اسلام آباد ایئرپورٹ آؤٹ سورس کرنے سے متعلق اہم اجلاس
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
ڈپٹی وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کابینہ کمیٹی کے ایک اجلاس کی صدارت کی۔
یہ بھی پڑھیں: اسحاق ڈار اور شہزادہ فہد بن سلطان کا رابطہ، پاک سعودی تعلقات مضبوط بنانے پر اتفاق
اجلاس میں وزارت دفاع کی جانب سے اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو آؤٹ سورس کرنے سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
اس موقعے پر ڈپٹی وزیراعظم نے پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری (فارن ڈائریکٹ انویسٹمنٹ) کو فروغ دینے سے متعلق حکومت کی پالیسی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس اقدام کا مقصد ملک میں معاشی اور تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دینا ہے۔
مزید پڑھیے: لندن کے لیے پی آئی اے کی براہ راست پروازوں کی بحالی، آغاز کب سے ہوگا؟
اجلاس میں وفاقی وزیر برائے پیٹرولیم، وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری، خصوصی معاونِ وزیراعظم طارق بجوہ، سیکریٹری کابینہ، سیکریٹری دفاع، سیکریٹری نجکاری اور مختلف وزارتوں کے دیگر اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسلام آباد ایئرپورٹ اسلام آباد ایئرپورٹ کی آؤٹ سورسنگ ڈپٹی وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسلام ا باد ایئرپورٹ اسلام ا باد ایئرپورٹ کی ا ؤٹ سورسنگ ڈپٹی وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار
پڑھیں:
کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
مسافر کے مطابق اس نے ویزا اور سفری دستاویزات کے حصول کیلئے ایجنٹ کو 3 لاکھ 80 ہزار روپے ادا کیے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ ایف آئی اے امیگریشن نے دبئی جانے والے مسافر سید ظل اللہ احسان الزمان کو جعلی یو اے ای ریزیڈنس، ورک ویزا پر سفر کی کوشش کے دوران آف لوڈ کر دیا۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق دورانِ بورڈنگ عملے کو ٹکٹ کی تفصیلات ایئرلائن سسٹم میں نہ ملنے پر مسافر کو مزید جانچ کیلئے روکا گیا، تفصیلی جانچ کے دوران پیش کردہ یو اے ای ورک ویزا جعلی اور بوگس پایا گیا۔ ابتدائی تحقیقات میں مسافر نے انکشاف کیا کہ اس نے سوشل میڈیا کے ذریعے رابطہ کرنے والے ایجنٹ ملک شہباز اعوان سے بیرون ملک ملازمت کے انتظامات کروائے تھے، مذکورہ ایجنٹ مبینہ طور پر ’’مَلک اوورسیز‘‘ کے نام سے جوہرآباد، خوشاب میں کام کر رہا ہے۔
مسافر کے مطابق اس نے ویزا اور سفری دستاویزات کے حصول کیلئے ایجنٹ کو 3 لاکھ 80 ہزار روپے ادا کیے تھے۔ ادائیگیاں مختلف جاز کیش اور بینک اکاؤنٹس میں منتقل کی گئیں۔ مسافر نے مؤقف اختیار کیا کہ اسے ویزا کے جعلی ہونے کا علم نہیں تھا اور وہ خود بھی ویزا فراڈ کا شکار ہوا ہے۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق مسافر کو تمام متعلقہ دستاویزات سمیت مزید قانونی کارروائی اور تحقیقات کیلئے ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کراچی منتقل کر دیا گیا ہے۔