شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ صرحا اصغر نے کراچی کے ماضی اور حال کے حالات پر کھل کر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے نزدیک پرویز مشرف کا دورِ حکومت شہر کےلیے نسبتاً بہتر تھا، جبکہ ایم کیو ایم کا دور بھی مکمل طور پر برا نہیں تھا۔

یہ بات انہوں نے نجی چینل کے ایک پوڈکاسٹ میں شرکت کے دوران کہی، جہاں میزبان ایاز سموں نے ان سے مختلف سماجی اور شہری موضوعات پر سوالات کیے۔

پروگرام کے دوران جب کراچی کے لیے بہتر دور کے حوالے سے سوال کیا گیا تو صرحا اصغر نے کہا کہ انہیں مشرف کا زمانہ زیادہ بہتر محسوس ہوتا ہے۔ ان کے مطابق ایم کیو ایم کے دور میں بھی ایک خاص نظم و ضبط تھا، تاہم اس دور کی ایک تلخ حقیقت یہ تھی کہ ایک فون کال پر پورا شہر بند ہوجاتا تھا۔

انہوں نے کہا کہ وہ اسی ماحول میں پلی بڑھی ہیں اور آج کے حالات کا موازنہ کیا جائے تو کئی پہلوؤں سے بہتری ضرور آئی ہے۔

اداکارہ نے مزید کہا کہ ایم کیو ایم کے دور میں ڈسپلن نظر آتا تھا، لیکن اب وہ قیادت اور وہ نظام موجود نہیں رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم پاکستان کی جانب سے ملک کو بدنام کرنے کی باتیں درست نہیں، کیونکہ دنیا بھر میں حالات خراب ہیں اور صرف پاکستان یا کراچی کو نشانہ بنانا مناسب نہیں۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ آج نیویارک جیسے شہروں میں بھی بعض علاقوں میں جانا محفوظ نہیں رہا۔

کراچی میں شہری سہولتوں کی خراب صورتحال پر بات کرتے ہوئے صرحا اصغر نے نیپا چورنگی کے قریب مین ہول میں ابراہیم کے گرنے کے واقعے کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ نشئی افراد اکثر مین ہول کے ڈھکن چوری کرلیتے ہیں، مگر اصل سوال یہ ہے کہ انہیں روکنے والا کون ہے اور ذمے داری کس پر عائد ہوتی ہے۔

اداکارہ نے سماجی موضوعات پر گفتگو کرتے ہوئے ورکنگ ویمن کی شادی اور ماں بننے کی عمر پر بھی رائے دی۔ ان کا کہنا تھا کہ اب انہیں لگتا ہے کہ کام کرنے والی خواتین کے لیے شادی کی آئیڈیل عمر 25 سال کے آس پاس ہونی چاہیے، کیونکہ تیس سال کے بعد بچوں کی پیدائش کی صورت میں اتنی توانائی نہیں رہتی کہ بچوں کی بہتر پرورش کی جاسکے۔

پروگرام کے دوران صرحا اصغر نے اپنی ذاتی زندگی کا ایک پریشان کن واقعہ بھی شیئر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ایک مرتبہ ایک شخص نے ان کا پیچھا کیا اور وہ ان کے گھر تک پہنچ گیا تھا، اس وقت ان کا بیٹا ریحان بہت چھوٹا تھا۔ انہوں نے کہا کہ جب انہوں نے چیخنا شروع کیا تو پورا محلہ جمع ہوگیا، جس کے بعد وہ شخص موقع سے فرار ہوگیا۔

TagsShowbiz News Urdu.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان کھیل ایم کیو ایم نے کہا کہ انہوں نے کے دور ایم کی

پڑھیں:

حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا

وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔

متعلقہ مضامین

  • بلوچستان کی ترقی قومی ترجیح، وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے تاریخی فیصلے کیے، وزیراعظم شہباز شریف
  • ایس سی او اجلاس: اسحاق ڈار کا علاقائی امن اور تعاون کے فروغ کے عزم کا اعادہ
  • میں نے اپنی قبر تیار کروا رکھی ہے، لیجنڈ گلوکار عطا اللہ عیسیٰ خیلوی کا انکشاف
  • میسی ارجنٹائن کے صدر بنیں گے؟ نئی پیشگوئی نے سب کو حیران کردیا
  • ایرانی ٹماٹر بھی ریلیف نہ لا سکے، کراچی میں قیمتیں آسمان پر
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا