Nawaiwaqt:
2026-06-02@22:25:24 GMT

خریداری میں تیزی کے باعث روئی کے بھاؤ میں اضافے کا امکان

اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT

خریداری میں تیزی کے باعث روئی کے بھاؤ میں اضافے کا امکان

مقامی ٹیکسٹائل ملوں کی جانب سے روئی خریداری میں تیزی کے باعث رواں ہفتے پاکستان میں روئی کی قیمتوں میں تیزی کے امکانات پیدا ہوگئے ہیں۔ کپاس کی مجموعی قومی پیداوار مقررہ ہدف کی نسبت 45 فیصد تک کمی کی توقعات کے باوجود  ایک سے ڈیڑھ لاکھ گانٹھ زائد ہونے کے امکانات ہیں۔ کراچی کاٹن ایسوسی ایشن کی جانب سے گذشتہ تین ہفتوں سے روئی کی اسپاٹ قیمتوں کے عدم اجراء سے دنیا بھر کی کپاس منڈیوں میں پاکستان کی ”جگ ہنسائی“ ہورہی ہے۔چیئرمین کاٹن جنرز فورم احسان الحق نے ایکسپریس کو بتایا کہ پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری ہونے والے تازہ ترین اعداد وشمار کے مطابق 16 سے 31 دسمبر 2025 کے دوران مقامی ٹیکسٹائل ملوں نے جننگ فیکٹریوں سے مجموعی طور پر 2 لاکھ 18 ہزار گانٹھوں کے لگ بھگ روئی کی خریداری کی ہے جو توقعات سے زیادہ ہے اور اگر ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال نہ ہوتی تو اس میں کم از کم 50 ہزار گانٹھوں کا مزید اضافہ ممکن تھا۔احسان الحق نے کہا کہ توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ دسمبر میں بینک کلوزنگ جیسے معاملات، ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال اور چین میں سوتی دھاگے اور کپڑے کی قیمتوں میں تیزی جیسے عوامل رواں ہفتے ٹیکسٹائل ملوں کی روئی خریداری متوقع طور پر بڑھنے سے روئی کی قیمتوں میں تیزی کا رحجان سامنے آسکتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ پی سی جی اے کی جانب سے جاری ہونے والی رپورٹ کی ایک اور خاص بات یہ ہے کہ 16سے 31 اکتوبر 2025 کے دوران جننگ فیکٹریوں میں کپاس کی آمد میں 56 فیصد اضافہ ہے۔ 31 دسمبر تک ملک بھر کی جننگ فیکٹریوں میں 54 لاکھ 34 ہزار روئی کی گانٹھوں کی مساوی پھٹی پہنچی ہے جو گذشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں معمولی کم ہے۔رپورٹ کے مطابق پنجاب کی جننگ فیکٹریوں میں زیرتبصرہ مدت کے دوران 25 لاکھ 41 ہزار گانٹھ جبکہ سندھ کی جننگ فیکٹریوں میں 28 لاکھ 93 ہزار گانٹھوں کی مساوی پھٹی پہنچی ہے جو گزشتہ سال کے اسی مدت کی نسبت بالترتیب 4.

44 فیصد کم اور 3.58 فیصد زائد ہے۔کراپ رپورٹنگ سنٹرز نے پنجاب میں 28 لاکھ 14 ہزار جبکہ سندھ میں 12 لاکھ 35 ہزار ایکڑ رقبے پر کپاس کی کاشت کا دعویٰ کیا تھا لیکن اس کے باوجود 31 اکتوبر تک سندھ میں کپاس کی پیداوار 3 لاکھ 52 ہزار زائد ہے۔انہوں نے بتایا کہ مذکورہ عرصے تک ٹیکسٹائل ملوں نے جننگ فیکٹریوں سے 47 لاکھ 08 ہزار گانٹھ جبکہ برآمد کنندگان نے ایک لاکھ 76ہزار گانٹھوں کی خریداری کی ہیں اور جننگ فیکٹریوں میں روئی کی 5 لاکھ 50 ہزار گانٹھوں کے قابل فروخت ذخائر موجود ہیں۔احسان الحق نے بتایا کہ 12 دسمبر کو کے سی اے کی عمارت کو سیل کیے جانے سے گزشتہ 3 ہفتوں سے روئی کے اسپاٹ ریٹس جاری نہ ہونے کے باعث جہاں پاکستان میں بینکوں ودیگر مالیاتی اداروں کی جانب سے ٹیکسٹائل ملز اور جننگ فیکٹریوں کو دیے جانے والے قرضوں میں مسائل درپیش ہیں وہیں دنیا بھر کی کاٹن مارکیٹس میں روزانہ جاری ہونے والے روئی کے نرخوں کے حوالے سے پاکستانی کپاس کی نمائندگی نہ ہونے سے ان مارکیٹس میں پاکستان کی جگ ہنسائی ہو رہی ہے۔کئی پاکستانی کاٹن پراڈکٹس ایکسپورٹر تنظیموں نے بھی وزیر اعظم شہباز شریف سے اپیل کی ہے کے سی اے کی عمارت کا مسئلہ جلد سے جلد حل کرایا جائے۔ سال 1973 کے بعد 52 سال میں پہلی مرتبہ پاکستان سے کپاس کے اسپاٹ ریٹس جاری نہ ہونے سے پوری کاٹن انڈسٹری میں تشویش دیکھی جا رہی ہے جسے جلد سے جلد حل کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے بتایا کہ یہ اطلاعات بھی زیرگردش ہیں کہ وفاقی حکومت کی جانب سے ملک بھر میں نئی شوگر ملز لگانے کی اجازت دی جارہی ہے لیکن ان اقدامات کے بعد خدشہ ہے کہ پاکستان میں کپاس کی کاشت میں مزید 50 فیصد گھٹ جائے گی جس سے پاکستان میں روئی اور خوردنی تیل کی درآمد پر سالانہ اربوں ڈالر کا اضافی زرمبادلہ خرچ کرنا پڑے گا اس لئے حکومت پاکستان کو چاہیئے کہ وہ کاٹن زونز میں نئی شوگر ملز لگانے یا پہلے سے قائم شوگر ملز کی پیداواری صلاحیت بڑھانے پر پابندی قائم رکھے تاکہ پاکستان میں حقیقی طور پر کپاس کی بحالی ہوسکے۔

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: جننگ فیکٹریوں میں ہزار گانٹھوں پاکستان میں نے بتایا کہ کی جانب سے میں تیزی روئی کی کپاس کی

پڑھیں:

سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب

سٹی 42: گلگت بلتستان انتخابات کے سلسلے میں اسکردو میں پاکستان پیپلز پارٹی کے جلسے سے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کا منصوبہ دنیا کا سب سے بڑا ہاؤسنگ پراجیکٹ ہے، جبکہ حقیقی ترقی امیروں کو مزید مراعات دینے کے بجائے غریبوں کو روزگار اور مواقع فراہم کرنے سے ممکن ہے۔

 بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو ان کے آئینی اور جمہوری حقوق دینا ملکی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کو 18ویں ترمیم جیسے اختیارات دینے کی حامی ہے اور اسلام آباد کو یہاں کے عوام کے حقِ ملکیت کو تسلیم کرنا ہوگا۔

پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل

 چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ تھر کول منصوبے میں 80 فیصد ملازمتیں مقامی افراد کو دی گئیں، جو ان کی جماعت کے عوام دوست وژن کا عملی ثبوت ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ گلگت بلتستان کے دوروں کے حوالے سے وہ دیگر تمام سیاسی رہنماؤں سے زیادہ مرتبہ یہاں آ چکے ہیں۔

 خطاب کے دوران بلاول بھٹو زرداری نے ملکی دفاعی صلاحیتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام شہید ذوالفقار علی بھٹو کی قیادت میں شروع ہوا جبکہ میزائل پروگرام کو شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے آگے بڑھایا۔ انہوں نے کہا کہ سابق صدر آصف علی زرداری نے پاکستان میں غیر ملکی فوجی اڈوں کی موجودگی کا خاتمہ کیا تھا۔

غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات

 سماجی بہبود کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ہر صورت محفوظ رکھا جائے گا اور آئندہ بجٹ میں اس پروگرام کے فنڈز میں اضافے کی کوشش کی جائے گی۔ ان کے مطابق پیپلز پارٹی غریب اور پسماندہ طبقات کی نمائندہ جماعت ہے اور عوامی فلاح کے منصوبوں کو جاری رکھے گی۔

 علاقائی اور عالمی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ خطے میں جاری کشیدگی اور جنگوں کے اثرات پوری مسلم دنیا اور عالمی معیشت پر مرتب ہو رہے ہیں۔ انہوں نے امن کے قیام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ جنگوں کے خاتمے اور استحکام کے لیے جاری سفارتی کوششیں کامیاب ہوں گی۔

 نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ

 انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی ہمیشہ امن، جمہوریت اور عوامی حقوق کی سیاست پر یقین رکھتی ہے اور آئندہ بھی عوام کے مفادات کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔

 بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آپ نے فیصلہ کرنا ہے ، عوام دوست یا عوام دشمن حکومت بنانی ہے ،ہماری غریب دوست اور ان کی عوام دشمن سیاست ہے ، میں نے سیلاب متاثرہ عوام کے لیے گھر بنا کر دیکھائے ۔ انھوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو روزگار دیں ،دوسری جماعتوں کی کوشش ہوتی ہے کہ کیسے لوگوں کو بے روز گار کریں ۔

 آزاد کشمیر:تعلیمی اداروں میں گرمیوں کی چھٹیوں کا اعلان

 گلگت بلتستان میں انتخابی مہم کے سلسلے میں اسکردو میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کی دفاعی طاقت کی بدولت آج کوئی بھی ملک پاکستان کی جانب میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے قوم کو ایٹمی پروگرام کا تحفہ دیا، جبکہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے میزائل پروگرام کو آگے بڑھایا اور ملکی دفاع کو مزید مضبوط بنایا۔

لاہور بورڈ کا بڑا فیصلہ، داخلہ فارم مکمل طور پر آن لائن کرنے کی تجویز

 بلاول بھٹو زرداری نے سابق فوجی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مشرف دور میں غیر ملکی طاقتوں کو پاکستان کی سرزمین پر اڈے قائم کرنے کی اجازت دی گئی تھی، تاہم سلالہ واقعے کے بعد صدر آصف علی زرداری نے ایسے تمام اڈوں کو بند کروا کر غیر ملکی افواج کو واپس بھیج دیا۔ چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ ان کی جماعت پاکستان کو ہر شعبے میں مضبوط اور خودمختار دیکھنا چاہتی ہے۔ ان کے بقول پاکستان پیپلز پارٹی واحد سیاسی جماعت ہے جو ملک کو مزید مستحکم اور عوامی فلاح کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے۔

 انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ عوام کو معاشی ریلیف فراہم کرنے کے لیے اقدامات کیے ہیں اور اسی سوچ کے تحت بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) متعارف کرایا گیا، جس کے ذریعے غریب اور مستحق خاندانوں کو مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ بی آئی ایس پی اسلام آباد یا کسی ایک علاقے کا نہیں بلکہ پورے پاکستان کے عوام کا پروگرام ہے، تاہم بعض سیاسی عناصر اسے ختم کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔

 انہوں نے اعلان کیا کہ چاہے گلگت بلتستان کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کے امیدوار کامیاب ہوں یا نہ ہوں، وزیراعظم آئندہ بجٹ میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے فنڈز میں اضافے کا اعلان کریں گے تاکہ زیادہ سے زیادہ مستحق افراد کو ریلیف فراہم کیا جا سکے،انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پیپلز پارٹی آئندہ بھی عوامی فلاح، معاشی استحکام اور قومی خودمختاری کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔

متعلقہ مضامین

  • ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ
  • بجلی کی قیمت میں ایک روپے 72 پیسے اضافے کا امکان
  • پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے متجاوز
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
  • ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ؛ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • پاکستان میں اس سال قربانی کے جانوروں کی کتنی کھالیں جمع ہوئیں؟ اعدادو شمار آگئے
  • سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ