Islam Times:
2026-07-24@01:01:14 GMT

کیا عالمی نظام تاریخی بند گلی سے روبرو ہو چکا ہے؟

اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT

کیا عالمی نظام تاریخی بند گلی سے روبرو ہو چکا ہے؟

اسلام ٹائمز: 2025ء کا سال اس حقیقت کو واضح کر گیا کہ دنیا ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، ایسا مرحلہ جس میں "عظیم اور حتمی راہ حل" نہیں پائے جاتے اور عالمی سیاست زیادہ تر درپیش خطرات اور بحرانوں پر قابو پانے کے مقصد سے آگے بڑھے گی۔ ایسی فضا میں جنگیں کسی واضح اختتامی نکتے کے بغیر جاری رہیں گی، بعض اوقات غیر منصفانہ راہ حل پیش کیے جائیں گے اور بڑی طاقتوں کے درمیان مقابلہ بازی کسی مستحکم نظام تک پہنچنے کے وژن کے بغیر مزید شدت اختیار کرتی جائے گی۔ نتیجہ یہ نکلے گا کہ علاقائی کھلاڑی، خاص طور پر مشرق وسطی کے ممالک اپنے سامنے موجود آپشنز اور ہتھکنڈوں پر نظرثانی پر مجبور ہو جائیں گے اور وہ بیرونی طاقتوں پر بھروسہ کرنا چھوڑ دیں گے۔ چونکہ یہ بیرونی طاقتیں بھی تضادات اور اپنی توانائیوں میں محدودیت سے روبرو ہو جائیں گی۔ تحریر: عمرو حمزاوی (تجزیہ کار القدس العربی)
 
2025ء کا سال عالمی سیاست کے میدان میں ایک "حقیقت کھولنے والا" فیصلہ کن کردار ادا کر گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ اس سال میں نئے اور عظیم بحرانوں نے جنم لیا بلکہ اس وجہ سے کہ گذشتہ کئی سالوں سے جاری عملوں کو مزید مضبوط بنا گیا اور انہیں "امکان" کے مرحلے سے "حقیقت" کے مرحلے میں منتقل کر گیا۔ اس سلسلے میں تین ایسے اہم اور بنیادی ایشوز تھے جنہوں نے واضح طور پر عالمی نظام کی اصل خصوصیات واضح کیں، انہیں منظرعام پر لایا اور ان کی عکاسی کی: یوکرین، فلسطین اور بین الاقوامی قیادت حاصل کرنے کے لیے امریکہ اور چین کے درمیان روز افزوں بڑھتی مقابلہ بازی۔ یہ تین ایسے اہم ایشوز ہیں جنہوں نے موجودہ ورلڈ آرڈر کو شدید چیلنجز سے روبرو کر رکھا ہے اور یوں محسوس ہوتا ہے جیسے یہ عالمی نظام ایک تاریخی بند گلی سے روبرو ہو چکا ہے۔
 
یورپ کی نہ ختم ہونے والی جنگ
یوکرین اور روس میں جاری جنگ ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جسے "دو طرفہ اسٹریٹجک فرسٹریشن" قرار دیا جا سکتا ہے۔ اب اس جنگ میں اپنے ابتدائی سالوں کی طرح کوئی غیر متوقع بڑی فوجی مہم جوئی یا پیشقدمی دکھائی نہیں دیتی بلکہ اب یہ جنگ فوجی استحکام سے زیادہ مدمقابل کے سیاسی اور اقتصادی استحکام کا امتحان بن چکی ہے۔ روس نے بدستور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یوکرین اور اس کے مغربی اتحادیوں کے ارادے ٹوٹ جانے کی امید لگا رکھی ہے۔ دوسری طرف کیف دو بحرانوں سے روبرو ہے: ایک طرف وہ مغرب کی فوجی امداد کی اشد ضرورت محسوس کر رہا ہے اور دوسری طرف بعض یورپی ممالک اور امریکہ کی جانب سے نامحدود مدت تک اس کے فوجی اخراجات ادا کرنے سے دامن چھڑانے کا مشاہدہ کر رہا ہے۔ 2025ء میں جو چیز زیادہ اہمیت اختیار کر گئی وہ مغربی موقف میں بتدریج تبدیلی تھی۔
 
امریکہ اور مغربی ممالک نے جنگ کے آغاز پر تو پورے یقین سے یوکرین کو فتح کی امید دلوائی اور ہر قسم کی امداد فراہم کرنے کی یقین دہانی بھی کروائی لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کا یہ موقف کمزور پڑتا گیا اور اب وہ یوکرین کو ہر قیمت پر جنگ ختم کرنے اور روس سے سازباز کرنے پر مجبور کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ ان کے موقف میں یہ تبدیلی ان کی حقیقت پسندی کا نتیجہ ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ جنگ کی موجودہ صورتحال کا نتیجہ وسائل کے ضیاع کے علاوہ کچھ نہیں ہے اور مغرب بھی کمزور ہوتا جا رہا ہے جبکہ ایسی صورتحال چین کے لیے بھی نت نئے مواقع فراہم کرنے کا باعث بن رہی ہے۔ دوسری طرف یوکرین روس سے سازباز کرنے پر تیار نہیں اور اپنی مقبوضہ سرزمین اسے سپرد نہیں کرنا چاہتا۔
 
مسئلہ فلسطین میں سیاسی ڈیڈ لاک
2025ء کا سال فلسطین میں ایک عظیم انسانی سانحہ رونما ہونے کا سال ہے اور عالمی برادری نے اس کے بارے میں بہت ہی مختلف ردعمل ظاہر کیا ہے۔ غزہ کی پٹی میں کئی سال تک جاری جنگ اور تباہی امریکہ کی قیادت میں جنگ بندی کی عالمی کوششیں شروع ہونے کا باعث تو بنی لیکن اب تک پائیدار امن حاصل نہیں ہو پایا۔ اس ناکامی کی بڑی وجہ ایک حقیقی سیاسی وژن کا فقدان ہے اور اس اصل راہ حل کو نظرانداز کرنا ہے جو فلسطینی سرزمینوں پر صیہونی رژیم کے غاصبانہ قبضے کے خاتمے اور فلسطینیوں کو ان کے جائز حقوق فراہم کرنے پر مشتمل ہے۔ گذشتہ طویل عرصے سے جو بھی راہ حل پیش کیے گئے ہیں ان سب میں اس حقیقت کو نظرانداز کیا گیا ہے کہ صیہونی رژیم کا وجود ناجائز ہے اور وہ ایک غاصب رژیم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کوئی نتیجہ بھی حاصل نہیں ہو پایا۔
 
ورلڈ آرڈر کی تبدیلی کے دو بنیادی کھلاڑی
2025ء کے بارے میں تصور اس اہم میدان کو دیکھے بغیر مکمل نہیں ہو سکتا جس کے دو بنیادی کھلاڑی امریکہ اور چین ہیں۔ ان دو طاقتوں کے درمیان تعلقات نے بہت سی بین الاقوامی تبدیلیوں کا زمینہ فراہم کیا ہے۔ ان کے درمیان مقابلہ بازی صرف اقتصاد اور ٹیکنالوجی کے شعبوں تک محدود نہیں رہی بلکہ عالمی نظام کی نوعیت اور اصول طے کرنے تک جا پہنچی ہے۔ امریکہ نے کئی سالوں سے دنیا کی برتر طاقت کے طور پر اپنی پوزیشن بحال کرنے کی بہت کوشش کی اور اس مقصد کے لیے فوجی اتحادوں کی تشکیل، تجارتی پابندیاں عائد کرنے اور جدید ٹیکنالوجیز پر کنٹرول حاصل کرنے جیسے ہتھکنڈے بھی استعمال کیے۔ دوسری طرف چین نے خود کو ترقی کی جانب گامزن طاقت کے طور پر متعارف کروایا اور ایسے عالمی نظام کا مطالبہ کیا جس میں مغربی اثرورسوخ حاوی نہ ہو اور وہ ملٹی پولر ہو۔
 
2025ء کا سال اس حقیقت کو واضح کر گیا کہ دنیا ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، ایسا مرحلہ جس میں "عظیم اور حتمی راہ حل" نہیں پائے جاتے اور عالمی سیاست زیادہ تر درپیش خطرات اور بحرانوں پر قابو پانے کے مقصد سے آگے بڑھے گی۔ ایسی فضا میں جنگیں کسی واضح اختتامی نکتے کے بغیر جاری رہیں گی، بعض اوقات غیر منصفانہ راہ حل پیش کیے جائیں گے اور بڑی طاقتوں کے درمیان مقابلہ بازی کسی مستحکم نظام تک پہنچنے کے وژن کے بغیر مزید شدت اختیار کرتی جائے گی۔ نتیجہ یہ نکلے گا کہ علاقائی کھلاڑی، خاص طور پر مشرق وسطی کے ممالک اپنے سامنے موجود آپشنز اور ہتھکنڈوں پر نظرثانی پر مجبور ہو جائیں گے اور وہ بیرونی طاقتوں پر بھروسہ کرنا چھوڑ دیں گے۔ چونکہ یہ بیرونی طاقتیں بھی تضادات اور اپنی توانائیوں میں محدودیت سے روبرو ہو جائیں گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: جائیں گے اور مقابلہ بازی سے روبرو ہو عالمی نظام 2025ء کا سال مرحلے میں کے درمیان ہو جائیں کے بغیر کر گیا ہے اور چکی ہے راہ حل اور وہ

پڑھیں:

حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف

حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔

قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔

آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔

چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔

رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔

سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔

چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔

شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل