پاکستان اسپورٹس بورڈ کی پاکستان فٹ بال فیڈریشن کے انتخابی کانگریس میں عدم شرکت پر وضاحت طلب
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پاکستان اسپورٹس بورڈ (پی ایس بی) نے پاکستان فٹ بال فیڈریشن (پی ایف ایف) کے حالیہ انتخابی کانگریس میں مختلف محکمانہ اسپورٹس اداروں کے نمائندوں کی عدم شرکت پر باضابطہ طور پر وضاحت طلب کر لی ہے۔ یہ کانگریس 28 دسمبر 2025 کو لاہور کے ایک مقامی ہوٹل میں منعقد ہوئی تھی۔
پاکستان اسپورٹس بورڈ کے مطابق، یہ کانگریس پی ایف ایف آئین 2025 کے تحت منعقد کی گئی تھی، اور اس میں فیفا، پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن اور پاکستان اسپورٹس بورڈ کے نمائندے موجود تھے۔ تاہم، فٹنس اینڈ اسپورٹس ڈائریکٹوریٹ جی ایچ کیو، پاکستان پولیس اسپورٹس بورڈ، ایئر ہیڈ کوارٹرز، نیول ہیڈ کوارٹرز، پاکستان واپڈا، پاکستان ریلوے اور ہائر ایجوکیشن کمیشن سمیت متعدد محکمانہ اداروں کے نمائندے کانگریس میں شریک نہیں ہو سکے۔
پی ایس بی کا مؤقف
پاکستان اسپورٹس بورڈ نے اپنے خط میں واضح کیا ہے کہ محکمانہ اور سروسز اسپورٹس تنظیمیں پی ایف ایف کانگریس کا اہم حصہ ہیں اور ان کی شرکت انتخابی عمل کی شفافیت، قانونی حیثیت اور اجتماعی فیصلوں کے لیے ضروری ہے۔ بورڈ نے اس معاملے کو قومی اہمیت کا حامل قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ وقت اہم ہے کیونکہ پاکستان حال ہی میں فیفا کی طویل معطلی کے بعد بین الاقوامی فٹ بال میں بحال ہوا ہے۔
وضاحت کی درخواست
پاکستان اسپورٹس بورڈ نے متعلقہ اداروں سے کہا ہے کہ وہ کانگریس میں عدم شرکت کی وجوہات سے متعلق تفصیلی وضاحت فراہم کریں۔ یہ وضاحت کسی بھی انتظامی یا عملی رکاوٹ کے بارے میں ہو سکتی ہے۔ پی ایس بی کا کہنا ہے کہ بروقت جواب موصول ہونے سے پاکستان فٹ بال فیڈریشن اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ اس معاملے کو مؤثر انداز میں نمٹایا جا سکے گا اور قومی مفاد کا تحفظ کیا جا سکے گا۔
پاکستان فٹ بال فیڈریشن کی جانب سے خط
واضح رہے کہ پاکستان فٹ بال فیڈریشن نے بھی اس حوالے سے متعلقہ اداروں کو خط ارسال کیا تھا، جس کی نقل پاکستان اسپورٹس بورڈ کو بھی موصول ہوئی ہے۔ اس خط میں پی ایف ایف نے ان اداروں سے کانگریس میں شرکت نہ کرنے کی وجوہات کا پتہ چلانے کی درخواست کی تھی۔
یہ پیش رفت پاکستان کے فٹ بال کے مستقبل کے حوالے سے اہم ہو سکتی ہے، اور اس کا اثر نہ صرف قومی سطح پر بلکہ بین الاقوامی فٹ بال کی دنیا میں بھی محسوس ہو سکتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پاکستان فٹ بال فیڈریشن پاکستان اسپورٹس بورڈ کانگریس میں پی ایف ایف
پڑھیں:
عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے
بشکیک: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے، جہاں رکن ممالک کے وزرائے خارجہ اہم علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔
اجلاس کی میزبان ریاست کرغزستان کے وزیر خارجہ نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا استقبال کیا۔ اس موقع پر مختلف رکن ممالک کے نمائندے بھی موجود تھے۔
شنگھائی تعاون تنظیم کے اس سالانہ اجلاس میں چین، روس، پاکستان، بھارت، ایران اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ شریک ہیں۔ اجلاس میں خطے کی سکیورٹی، اقتصادی تعاون، انسداد دہشت گردی، علاقائی روابط اور باہمی شراکت داری سمیت مختلف اہم موضوعات پر بات چیت کی جا رہی ہے۔
عباس عراقچی نے اجلاس کے موقع پر ایک گروپ تصویر بھی جاری کی، جس میں وہ چین کے وزیر خارجہ وانگ ای، روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے ہمراہ اپنے اپنے قومی پرچموں کے سامنے موجود ہیں۔
شنگھائی تعاون تنظیم ایک اہم کثیرالجہتی علاقائی تنظیم ہے، جس کا مقصد رکن ممالک کے درمیان باہمی اعتماد کو فروغ دینا، اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانا اور خطے کو درپیش مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعاون بڑھانا ہے۔
اگرچہ تنظیم سکیورٹی اور علاقائی استحکام کے معاملات پر بھی توجہ دیتی ہے، تاہم یہ کسی فوجی یا دفاعی اتحاد کی حیثیت نہیں رکھتی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے وقت میں جب خطے میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی برقرار ہے، شنگھائی تعاون تنظیم کا یہ اجلاس رکن ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔