کراچی میں تیز رفتار سوزوکی کی ٹکر سے کمسن مہمان بچی جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
شہر قائد کے علاقے ماڑی پور مچھر کالونی صدام چوک کے قریب سوزوکی پک اپ کی ٹکر سے کمسن بچی جاں بحق ہوگئی۔
تفصیلات کے مطابق مچھر کالونی صدام چوک کے قریب تیز رفتار سوزوکی پک اپ کی ٹکر سے کمسن بچی جاں بحق ہوئی جس کی لاش ضابطے کی کارروائی کے لیے سول اسپتال لیجائی گئی۔
ایس ایچ او ڈاکس نند لعل نے بتایا کہ متوفیہ کی شناخت 7 سالہ زینب دختر فیصل کے نام سے کی گئی جبکہ حادثے کے بعد سوزوکی پک اپ کے ڈرائیور نے زخمی حالت میں بچی کو اسپتال لیجانے کے لیے رکشے میں سوار کرایا اور خود موقع سے گاڑی چھوڑ کر فرار ہوگیا۔
پولیس نے گاڑی کو قبضے میں لے لیا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ متوفیہ زینب کورنگی کی رہائشی ہے جو اپنے رشتے داروں کے گھر آئی ہوئی تھی اور گھر کے باہر سڑک پر دیگر بچوں کے ہمراہ کھیل رہی تھی کہ حادثے کا شکار ہوگئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک