برزل پاس آپریشن میں پاک فوج کے کیپٹن اور سپاہی سمیت تین افراد شہید
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
گلگت بلتستان : پاک فوج نے گلگت بلتستان میں برفباری سے بند ہونے والے برزل پاس کو ٹریفک کیلئے کھول دیا ، آپریشن کی قیادت کرنے والے کیپٹن اصمد ، ایک فوجی جوان اور مشین آپریٹر جام شہادت نوش کر گئے ۔
آئی ایس پی آر کے مطابق 2 اور 3 جنوری کی درمیانی شب برزل پاس کو کھولنے کیلئے بھاری مشینری کے ذریعے برف ہٹانے کی کارروائی کی گئی تاکہ علاقےمیں مسلح افواج کی آپریشنل نقل و حرکت کو ممکن بنایا جا سکے ۔ اس دوران اچانک برفانی تودہ گرنے سے آپریشن کی قیادت کرنے والے کیپٹن اصمد ، دو جوانوں اور پی ڈبلیو ڈی کا ایک مشین آپریٹر برف تلے دب گئے ۔
آئی ایس پی آر کےمطابق شدید کوششوں کے بعد چاروں افراد کو برف سے نکال لیا گیا ، تاہم کیپٹن اصمد ، سپاہی رضوان اور مشین آپریٹر عیسیٰ جامِ شہادت نوش کر گئے ۔
عسکری ترجمان کا کہنا ہے کہ کیپٹن اصمد اور ان کے 2 ساتھیوں نے انتہائی خراب موسمی حالات میں نہایت مشکل آپریشن کے دوران اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ۔ ان کی قربانی اس امر کی گواہی ہے کہ افواج پاکستان کے افسر اور جوان مادرِ وطن کے دفاع کے لئے پرعزم ہیں ۔
28سالہ کیپٹن اسمد کا تعلق لاہور اور سپاہی رضوان کا تعلق اٹک سے تھا جبکہ شہید مشین آپریٹر شہری عیسیٰ کا تعلق استور سے تھا۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ تینوں افراد نے خراب موسم میں فورسز کی آپریشنل نقل و حرکت کیلئے آپریشن کے دوران جان کی قربانی دی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: مشین ا پریٹر کیپٹن اصمد
پڑھیں:
لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔(جاری ہے)
پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔