وفاقی وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ کا ٹیلی کام سیکٹر میں انقلابی اقدامات کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام شزا فاطمہ خواجہ نے کہا ہے کہ ٹیلی کام سیکٹر کے حوالے سے پاکستان میں عوام کے لیے خوشخبریاں ہیں اور حکومت انٹرنیٹ سے متعلق مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔
وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہ 5 جی اسپیکٹرم کی نیلامی اگلے ماہ کی جائے گی اور پاکستان میں 5 جی اسمارٹ فونز کو آسان اقساط پر فراہم کیا جائے گا، حکومت نے انٹرنیٹ کی بندش کو کم سے کم رکھنے کے لیے بھرپور کوششیں کی ہیں اور وزارت داخلہ کا مکمل تعاون حاصل رہا، اس وقت پورے ملک میں 274 میگا ہرٹز اسپیکٹرم استعمال ہو رہا ہے۔
5 جی اسپیکٹرم کی نیلامی:
وفاقی وزیر نے اعلان کیا کہ وفاقی کابینہ نے 5 جی اسپیکٹرم کی نیلامی کی توثیق کر دی ہے اور یہ نیلامی اگلے ماہ کی جائے گی، ملک کی ترقی میں انٹرنیٹ کا کلیدی کردار ہے اور پاکستان فری لانسرز کی بدولت دنیا کی چوتھی بڑی ڈیجیٹل اکانومی بن چکا ہے۔
نئے بینڈز اور ایم وی این او پالیسی:
شزا فاطمہ خواجہ نے بتایا کہ نیلامی کے لیے 7 مختلف بینڈز دستیاب ہوں گے، جن میں سے 5 نئے بینڈز کی نیلامی کی جائے گی، ہر بینڈ کی اپنی خصوصیات اور کوالٹی ہو گی، کابینہ نے ایم وی این او (MVNO) پالیسی کی بھی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت ایم وی این او کمپنیاں دوسرے ٹیلی کام نیٹ ورکس کا استعمال کر کے سروس فراہم کریں گی۔ اس پالیسی کے آنے سے مارکیٹ میں مزید برانڈز آئیں گے، مقابلہ بڑھے گا اور غیر ملکی سرمایہ کاری بھی متوقع ہے۔
ٹیلی کام سیکٹر کی مزید ترقی:
شزا فاطمہ خواجہ نے بتایا کہ پی ٹی اے نے ضلعی سطح پر انٹرنیٹ لائسنسوں کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت گاؤں اور قصبوں کے کیبل آپریٹرز بھی لائسنس حاصل کر سکیں گے۔ فائبرائزیشن کے لیے وفاق اور صوبوں نے رائٹ آف وے چارجز ختم کر دیے ہیں۔
5 جی سروس اور دیگر اقدامات:
وفاقی وزیر نے کہا کہ 5 جی نیلامی کے 3 سے 4 ماہ بعد 4 جی سروس میں نمایاں فرق آئے گا اور پہلے 6 ماہ میں بڑے شہروں میں 5 جی سروس کا آغاز کیا جائے گا۔ پاکستان میں 3 سب میرین کیبلز بھی لینڈ کر چکی ہیں، جو ٹیلی کام انفراسٹرکچر کی مضبوطی کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔
ٹیکس اور انٹرنیٹ کی قیمتوں پر تبصرہ:
شزا فاطمہ خواجہ نے بتایا کہ پاکستان میں ٹیلی کام سیکٹر پر سب سے زیادہ ٹیکس ہے اور پاکستان میں فی صارف آمدن سب سے کم جبکہ انٹرنیٹ کی قیمت دنیا کے دیگر ممالک سے سستی ہے۔ روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے ٹیلی کام آپریٹرز کی لائسنس فیس اور اخراجات میں اضافہ ہوا ہے، پاکستان میں انٹرنیٹ کے استعمال میں 25 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
وفاقی وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت ٹیلی کام سیکٹر کی ترقی اور انٹرنیٹ کی سستی فراہم کرنے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھا رہی ہے، تاکہ عوام کو جدید ترین ٹیکنالوجی تک آسان رسائی مل سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: شزا فاطمہ خواجہ نے ٹیلی کام سیکٹر پاکستان میں وفاقی وزیر انٹرنیٹ کی کی نیلامی کے لیے
پڑھیں:
پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
پاکستان کے خلاف دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے لیے ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا۔
ویسٹ انڈیز کی قیادت روسٹن چیز کریں گے جبکہ جومیل واریکن کو نائب کپتان مقرر کیا گیا ہے۔
اسکواڈ میں جوشوا بیشپ، تیج نارائن چندرپال، جوشوا ڈی سلوا، جسٹن گریوز، کیوم بوج، شے ہوپ، عامر جینگو، شیمار جوزف، برینڈن کنگ، کرک میک کینزی، گڈاکیش موتی، کیمو پال، کیمار روچ، جیڈن سیلز اور جومیل واریکن شامل ہیں۔
واضح رہے کہ پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا آغاز 25 جولائی سے ہوگا۔
View this post on Instagramقومی ٹیم نے آخری مرتبہ 2023 میں سری لنکا کو اس کی سرزمین پر 2-0 سے ٹیسٹ سیریز میں شکست دی تھی، تاہم اس کے بعد پاکستان مسلسل سات بیرونِ ملک ٹیسٹ میچ ہار چکا ہے۔
اس سیریز میں پاکستان کی قیادت دوبارہ بابر اعظم کر رہے ہیں جنہیں شان مسعود کی جگہ ٹیسٹ ٹیم کا کپتان مقرر کیا گیا ہے۔