گزشتہ سال پاکستانی میڈیا کنٹرول اور سنسرشپ کی زد میں رہا، سی پی این ای کی پریس فریڈم رپورٹ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
کونسل آف پاکستان نیوز پیپرز ایڈیٹرز کی پریس فریڈم رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ سال پاکستانی میڈیا پر کنٹرول اور سنسر شپ کے باوجود صحافیوں کو گرفتاریوں، غداری کے مقدمات، جبری آف ایئر، بینک اکاونٹس کی بندش، ای سی ایل میں نام اور اشتہارات کی بندش جیسے مسائل کا سامنا رہا۔
سالانہ میڈیا فریڈم رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں چھپنے اور نشر ہونے والے مواد کی یکسانیت نے آزاد صحافت پر کئی سوال کھڑے کر دیے ہیں۔
اسی وجہ سے پاکستان 2025 کی رپورٹر ودآؤٹ بارڈز کی عالمی میڈیا ریٹنگ میں 6 درجات کی تنزلی کے ساتھ 158ویں نمبر پر آچکا ہے جو 2024 میں 152ویں نمبر پر تھا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پیکا ایکٹ کے جبر، اشتہارات پر کنٹرول اور سخت گیر پالیسیوں کی وجہ سے بہت سے اخبارات بند اور بڑے میڈیا گروپس کے نیوز رومز خالی ہو چکے اور اخبارات ملازمین کو فارغ کرنے پر مجبور ہیں۔
متعدد اینکر پرسنز کو ان کے پروگرامز سے آف ایئر کردیا گیا یا گھر جانے پر مجبور کر دیا گیا۔ میڈیا گروپس کو غیر جانبدارانہ ایڈیٹوریل پالیسی کی وجہ سے پرنٹ، الیکٹرانک میڈیا اور ریڈیو کے اشتہارات سے ہاتھ دھونا پڑا اور اخبارات کو حکومتی دباو کی وجہ سے اپنے اداروں میں ڈاون سائزنگ کرنا پڑی۔
میڈیا اداروں اور صحافی برادری کی سلامتی، خود مختاری اور پیشہ ورانہ آزادی بری طرح خطرے میں پڑ چکی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سال 2025 کے دوران چھ صحافیوں کو مقدمات، گرفتاری یا سرکاری کارروائی کا سامنا کرنا پڑا، تین صحافیوں کو ہراسانی اور دباو کا نشانہ بنایا گیا۔
2025 کے دوران دو پریس کانفرنسیں روکی گئیں، دو میڈیا دفاتر پر حملے ہوئے، دو تشدد کے سنگین واقعات رپورٹ ہوئے، جبکہ دو بڑی ڈیجیٹل پابندیاں اور ایک متنازع قانون سازی نے آزادیِ اظہار کو متاثر کیا۔
اس کے علاوہ متعدد صحافیوں کو پیکا کے تحت کارروائیوں کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ سی پی این ای کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں مسلسل دباؤ، سنسر شپ اور انٹرنیٹ کی طویل بندش نے اطلاعات کی آزاد ترسیل کو متاثر کیا ہے۔
وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر معلومات تک رسائی کے حق کو یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات پر زور دیا گیا ہے۔ سی پی این ای نے حکومت سے صحافیوں کے خلاف تشدد، ہراسانی اور غیر قانونی کارروائیوں کا فوری خاتمہ کرنے اور صحافیوں اور میڈیا اداروں کو محفوظ اور آزادانہ ماحول فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
سی پی این ای نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ آزادی صحافت کے تحفظ، صحافیوں کے حقوق کے دفاع اور جمہوری اقدار کے فروغ کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔ سی پی این ای نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ 2025 کےدوران5 صحافیوں کو قتل کیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
معروف میکسیکن انفلوئنسر گھر میں مردہ پائی گئیں، قتل کا شبہ
میکسیکو کی معروف سوشل میڈیا انفلوئنسر پاؤلا مارکیز اپنے گھر میں مردہ حالت میں پائی گئی ہیں، جس کے بعد پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق 30 سالہ پاؤلا مارکیز کی لاش 30 مئی کو ان کے گھر کے اندر سے اس وقت برآمد ہوئی جب ایک اہلِ خانہ نے انہیں بے ہوش حالت میں پایا۔ بعد ازاں طبی عملے نے موقع پر ہی ان کی موت کی تصدیق کر دی۔
ابتدائی تحقیقات میں پولیس مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہے جن میں خودکشی اور ممکنہ قتل دونوں امکانات شامل ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ حتمی نتیجے تک پہنچنے کے لیے تمام شواہد کا باریک بینی سے تجزیہ کیا جا رہا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق پاؤلا مارکیز سوشل میڈیا پر خاصی مقبول تھیں اور مختلف پلیٹ فارمز پر ان کے فالوورز کی تعداد 20 لاکھ سے زائد تھی۔ وہ زیادہ تر لائف اسٹائل، سفر اور پرتعیش زندگی سے متعلق مواد شیئر کرتی تھیں۔
ان کی ایک حالیہ ٹک ٹاک ویڈیو بھی سامنے آئی ہے جس میں انہوں نے اپنی زندگی سے متعلق مایوس کن انداز میں گفتگو کی تھی۔ ویڈیو میں ان کا کہنا تھا کہ ’’میں نے جو کچھ چاہا وہ مانگا، لیکن شاید الٹا مانگا، کیونکہ جو تھوڑا بہت میرے پاس تھا وہ بھی ہاتھ سے نکل رہا ہے۔‘‘
افسوسناک خبر کے بعد ان کے والد ہیرکولیس مارکیز بالڈیرس نے فیس بک پر جذباتی پیغام میں اپنی بیٹی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے لکھا کہ ان کی ’’پیارا بیٹی پاؤلا اب اس دنیا میں نہیں رہی‘‘ اور وہ دعا گو ہیں کہ اللہ انہیں بہترین مقام عطا کرے۔
والد کی پوسٹ پر صارفین کی جانب سے تعزیتی پیغامات کا سلسلہ بھی جاری رہا، جہاں مداحوں اور قریبی افراد نے اہلِ خانہ سے ہمدردی اور صبر کی دعا کی۔ بعد ازاں اہلِ خانہ نے تصدیق کی کہ پاؤلا مارکیز کی آخری رسومات یکم جون کو سان لوئیس پوٹوسی کے علاقے ہویچی ہوان میں ادا کی گئیں۔
پاؤلا مارکیز نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹوں میں دنیا بھر کے سفر، لگژری ٹرپس اور ایونٹس کی جھلکیاں شیئر کرکے بڑی شہرت حاصل کی تھی۔ ان کے انسٹاگرام بائیو میں درج ایک جملہ ’’انسٹاگرام اصل زندگی نہیں ہے‘‘ بھی ان کی سوچ کی عکاسی کرتا تھا۔