سوئٹزرلینڈ: بار آتشزدگی میں 47 افراد جاں بحق، وجوہات سامنے آگئیں
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سوئٹزرلینڈ کے ایک معروف اسکی ریزورٹ ٹاؤن میں نیو ایئر نائٹ کے موقع پر ایک بار میں خوفناک آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا، جس کے نتیجے میں کم از کم 47 افراد ہلاک جبکہ 115 سے زائد زخمی ہو گئے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق آگ سالِ نو کی تقریب کے دوران لگی جس نے دیکھتے ہی دیکھتے پورے بار کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
سوئس حکام کے مطابق زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ متعدد افراد کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ حادثے میں غیر ملکی شہری بھی متاثر ہوئے ہیں، فرانسیسی وزارتِ خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ واقعے کے بعد فرانس کے 8 شہری تاحال لاپتہ ہیں۔
میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ آگ ویٹر کی مبینہ غلطی کے باعث لگی، جبکہ بار میں لکڑی کا فرش ہونے کی وجہ سے آگ تیزی سے پھیل گئی جس کے باعث جانی نقصان میں اضافہ ہوا۔ واقعے کے بعد ریسکیو اداروں نے طویل آپریشن کے ذریعے متاثرہ افراد کو باہر نکالا۔
سوئس صدر نے سانحے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے دارالحکومت برن میں پانچ روزہ قومی سوگ اور پرچم سرنگوں رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ دوسری جانب وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے بھی افسوسناک واقعے پر سوئس حکومت اور عوام سے اظہارِ ہمدردی کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس مشکل گھڑی میں سوئٹزرلینڈ کے ساتھ کھڑا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔