2025، بھارت کیلئے ناکامیوں، ہزیمت کا سال رہا، فنانشنل ٹائمز جائزہ رپورٹ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
اسلام آباد (نیوز ڈیسک) بھارت کیلئے 2025ء ناکامیوں اور ہزیمت کا سال رہا، فائنانشل ٹائمز کی سالانہ جائزہ رپورٹ کے مطابق سال 2025 بھارت کیلئے استحکام یا مضبوط پیش رفت کا نہیں، بحرانوں کا سال ثابت ہوافنانشل ٹائمز کی رپورٹ میں واضح کیا کہ پاک بھارت فوجی کشیدگی، امریکا کے ساتھ تجارتی محاذ آرائی، مہلک طیارہ حادثہ، کرنسی کی کمزوری اور معاشی بے چینی نے بھارت کو مسائل کی زد میں رکھا،ناکام اسٹریٹجک خود مختاری کے باعث بھارت کو امریکا، چین اور روس کے ساتھ تعلقات برقرار کھنے پر مجبور ہونا پڑا، فنانشل ٹائمز کے مطابق امریکا بھارت تجارتی معاہدہ متعدد بار ملتوی ہوا اور امریکی ٹیرف کے نفاذ کی وجہ سے بھارت کو اقتصادی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا، فنانشل ٹائمز نے لکھا کہ جی ایس ٹی کی اصلاحات محدود شعبوں تک رہنے کے باعث معاشی ترقی رکاوٹ کا شکار رہی، 2025ء میں بھارتی روپیہ ڈالر کے مقابلے میں گروٹ کا شکار رہا ،پاک بھارت تصادم کا دیرپا نتیجہ بھارتی عسکری برتری کے بجائے واشنگٹن کی پالیسی میں واضح تبدیلی کی صورت میں سامنے آیا
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :