طالبان حکومت پر امدادی رقوم میں لوٹ مار کے سنگین الزامات
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
طالبان حکومت پر امدادی رقوم میں لوٹ مار کے سنگین الزامات WhatsAppFacebookTwitter 0 2 January, 2026 سب نیوز
افغانستان میں طالبان حکومت پر بین الاقوامی امدادی رقوم اور سامان میں بدعنوانی کے الزامات ایک بار پھر سامنے آ گئے ہیں۔ افغان میڈیا رپورٹس کے مطابق طالبان حکام نے ضرورت مند عوام کے لیے آنے والی امداد کا بڑا حصہ خود ہڑپ کر لیا، جبکہ عام شہری بھوک اور افلاس کا شکار ہیں۔
افغان جریدے ہشت صبح کی رپورٹ کے مطابق صوبہ کندز میں طالبان حکام نے مستحقین کے لیے مختص امدادی سامان کا تقریباً نصف حصہ اپنے قبضے میں لے لیا۔ یہ امدادی پیکجز سعودی کنگ سلمان ہیومینی ٹیرین ایڈ اینڈ ریلیف سینٹر کی جانب سے فراہم کیے گئے تھے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امدادی سامان کا بڑا حصہ طالبان حکام نے خود رکھ لیا، جبکہ ضرورت مند افراد کو مکمل امداد فراہم نہیں کی گئی۔ میڈیا کے مطابق طالبان حکومت نے عوام کی بنیادی ضروریات اور غذائی قلت کو نظر انداز کیا ہے۔
طالبان کی جانب سے امدادی سامان میں مبینہ لوٹ مار پر عالمی اور مقامی سطح پر پہلے بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا جا چکا ہے۔ امریکی اسپیشل انسپکٹر جنرل فار افغانستان ری کنسٹرکشن (SIGAR) کی متعدد رپورٹس میں امداد کی تقسیم میں کرپشن اور مداخلت کی نشاندہی کی گئی ہے۔
سگار رپورٹ کے مطابق امدادی سرگرمیوں میں مداخلت کے 150 واقعات میں سے 95 فیصد طالبان حکومت سے منسلک تھے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان طاقت اور دباؤ کے ذریعے امداد کو من پسند افراد میں تقسیم کرتے ہیں، جبکہ اصل مستحقین تک امداد نہیں پہنچ پاتی۔
سگار کے مطابق 2025 تک افغان عوام کے لیے دی جانے والی بین الاقوامی امداد کا حجم 10.
طالبان حکومت پر کرپشن، بدانتظامی اور شدت پسند گروہوں کی پشت پناہی کے الزامات کے بعد امریکا نے افغانستان کے لیے تمام امداد مکمل طور پر معطل کر دی ہے، جبکہ افغان عوام کی انسانی صورتحال بدستور سنگین ہوتی جا رہی ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرملک کے 5 بڑوں کے درمیان پراعتماد رابطے ہوں تو بہتر سمت میں بڑھ سکتے ہیں، راناثنااللہ ملک کے 5 بڑوں کے درمیان پراعتماد رابطے ہوں تو بہتر سمت میں بڑھ سکتے ہیں، راناثنااللہ بلوم برگ نے پاکستان میں مہنگائی میں نمایاں کمی اور پالیسی استحکام کی تصدیق کردی اسلام آباد ہائیکورٹ، عمران خان کا ایکس اکاؤنٹ بند کرنے کی درخواست سماعت کیلئے مقرر الیکشن کمیشن نے اراکین اسمبلی کیلئے گوشوارے جمع کرانے کی تاریخ میں توسیع کر دی اسلام آباد میں ترقیاتی انقلاب: الیکٹرک بسیں فعال، شہر جدیدیت کی جانب بارہ روزہ جنگ میں پاکستان کی مضبوط حمایت کبھی نہیں بھولیں گے،ایرانی سفیرCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: طالبان حکومت پر
پڑھیں:
پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔ لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔(جاری ہے)
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔
حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔