خریداری میں تیزی کے باعث روئی کے بھاؤ میں اضافے کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
کراچی:
مقامی ٹیکسٹائل ملوں کی جانب سے روئی خریداری میں تیزی کے باعث رواں ہفتے پاکستان میں روئی کی قیمتوں میں تیزی کے امکانات پیدا ہوگئے ہیں۔
کپاس کی مجموعی قومی پیداوار مقررہ ہدف کی نسبت 45 فیصد تک کمی کی توقعات کے باوجود ایک سے ڈیڑھ لاکھ گانٹھ زائد ہونے کے امکانات ہیں۔ کراچی کاٹن ایسوسی ایشن کی جانب سے گذشتہ تین ہفتوں سے روئی کی اسپاٹ قیمتوں کے عدم اجراء سے دنیا بھر کی کپاس منڈیوں میں پاکستان کی ”جگ ہنسائی“ ہورہی ہے۔
چیئرمین کاٹن جنرز فورم احسان الحق نے ایکسپریس کو بتایا کہ پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری ہونے والے تازہ ترین اعداد وشمار کے مطابق 16 سے 31 دسمبر 2025 کے دوران مقامی ٹیکسٹائل ملوں نے جننگ فیکٹریوں سے مجموعی طور پر 2 لاکھ 18 ہزار گانٹھوں کے لگ بھگ روئی کی خریداری کی ہے جو توقعات سے زیادہ ہے اور اگر ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال نہ ہوتی تو اس میں کم از کم 50 ہزار گانٹھوں کا مزید اضافہ ممکن تھا۔
احسان الحق نے کہا کہ توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ دسمبر میں بینک کلوزنگ جیسے معاملات، ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال اور چین میں سوتی دھاگے اور کپڑے کی قیمتوں میں تیزی جیسے عوامل رواں ہفتے ٹیکسٹائل ملوں کی روئی خریداری متوقع طور پر بڑھنے سے روئی کی قیمتوں میں تیزی کا رحجان سامنے آسکتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پی سی جی اے کی جانب سے جاری ہونے والی رپورٹ کی ایک اور خاص بات یہ ہے کہ 16سے 31 اکتوبر 2025 کے دوران جننگ فیکٹریوں میں کپاس کی آمد میں 56 فیصد اضافہ ہے۔ 31 دسمبر تک ملک بھر کی جننگ فیکٹریوں میں 54 لاکھ 34 ہزار روئی کی گانٹھوں کی مساوی پھٹی پہنچی ہے جو گذشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں معمولی کم ہے۔
رپورٹ کے مطابق پنجاب کی جننگ فیکٹریوں میں زیرتبصرہ مدت کے دوران 25 لاکھ 41 ہزار گانٹھ جبکہ سندھ کی جننگ فیکٹریوں میں 28 لاکھ 93 ہزار گانٹھوں کی مساوی پھٹی پہنچی ہے جو گزشتہ سال کے اسی مدت کی نسبت بالترتیب 4.
کراپ رپورٹنگ سنٹرز نے پنجاب میں 28 لاکھ 14 ہزار جبکہ سندھ میں 12 لاکھ 35 ہزار ایکڑ رقبے پر کپاس کی کاشت کا دعویٰ کیا تھا لیکن اس کے باوجود 31 اکتوبر تک سندھ میں کپاس کی پیداوار 3 لاکھ 52 ہزار زائد ہے۔
انہوں نے بتایا کہ مذکورہ عرصے تک ٹیکسٹائل ملوں نے جننگ فیکٹریوں سے 47 لاکھ 08 ہزار گانٹھ جبکہ برآمد کنندگان نے ایک لاکھ 76ہزار گانٹھوں کی خریداری کی ہیں اور جننگ فیکٹریوں میں روئی کی 5 لاکھ 50 ہزار گانٹھوں کے قابل فروخت ذخائر موجود ہیں۔
احسان الحق نے بتایا کہ 12 دسمبر کو کے سی اے کی عمارت کو سیل کیے جانے سے گزشتہ 3 ہفتوں سے روئی کے اسپاٹ ریٹس جاری نہ ہونے کے باعث جہاں پاکستان میں بینکوں ودیگر مالیاتی اداروں کی جانب سے ٹیکسٹائل ملز اور جننگ فیکٹریوں کو دیے جانے والے قرضوں میں مسائل درپیش ہیں وہیں دنیا بھر کی کاٹن مارکیٹس میں روزانہ جاری ہونے والے روئی کے نرخوں کے حوالے سے پاکستانی کپاس کی نمائندگی نہ ہونے سے ان مارکیٹس میں پاکستان کی جگ ہنسائی ہو رہی ہے۔
کئی پاکستانی کاٹن پراڈکٹس ایکسپورٹر تنظیموں نے بھی وزیر اعظم شہباز شریف سے اپیل کی ہے کے سی اے کی عمارت کا مسئلہ جلد سے جلد حل کرایا جائے۔ سال 1973 کے بعد 52 سال میں پہلی مرتبہ پاکستان سے کپاس کے اسپاٹ ریٹس جاری نہ ہونے سے پوری کاٹن انڈسٹری میں تشویش دیکھی جا رہی ہے جسے جلد سے جلد حل کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے بتایا کہ یہ اطلاعات بھی زیرگردش ہیں کہ وفاقی حکومت کی جانب سے ملک بھر میں نئی شوگر ملز لگانے کی اجازت دی جارہی ہے لیکن ان اقدامات کے بعد خدشہ ہے کہ پاکستان میں کپاس کی کاشت میں مزید 50 فیصد گھٹ جائے گی جس سے پاکستان میں روئی اور خوردنی تیل کی درآمد پر سالانہ اربوں ڈالر کا اضافی زرمبادلہ خرچ کرنا پڑے گا اس لئے حکومت پاکستان کو چاہیئے کہ وہ کاٹن زونز میں نئی شوگر ملز لگانے یا پہلے سے قائم شوگر ملز کی پیداواری صلاحیت بڑھانے پر پابندی قائم رکھے تاکہ پاکستان میں حقیقی طور پر کپاس کی بحالی ہوسکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: جننگ فیکٹریوں میں ہزار گانٹھوں پاکستان میں نے بتایا کہ کی جانب سے میں تیزی روئی کی کپاس کی
پڑھیں:
کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
کراچی میں اضافی پانی کا منصوبہ کے فور کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی۔
ایکسپریس نیوز کو واٹر کارپوریشن حکام کے سینئر افسران نے اس کی تصدیق کی کہ منصوبے میں مزید ڈھائی سال لگ سکتے ہے، اگر کام اسی طرح ہوتا رہے تو اس منصوبے میں وفاق، سندھ حکومت ، بین الاقومی مالیتی اداروں کی فنڈنگ بھی کی گئی۔
حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہوچکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔
تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1ارب 20 کروڑ گیلن ہے جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کر نے کے لئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔
2014 میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بناناتھا جس کی لاگت 25 ارب روپے بتا ئی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا تاہم پھر اس کو واپڈ کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہوسکا۔
کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026 کی ڈیڈ لائن دی ہے۔ ایکپسریس نیوز نے مختلف ذرائع سے جو تفصیلا ت حاصل کیں ان کے مطابق کے فور منصوبہ 2026 میں بھی مکمل نہیں ہوسکے گا اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029 کی جنوری تک ہے۔
ایک ذرائع نے بتایا کہ اگر کام اسی رفتار سے کام چلتا رہا تو نومبر 2025 کو آگمیٹیشن کام نیپا چورنگی سے شروع ہوا جو حسن اسکوائر تک محیط ہے، اس کی لمبائی 2 اعشاریہ 7 کلو میٹر طویل ہے اب تک مکمل نہیں ہوسکا کیونکہ یہ تو صرف ابتداء ہے اصل کام تو آر ون، آر ٹو، آر تھری کا کام جو اب تک شروع ہی نہیں ہوا۔
سب سے حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ان کا ٹھیکہ ہی نہیں ہوسکا کہ کام کون کریں گا آر ون ،آر ٹو ، آر تھری ہے کیا یہ ریروائر کی لائنیں ہے آر ون 26 کلومیٹر طویل ہے ، آر ٹو40کلومیٹر طویل ہے جبکہ آرتھری 28 کلومیٹر طویل بتائی جا تی ہے۔
یہ لائنیں شہر کے وسط سے ہوتی ہوئی گزریں گی ان لائنوں کا مختلف نمبرز دئیے گئے ہے یہ لائنیں ڈلنے کے بعد ہی کراچی کو اضافی پانی مل سکے گا جب لائنوں کا مکمل شروع ہوگا تو شہر کی اہم شاہراہوں کو کھودنا پڑے گا، جس میں 72 انچ اور 96 انچ کی لائنیں ڈالی جا ئیں گی۔
صرف ایک روڈ آر ٹو کی تفصیلات فراہم کرر ہے ہیں یہ ریزر وائر ٹو نادرن بائی سے واپڈ کے ڈبلیو ایس ایس آئی پی کے سپرد کریں گی جو کھدائی کرتی ہوئی۔
نادرن بائی پاس، ٹول پلازہ سے سپرہائی وے ، پھر جنجال گوٹھ سے ہوتی ہوئی سہراب گوٹھ ، وہاں سے ابوالحسن اصفہانی روڈ ، ڈسکو بیکری سے ہوتی ہے گلشن چورنگی ، رب میڈیکل سے ہوتی ہوئی ہے سرسید یونی ورسٹی سےنیپا چورنگی پر آگمینٹیشن سے منسلک کیا جا ئے گا۔
پھر یہ حسن اسکوائر سے ہوتا ہوا غریب آباد ، لیا قت آباد ، ناظم آباد، حبیب بنک چورنگی ، سے ہوتی ہوئی گلبائی تک جا ئیں گی، یہ راستہ ہے (آر ٹو) ریزر وائر ٹو کے فور کے لئے ڈالی جانی والی لائن اس کے لئے جب لائن ڈالنے کا کام ہو گا تو کھدائی ہوگی جس میں 72 انچ اور کسی مقام پر 96 انچ کی لائن ڈالی جا ئیں گی۔
اندازہ لگانا مشکل نہیں یہ 94 کلو میٹر کی لائنیں ڈالنے کے لئے 80 ارب روپے لگے اس کے لئے 2 بین الاقومی مالیتی ادارے 80 فیصد قرضے کی صورت میں فنڈ فراہم کر یں گے جبکہ 20 فیصد فنڈ سندھ حکومت فراہم کر یگا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ 80 ارب روپے صرف آرون، آرٹو، آر تھری کی لائنیں ڈالنے میں خرچ ہوں گے جبکہ 124 ارب ٹرانسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشنز، فلٹر پلانٹٹس اور دیگر کاموں میں خرچ ہوں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جا نے ہے جن میں ٹراسمیشن لائن ، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنا نے کے کام کی ذمہ داری ہے جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن ، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے آگمیٹیشن کانیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025 سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا بلکل بین الاقومی مالیتی ادارے نے اس کو غیر معیا ری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جا ئیں گی اس وقت شہریوں کو آمد ورفت میں مزید مشکلا ت کا سامنا کرنا پڑیگا۔