شکر گزاری ایمان اور اخلاق کی روح ہے، ڈاکٹر حسن محی قادری
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
چیئرمین سپریم کونسل منہاج القرآن انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ اللہ کو وہ بندے پسند ہیں جو نعمت ملنے پر شکر آزمائش پر صبر کرتے ہیں، اللہ کی نعمتوں کا شکر اد ا کرتے رہو اسی سے معاشرہ میں مثبت قدریں فروغ پاتی ہیں۔حمدِ الٰہی انسان کو غرور، مایوسی اور بے چینی سے محفوظ رکھتی ہے۔ جب بندہ اللہ کی تعریف بیان کرتا ہے تو اس کا دل اللہ کی طرف متوجہ رہتا ہے اور زندگی کے مسائل آسان ہو جاتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ چیئرمین سپریم کونسل منہاج القرآن انٹرنیشنل پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو وہ بندہ بے حد محبوب ہے جو ہر حال میں اس کا شکر ادا کرتا اور اس کی حمد بیان کرتا ہے۔ شکر گزاری ایمان کی روح اور بندگی کی پہچان ہے جبکہ حمد الہیٰ دلوں کو سکون اور زندگیوں کو توازن عطا کرتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے تحریک منہاج القرآن کے تنظیمی عہدیداروں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ قرآن حکیم میں متعدد مقامات پر شکر کی ترغیب دی گئی ہے اور ناشکری کو زوال و محرومی کا سبب قرار دیا گیا ہے۔ شکر صرف زبان سے ادا کرنے کا نام نہیں بلکہ نعمتوں کے صحیح استعمال، اطاعتِ الٰہی اور مخلوقِ خدا کی خدمت سے اس کا عملی اظہار ہوتا ہے، جو بندہ نعمت ملنے پر شکر اور آزمائش آنے پر صبر اختیار کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے درجات بلند فرما دیتا ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری نے واضح کیا کہ حمدِ الٰہی انسان کو غرور، مایوسی اور بے چینی سے محفوظ رکھتی ہے۔ جب بندہ اللہ کی تعریف بیان کرتا ہے تو اس کا دل اللہ کی طرف متوجہ رہتا ہے اور زندگی کے مسائل آسان ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شکر گزاری فرد کے باطن کو سنوارتی، معاشرے میں مثبت طرزِ فکر کو فروغ دیتی اور اجتماعی سطح پر اخلاقی استحکام کا باعث بنتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ دور کے چیلنجز کا مؤثر حل یہی ہے کہ ہم شکر اور حمد کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنائیں۔ نعمتِ ایمان، صحت، امن، علم اور رزق پر شکر ادا کرنا دراصل ان نعمتوں کے دوام کی ضمانت ہے۔ رسولِ اکرم ﷺ کی سیرتِ طیبہ شکر و حمد کا کامل نمونہ ہے، جس پر عمل پیرا ہو کر ہم اللہ کی رضا حاصل کر سکتے ہیں۔ چیئرمین سپریم کونسل نے کہا کہ اللہ تعالیٰ ہمیں شکر گزار اور حمد کرنیوالا بندہ بننے کی توفیق عطا فرمائے، ہمارے دلوں کو نورِ ایمان سے منور کرے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: انہوں نے اللہ کی کرتا ہے نے کہا کہا کہ
پڑھیں:
پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
پاکستان نے بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی اور علمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو کو نئے کمپیوٹر عطیہ کر دیے، جبکہ پاکستانی ہائی کمیشن کے تعاون سے قائم جدید کمپیوٹر لیبارٹری اور تزئین و آرائش شدہ کلاس رومز کا بھی افتتاح کر دیا گیا۔
تقریب میں بنگلہ دیش میں پاکستان کے ہائی کمشنر عمران حیدر اور ڈھاکہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اے بی ایم عبیدالاسلام نے مشترکہ طور پر کمپیوٹر لیب کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے تعلیم، تحقیق، ثقافتی روابط اور انسانی وسائل کی ترقی کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا۔
ہائی کمشنر عمران حیدر نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کمپیوٹر لیب کا قیام صرف نئی سہولیات کی فراہمی نہیں بلکہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تعلیم، ثقافتی ہم آہنگی اور نئی نسل کے روشن مستقبل کے لیے مشترکہ عزم کی علامت ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جدید لیبارٹری طلبہ اور اساتذہ کی صلاحیتوں میں اضافے، تحقیق کے فروغ اور معیاری تعلیم کے حصول میں اہم کردار ادا کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ تعلیم باہمی اعتماد، تعاون اور عوامی روابط کو فروغ دینے کا مؤثر ذریعہ ہے، اسی مقصد کے تحت پاکستانی ہائی کمیشن مختلف تعلیمی اور علمی تعاون کے منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کی جامعات کے درمیان مشترکہ تحقیقی منصوبوں، اساتذہ اور طلبہ کے تبادلہ پروگرام، سمسٹر ایکسچینج، مشترکہ ڈگری پروگرامز اور قلیل مدتی تربیتی کورسز شروع کرنے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔
اس سے قبل ہائی کمشنر عمران حیدر نے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اے بی ایم عبیدالاسلام سے ملاقات کی، جس میں ڈھاکہ یونیورسٹی اور پاکستان کی مختلف جامعات کے درمیان تعلیمی روابط بڑھانے اور مشترکہ تحقیقی سرگرمیوں کو فروغ دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش میں طارق رحمان کی وزراتِ عظمیٰ: پاک بنگلہ دیش تعلقات میں تاریخی پیشرفت کے مواقع
وائس چانسلر نے پاکستانی ہائی کمیشن کی جانب سے شعبہ اردو کی ترقی کے لیے فراہم کیے گئے تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ 1921 میں قائم ہونے والا شعبہ اردو یونیورسٹی کے قدیم اور ممتاز شعبوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں اس وقت بی ایس (آنرز)، ماسٹرز، ایم فل اور پی ایچ ڈی کی سطح پر تعلیم دی جا رہی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان کا تعاون مستقبل میں بھی جاری رہے گا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور تعلیمی تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔
تقریب میں فیکلٹی آف آرٹس کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر محمد ابوالکلام سرکار، شعبہ اردو کے چیئرمین ایسوسی ایٹ پروفیسر محمد غلام مولا، پروفیسر ڈاکٹر محمد غلام ربانی، پاکستانی ہائی کمیشن کے ڈپٹی ہائی کمشنر محمد واصف سمیت اساتذہ، طلبہ اور دونوں ممالک کے حکام نے بھی شرکت کی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاک بنگلہ دیش پاکستان پروفیسر ڈاکٹر محمد ابوالکلام سرکار ڈھاکہ یونیورسٹی کمپیوٹر لیب