نوکوٹ قلعے میں غیر اخلاقی ویڈیو معاملہ، چوکیدار گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
میرپور خاص اور تھرپارکر کے سنگم پر واقع تاریخی نوکوٹ قلعے میں غیر اخلاقی سرگرمیوں کے بعد وہاں تعینات چوکیدار کو پولیس نے حراست میں لے لیا اور معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
پولیس کے مطابق تحقیقات مکمل ہونے کے بعد حقائق کی روشنی میں مقدمہ درج کیا جائے گا۔
صوبائی وزیر ثقافت سید ذوالفقار علی شاہ نے واقعے کا فوری نوٹس لیا، جس کے بعد اسسٹنٹ ڈائریکٹر نے قلعے کے انچارج کو خط لکھ کر تین دن میں وضاحت طلب کی۔ خط میں کہا گیا کہ قلعے میں دیکھ بھال اور نگران عملے کے باوجود ایسا سنگین واقعہ پیش آیا، جس سے محکمہ کی ساکھ کو شدید نقصان اور شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔
گزشتہ روز قلعے میں 6 مختلف جوڑوں کی غیر اخلاقی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھیں، جس پر شہریوں نے بھی سخت ردعمل اور شدید تنقید کی تھی۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک