Nawaiwaqt:
2026-07-24@06:26:41 GMT

خریداری میں تیزی کے باعث روئی کے بھاؤ میں اضافے کا امکان

اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT

خریداری میں تیزی کے باعث روئی کے بھاؤ میں اضافے کا امکان

مقامی ٹیکسٹائل ملوں کی جانب سے روئی خریداری میں تیزی کے باعث رواں ہفتے پاکستان میں روئی کی قیمتوں میں تیزی کے امکانات پیدا ہوگئے ہیں۔ کپاس کی مجموعی قومی پیداوار مقررہ ہدف کی نسبت 45 فیصد تک کمی کی توقعات کے باوجود  ایک سے ڈیڑھ لاکھ گانٹھ زائد ہونے کے امکانات ہیں۔ کراچی کاٹن ایسوسی ایشن کی جانب سے گذشتہ تین ہفتوں سے روئی کی اسپاٹ قیمتوں کے عدم اجراء سے دنیا بھر کی کپاس منڈیوں میں پاکستان کی ”جگ ہنسائی“ ہورہی ہے۔چیئرمین کاٹن جنرز فورم احسان الحق نے ایکسپریس کو بتایا کہ پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری ہونے والے تازہ ترین اعداد وشمار کے مطابق 16 سے 31 دسمبر 2025 کے دوران مقامی ٹیکسٹائل ملوں نے جننگ فیکٹریوں سے مجموعی طور پر 2 لاکھ 18 ہزار گانٹھوں کے لگ بھگ روئی کی خریداری کی ہے جو توقعات سے زیادہ ہے اور اگر ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال نہ ہوتی تو اس میں کم از کم 50 ہزار گانٹھوں کا مزید اضافہ ممکن تھا۔احسان الحق نے کہا کہ توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ دسمبر میں بینک کلوزنگ جیسے معاملات، ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال اور چین میں سوتی دھاگے اور کپڑے کی قیمتوں میں تیزی جیسے عوامل رواں ہفتے ٹیکسٹائل ملوں کی روئی خریداری متوقع طور پر بڑھنے سے روئی کی قیمتوں میں تیزی کا رحجان سامنے آسکتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ پی سی جی اے کی جانب سے جاری ہونے والی رپورٹ کی ایک اور خاص بات یہ ہے کہ 16سے 31 اکتوبر 2025 کے دوران جننگ فیکٹریوں میں کپاس کی آمد میں 56 فیصد اضافہ ہے۔ 31 دسمبر تک ملک بھر کی جننگ فیکٹریوں میں 54 لاکھ 34 ہزار روئی کی گانٹھوں کی مساوی پھٹی پہنچی ہے جو گذشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں معمولی کم ہے۔رپورٹ کے مطابق پنجاب کی جننگ فیکٹریوں میں زیرتبصرہ مدت کے دوران 25 لاکھ 41 ہزار گانٹھ جبکہ سندھ کی جننگ فیکٹریوں میں 28 لاکھ 93 ہزار گانٹھوں کی مساوی پھٹی پہنچی ہے جو گزشتہ سال کے اسی مدت کی نسبت بالترتیب 4.

44 فیصد کم اور 3.58 فیصد زائد ہے۔کراپ رپورٹنگ سنٹرز نے پنجاب میں 28 لاکھ 14 ہزار جبکہ سندھ میں 12 لاکھ 35 ہزار ایکڑ رقبے پر کپاس کی کاشت کا دعویٰ کیا تھا لیکن اس کے باوجود 31 اکتوبر تک سندھ میں کپاس کی پیداوار 3 لاکھ 52 ہزار زائد ہے۔انہوں نے بتایا کہ مذکورہ عرصے تک ٹیکسٹائل ملوں نے جننگ فیکٹریوں سے 47 لاکھ 08 ہزار گانٹھ جبکہ برآمد کنندگان نے ایک لاکھ 76ہزار گانٹھوں کی خریداری کی ہیں اور جننگ فیکٹریوں میں روئی کی 5 لاکھ 50 ہزار گانٹھوں کے قابل فروخت ذخائر موجود ہیں۔احسان الحق نے بتایا کہ 12 دسمبر کو کے سی اے کی عمارت کو سیل کیے جانے سے گزشتہ 3 ہفتوں سے روئی کے اسپاٹ ریٹس جاری نہ ہونے کے باعث جہاں پاکستان میں بینکوں ودیگر مالیاتی اداروں کی جانب سے ٹیکسٹائل ملز اور جننگ فیکٹریوں کو دیے جانے والے قرضوں میں مسائل درپیش ہیں وہیں دنیا بھر کی کاٹن مارکیٹس میں روزانہ جاری ہونے والے روئی کے نرخوں کے حوالے سے پاکستانی کپاس کی نمائندگی نہ ہونے سے ان مارکیٹس میں پاکستان کی جگ ہنسائی ہو رہی ہے۔کئی پاکستانی کاٹن پراڈکٹس ایکسپورٹر تنظیموں نے بھی وزیر اعظم شہباز شریف سے اپیل کی ہے کے سی اے کی عمارت کا مسئلہ جلد سے جلد حل کرایا جائے۔ سال 1973 کے بعد 52 سال میں پہلی مرتبہ پاکستان سے کپاس کے اسپاٹ ریٹس جاری نہ ہونے سے پوری کاٹن انڈسٹری میں تشویش دیکھی جا رہی ہے جسے جلد سے جلد حل کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے بتایا کہ یہ اطلاعات بھی زیرگردش ہیں کہ وفاقی حکومت کی جانب سے ملک بھر میں نئی شوگر ملز لگانے کی اجازت دی جارہی ہے لیکن ان اقدامات کے بعد خدشہ ہے کہ پاکستان میں کپاس کی کاشت میں مزید 50 فیصد گھٹ جائے گی جس سے پاکستان میں روئی اور خوردنی تیل کی درآمد پر سالانہ اربوں ڈالر کا اضافی زرمبادلہ خرچ کرنا پڑے گا اس لئے حکومت پاکستان کو چاہیئے کہ وہ کاٹن زونز میں نئی شوگر ملز لگانے یا پہلے سے قائم شوگر ملز کی پیداواری صلاحیت بڑھانے پر پابندی قائم رکھے تاکہ پاکستان میں حقیقی طور پر کپاس کی بحالی ہوسکے۔

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: جننگ فیکٹریوں میں ہزار گانٹھوں پاکستان میں نے بتایا کہ کی جانب سے میں تیزی روئی کی کپاس کی

پڑھیں:

لاہور میں آج موسم ابرآلود، بارش کا کتنا امکان؟

لاہور میں آج زیادہ تر موسم ابر آلود رہنے اور ہلکی بارش کا امکان ہے جبکہ سورج اور بادلوں کے درمیان آنکھ مچولی کا سلسلہ بھی جاری رہے گا۔

مون سون سسٹم کے تحت آج صبح لاہور میں سب سے زیادہ بارش فرخ آباد میں 40 اور گلشن راوی میں 34 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی جبکہ سگیاں پل پر 34 اور سمن آباد میں 14 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔

اسی طرح شہر کے مختلف علاقوں میں کہیں ہلکی اور کہیں تیز بارش ہوئی۔ گزشتہ دو سے تین روز کے دوران بارش کے باعث درجہ حرارت میں کمی آگئی اور موسم خوش گوار ہوگیا۔

محکمہ موسمیات کے مطابق لاہور میں کم سے کم درجہ حرارت 27 جبکہ زیادہ سے زیادہ 31 ڈگری تک جانے کا امکان ہے، مون سون کی بارشوں کا یہ سلسلہ 26 جولائی تک جاری رہے گا۔

متعلقہ مضامین

  • لاہور میں آج موسم ابرآلود، بارش کا کتنا امکان؟
  • چیری نے پاکستان میں اپنی گاڑیوں کے تمام ماڈلز کی قیمتیں بڑھا دیں
  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی،فی تولہ نئی قیمت جانئے
  • قادر آباد بیراج پر اونچے درجے کا سیلاب، چناب میں پانی کا بہاؤ بڑھ گیا
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے ہوگیا
  • ہیڈ مرالہ میں پانی کی سطح میں ایک بارپھر اضافہ
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم