانے میں مددگار ثابت ہوگی بلکہ سول اسپتال حیدرآباد پر دباؤ کم کرے گی، قومی شاہراہوں پر ایمرجنسی رسپانس کو بہتر بنائے گی اور عوام کا سرکاری صحت کے نظام پر اعتماد بحال کرے گی اس کے ساتھ حیدرآباد سائٹ ایریا میں موجود سیکڑوں فیکٹریوں کے مزدورں کے لیے ٹراما سینٹر بہتر صحت کی سہولیات فراہم کرنے میں اہم کردارادا کرے گا۔ صدر چیمبرسلیم میمن نے امید ظاہر کی کہ سندھ حکومت اس نہایت اہم عوامی مسئلے کا سنجیدگی سے نوٹس لے گی اور حیدرآباد ٹراما سینٹر کو جلد از جلد فعال بنا کر عوام کو سہولت فراہم کرے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء
پشاور (بیورو رپورٹ) وزیراعلیٰ خیبر پی کے محمد سہیل آفریدی نے ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا باضابطہ اجراء کر دیا۔ جو 5 سٹریٹجک ستونوں، 9کلیدی اہداف، 32 تھیمیٹک ڈومینز، 915 سٹریٹجک اقدامات پر مشتمل ہے۔اس پالیسی کے تحت حکومتی خدمات مرحلہ وار آن لائن اور Citizen-Centric بنائے جائیں گی۔ پیپر لیس گورننس کے ذریعے شفافیت، جوابدہی اور سرکاری کارکردگی میں نمایاں بہتری آئے گی۔ ایک لاکھ سے زائد نوجوانوں کو AI اور ڈیجیٹل مہارتوں کی تربیت دی جائے گی۔ گرین آئی سی ٹی، کاربن فٹ پرنٹ میں کمی اور کاربن کریڈٹ رجسٹری پر کام کیا جائے گا۔ ڈیجیٹل اصلاحات سے عوام کو سرکاری دفاتر کے غیر ضروری چکر نہیں لگانے پڑیں گے۔