ڈسپلن کی خلاف ورزی پر پی ایچ ایف کا منیجر انجم سعیدکو آسٹریلیا نہ بھیجنےکا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
پاکستان ہاکی فیڈریشن (پی ایچ ایف) کے منیجر انجم سعیدکو ٹیم کے ہمراہ آسٹریلیا نہ بھیجنےکا فیصلہ کیا گیا ہے، ہیڈ کوچ طاہر زمان ہی کیمپ کمانڈنٹ ہوں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈسپلن کی خلاف ورزی پر پی ایچ ایف نے منیجر انجم سعید کو آسٹریلیا نہ بھیجنےکا فیصلہ کیا ہے۔
دورہ آسٹریلیا میں پاکستان ہاکی ٹیم کے منیجرکی ذمہ داریاں بھی طاہر زمان سنبھالیں گے، کیمپ کمانڈنٹ بھی طاہر زمان ہوں گ، انجم سعید سیٹ اپ کا حصہ رہیں گے لیکن آسٹریلیا کے دورے پر نہیں جائیں گے۔
ذرائع کے مطابق پروہاکی لیگ کے پہلے مرحلے کے بعد ارجنٹائن سے واپسی کے دوران انجم سعید نے جہاز میں سگریٹ نوشی کی تھی، وہ ٹیم کے ہمراہ وطن واپس نہیں آئے تھے انہیں مبینہ طور پر برازیل میں روک لیا گیا تھا۔
انجم سعید نے جہاز میں سگریٹ نوشی کے الزام کی تردید کی تھی۔
پروہاکی ہاکی کا دوسرا مرحلہ 10 سے 15 فروری تک ہوبارٹ آسٹریلیا میں ہوگا، دوسرے مرحلے میزبان آسٹریلیا پاکستان اور جرمنی آمنے سامنے ہوں گے۔
پرو ہاکی لیگ کی تیاری کے لیے پاکستان ہاکی ٹیم کے ممکنہ کھلاڑیوں کا تربیتی کیمپ 5 جنوری سے شروع ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ٹیم کے
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔