انتونیو گوتریس کا اسرائیل سے این جی اوز پر پابندی کا فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اسرائیل سے این جی اوز پر پابندی کا فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کر دیا۔
انتونیو گوتریس نے اسرائیل کے فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
واضح رہے کہ اسرائیل نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں متعدد بین الاقوامی این جی اوز کی سرگرمیاں معطل کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
دوسری جانب پاکستان، مصر، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب، ترکیہ اور یو اے ای نے غزہ پٹی میں بگڑتی انسانی صورتِ حال پر اظہار تشویش کیا ہے۔
مسلم ملکوں نے غزہ پٹی میں بگڑتی انسانی صورتِ حال پر اظہارِ تشویش کرتے ہوئے عالمی برادری سے اسرائیل پر غزہ میں پابندیاں ختم کرنے کے لیے دباؤ ڈالنے کی اپیل کر دی۔
مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں غزہ میں بنیادی ڈھانچے اور اسپتالوں کی بحالی اور رفح کراسنگ کھولنے پر زور دیا ہے۔
8 مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ بارشوں اور طوفان نے غزہ کی انسانی صورتِ حال سنگین بنا دی ہے، موسم کی شدت نے غزہ پٹی کی نازک حالت بےنقاب کردی ہے۔ سرد موسم میں زیر آب آئے خیموں اور غذائی قلت نے انسانی زندگی کو خطرات بڑھا دیے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین میں قیدیوں کے لیے کام کرنیوالی تنظیم نے میڈیا کو بتایا ہے کہ ملک کے سکیورٹی اداروں نے ماہِ محرم کی آمد کے موقع پر مجالس عزا پڑھنے والے خطباء اور مقررین کو وسیع پیمانے پر طلب کر کے نئی پابندیاں عائد کرتے ہوئے شیعہ مذہبی مراسم پر دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بحرینی سکیورٹی اداروں نے محرم الحرام سے قبل متعدد خطباء اور ذاکرین کو طلب کیا ہے اور عزاداری کی مجالس اور مذہبی شعائر کے انعقاد کے لیے کئی نئی پابندیاں نافذ کی ہیں۔ ان پابندیوں میں مجالسِ عزاء کے لیے چالیس منٹ کی وقت کی حد مقرر کرنا، بعض حسینی نعروں خصوصاً ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کے بلند کرنے یا دہرانے پر پابندی لگانا، نیز خطباء کو ظلم و استبداد کے خلاف جدوجہد سے وابستہ تاریخی اور سیاسی شخصیات کا تذکرہ کرنے سے روکنا شامل ہے۔
ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے ان فیصلوں پر تنقید کرتے ہوئے انہیں بحرین کی شیعہ اکثریتی آبادی کے خلاف اختیار کی جانے والی محدودیت پسند پالیسیوں کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ یہ اقدامات مذہبی مناسبتوں پر نگرانی اور کنٹرول بڑھانے کے مقصد سے کیے جا رہے ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ بیان کے مطابق ایسی پالیسیوں کا تسلسل مذہبی شعائر کی آزادانہ ادائیگی اور بحرینی معاشرے کی دینی و ثقافتی شناخت کے تحفظ پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔