ایران میں مظاہرین پر تشدد ہوا تو امریکا کارروائی کرے گا، ٹرمپ کی دھمکی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر بیان دیتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکا مکمل طور پر تیار ہے اور فوری کارروائی کرسکتا ہے۔ انکا کہنا تھا کہ اگر ایرانی حکام نے مظاہرین کیخلاف طاقت کا استعمال کیا تو امریکا خاموش نہیں رہے گا۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران میں پرامن مظاہرین پر تشدد کیا گیا اور انہیں قتل کیا گیا تو امریکا مداخلت کے لیے تیار ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ امریکا مکمل طور پر تیار ہے اور فوری کارروائی کرسکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایرانی حکام نے مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال کیا تو امریکا خاموش نہیں رہے گا۔ یہ بیان ایران میں حالیہ شدید احتجاج کے بعد سامنے آیا ہے، جہاں گذشتہ تین برسوں کے دوران سب سے بڑے مظاہرے دیکھنے میں آئے۔ رپورٹس کے مطابق مختلف صوبوں میں مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے نتیجے میں کئی افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔
یہ احتجاج اتوار کے روز اس وقت شروع ہوا، جب دکانداروں نے ملکی کرنسی کی قدر میں شدید کمی اور مہنگائی میں تیزی کے خلاف احتجاج کیا۔ بعد ازاں یہ مظاہرے ملک کے دیگر حصوں میں بھی پھیل گئے۔ ماہرین کے مطابق ایران کی معیشت کئی برسوں سے دباؤ کا شکار ہے، خاص طور پر 2018ء میں امریکا کی جانب سے پابندیاں دوبارہ عائد کیے جانے کے بعد صورتحال مزید خراب ہوگئی تھی۔ یہ پابندیاں صدر ٹرمپ کے پہلے دور میں ایران کے جوہری معاہدے سے علیحدگی کے بعد لگائی گئی تھیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: تو امریکا
پڑھیں:
بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ خلیجی خطے میں بحری جہازوں، کارگو اور متعلقہ سامان کو پہنچنے والے نقصانات کی تلافی کے لیے امریکا اپنی تحویل میں موجود منجمد ایرانی اثاثوں سے ادائیگی کرے گا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ آئندہ کسی بھی بحری جہاز، کارگو یا اس سے متعلق املاک کو نقصان پہنچنے کی صورت میں اس کا مالی ازالہ ایرانی فنڈز سے کیا جائے گا، جو امریکا کے کنٹرول میں ہیں۔
ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ ’آج سے اور آئندہ اطلاع تک، بحری جہازوں، کارگو یا ان سے متعلق کسی بھی نقصان کی ادائیگی امریکا کی تحویل میں موجود ایرانی رقم سے کی جائے گی۔‘
امریکی صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خلیج، آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی جہاز رانی اور توانائی کی ترسیل شدید دباؤ کا شکار ہے۔ حالیہ ہفتوں میں متعدد تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکروں پر حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آ چکی ہیں۔
اگرچہ ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا کہ کن ایرانی اثاثوں یا کتنی رقم کو اس مقصد کے لیے استعمال کیا جائے گا، تاہم امریکا ماضی سے مختلف پابندیوں کے تحت اربوں ڈالر مالیت کے ایرانی اثاثے منجمد کیے ہوئے ہے۔
pic.twitter.com/Lbev6wPsNZ
— Rapid Response 47 (@RapidResponse47) July 23, 2026ماہرین کے مطابق اگر امریکا اس اعلان پر عملی اقدامات کرتا ہے تو اس سے ایران اور امریکا کے درمیان قانونی اور سفارتی تنازعات مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر بین الاقوامی قوانین، مالیاتی ضوابط اور خودمختار ریاستوں کے اثاثوں سے متعلق نئے سوالات بھی جنم لے سکتے ہیں۔