جامعہ بنوریہ کے تعلیمی سال کا اختتام‘ تقاریب 4 جنوری کو ہونگی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) بین الاقوامی دینی درسگاہ جامعہ بنوریہ عالمیہ، سائٹ کراچی کا تعلیمی سال 2025–26ء اختتامی مراحل میں داخل ہوچکا ہے۔ اختتامی تقاریب کا آغاز 4 جنوری بروز اتوار بعد نمازِ عصر سے رات 10 بجے تک بنوریہ شعبہ دارالقرآن کے تحت مسابقہ الشیخ قاری عبدالحلیم سے ہوگا جس میں شہر بھر کے مدارسِ دینیہ کے طلبہ اور ملک بھر سے قرائِ کرام شرکت کریں گے۔ مسابقے میں کامیاب طلبہ اور ان کے اساتذہ کو7 لاکھ روپے نقدی اور دیگر قیمتی انعامات دیے جائیں گے۔ اس سلسلے میں جامعہ بنوریہ عالمیہ کے شعبہ بیرون کے تحت سالانہ کانووکیشن (البرنامج السنوی 2026ء) بروز ہفتہ 24 جنوری کو منعقد ہوگا جبکہ بروز اتوار 25 جنوری کو تقریبِ دستارِ فضیلت منعقد کی جائے گی۔ اس موقع پر جامعہ کے مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے تقریباً پانچ سو فضلا کرام کو دستارِ فضیلت عطا کی جائے گی۔ تقریبات میں ملک بھر سے جید علما کرام‘ حکومتی شخصیات‘ سیاسی و مذہبی قائدین‘ مختلف ممالک کے سفرا و قونصل جنرلز‘ وکلا‘ اسکالرز‘ صحافی‘ دانشور اور ملکی و بین الاقوامی جامعات کے چانسلرز کے علاوہ بیرونِ ممالک سے اعلیٰ شخصیات اور وفود کی شرکت متوقع ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کا اہم اجلاس منعقد ہوا ،جس میں انڈونیشیا میں پاکستان کے سفیر زاہد چوہدری نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس میں پی ایم ڈی سی کے صدر ڈاکٹر رضوان تاج اور رجسٹرار سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی شریک ہوئے۔اجلاس میں انڈونیشیا کے میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے طبی تعلیمی اداروں میں داخلے دینے سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ انڈونیشیا کی حکومت نے درخواست کی ہے کہ اس کے انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے معیاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں تعلیم کے مواقع فراہم کئے جائیں۔(جاری ہے)
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ان طلبہ کے تعلیمی اور رہائشی اخراجات انڈونیشیا کی حکومت برداشت کرے گی جبکہ انہیں پاکستان کے بہترین طبی تعلیمی اداروں میں مکمل شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر داخلے دیئے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے تحت تقریباً 200 انڈونیشین میڈیکل اور ڈینٹل طلبہ کو عالمی معیار کی تعلیمی اور تربیتی سہولیات فراہم کی جائیں گی جس سے دونوں ممالک کے درمیان طبی تعلیم کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ انڈونیشیا کی حکومت نے اپنے طلبہ کی طبی تعلیم کے لئے پاکستان کے اداروں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ترجیح دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پیشرفت سے نہ صرف پاکستان اور انڈونیشیا کے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے طبی تعلیمی نظام اور وقار کو بھی تقویت ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستانی ڈاکٹرز دنیا بھر میں اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور خدمات کے ذریعے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں اور یہ اقدام پاکستان کے طبی شعبے پر بین الاقوامی اعتماد کا مظہر ہے۔