ایران میں احتجاج، ہلاکتیں: حجاب نہیں معاشی بحران سبب ہے
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260104-03-4
وجیہ احمد صدیقی
ایران، جو ایک زمانے میں خلیج کے تیل کی دولت سے مالا مال ایک علاقائی طاقت تھا، آج شدید معاشی بحران کا شکار ہے۔ دسمبر 2025 سے شروع ہونے والے احتجاجوں نے ملک بھر میں انتشار پھیلا دیا ہے۔ یہ مظاہرے حجاب جیسے سماجی مسائل پر نہیں بلکہ روزمرہ کی مہنگائی، کرنسی ریال کی گراوٹ اور بے روزگاری پر مبنی ہیں۔ مغربی دنیا حجاب کو اصل مسئلہ بتا رہی ہے۔ مغربی اقتصادی پابندیوں نے اس بحران کو جنم دیا، جس کا نتیجہ انسانی المیہ کی صورت اختیار کر گیا ہے۔ اس مضمون میں ہم اس احتجاجی لہر کی اصل وجوہات پر روشنی ڈالیں گے۔ ہلاکتوں کی تفصیلات، حجاب کے تنازعے کی صداقت اور حکومتی الزامات کا جائزہ لیں گے۔
احتجاج کی اصل وجوہات: معاشی بدحالی، ایران کے حالیہ احتجاج کا آغاز 28 دسمبر 2025 کو تہران کے گرینڈ بازار سے ہوا، جہاں دکانداروں نے ہڑتال کی۔ ریال کی قدر ایک ڈالر کے مقابلے ایک ملین تک گر گئی، جو ریکارڈ نچلی سطح تھی۔ افراط زر کی شرح 52-60 فی صد تک پہنچ گئی، بجلی اور گیس کی شدید قلت ہوئی، اور درآمد شدہ سامان نایاب ہو گئے۔ تجارتی خسارہ، liquidity crisis اور زرمبادلہ کی کمی – مہینوں سے موجود تھے، جو پابندیوں کی وجہ سے بڑھے۔
ردعمل میں عوام نے نعرے لگائے کہ ’’مولوی جاؤ‘‘ اور ’’خامنہ ای کے لیے موت‘‘ معاشی ناکامیوں پر مبنی ہیں، نہ کہ حجاب کے خلاف۔ ایران میں متوسط طبقہ سکڑ کر 45 فی صد رہ گیا ہے۔ بیروزگاری بڑھی ہے، اور IRGC کی معاشی گرفت نے کرپشن کو ہوا دی۔ یہ بحران 2025 کے کثیر بحرانی صورتحال کا حصہ ہے، جہاں تیل کی برآمدات محدود ہوئیں۔
احتجاجوں میں کم از کم 6 سے 7 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں مظاہرین اور ایک سیکورٹی اہلکار شامل ہیں۔ لردگان، کوہ دشت، ازنا اور فسا جیسے علاقوں میں جھڑپیں ہوئیں، جہاں پولیس کی فائرنگ اور پتھراؤ سے اموات ہوئیں۔ انسانی حقوق تنظیموں کا دعویٰ ہے کہ تعداد زیادہ ہو سکتی ہے، لیکن آزاد تصدیق نہیں۔ یہ 2022 کے احتجاج کے مقابلے میں زیادہ بڑے پیمانے پر ہو رہا ہے، جو 21 صوبوں تک پھیل چکا ہے۔
حجاب جلانے کی صداقت: علامتی عمل ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر حجاب جلانے کی ویڈیوز وائرل ہیں، لیکن یہ احتجاج کی اصل وجہ نہیں۔ یہ 2022 کی مہسا امینی موت کے بعد کا علامتی احتجاج ہے، جو اب معاشی غصے کی اظہار ہے۔ مستند ذرائع جیسے Euronews اور NCR-Iran میں حجاب کا ذکر کم ہے؛ فوکس مہنگائی پر ہے۔ ایرانی میڈیا (Fars, IRNA) انہیں ’’دشمنوں کی سازش‘‘ کہتے ہیں، حجاب کو اُجاگر نہیں کرتے۔ صداقت جزوی ہے، مگر مرکزی مسئلہ اقتصادی ہے۔
حکومت کا الزام: بیرونی قوتیں ملوث ہیں، ایرانی حکام اسرائیل، سعودی عرب، امریکا اور ’’غیر ملکی ایجنٹوں‘‘ پر الزام لگا رہے ہیں۔ سپریم لیڈر خامنہ ای نے مظاہرین کو ’’دشمنوں کا ہاتھ‘‘ قرار دیا۔ ٹرمپ کی دھمکیوں نے تناؤ بڑھایا، جو ہلاکتوں پر مبنی تھیں۔ پڑوسی ممالک (پاکستان، سعودی) کے ذرائع خاموش یا غیر جانبدار ہیں، جبکہ الجزیرہ نے دونوں فریقوں کی رپورٹ کی۔
اقتصادی پابندیوں سے انسانی المیہ: امریکا کے زیادہ سے زیادہ دباؤ اور پابندیوں نے تیل برآمدات روکیں، ریال کو کمزور کیا اور انسانی بحران پیدا کیا۔ ادویات اور خوراک کی قلت سے ہزاروں متاثر ہوئے، جو انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ ایران کی مزاحمتی معیشت ناکام رہی، جو جوہری پروگرام کی لاگت پر مبنی ہے۔
غربت، بھوک اور احتجاج۔ نتیجہ: ممکنہ انقلاب؟ یہ بحران 1979 کے انقلاب کی یاد دلاتا ہے۔ صدر پزشکیان کے وعدے ناکام ہوئے، اور عوام کی آواز بلند ہوتی جارہی ہے۔ عالمی برادری کو پابندیوں کا ازسرنو جائزہ لینا چاہیے، ورنہ انسانی المیہ بڑھے گا۔ ایران کی معیشت بحال ہو تو استحکام ممکن ہے، مگر بیرونی دباؤ جاری رہا تو انتشار پھیلے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)ایران نے صدر ٹرمپ کی تازہ دھمکی کے جواب میں خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا باز نہ آیا تو مشرق وسطیٰ میں اس کے انفرا اسٹریکچرز بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق ایک نامعلوم فوجی ذریعے نے کہا کہ آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کے استعمال میں ایران کا عزم فولادی ہے اور وہ کبھی بھی اس اہم آبی گزرگاہ کو اپنے خلاف خطرہ بننے کی اجازت نہیں دے گا۔فوجی عہدیدار نے مزید کہا کہ اگر امریکا نے ایران کے پلوں یا بجلی گھروں پر حملہ کیا تو ایران بھی عرب ممالک میں موجود امریکا سے وابستہ اہم شہری بنیادی ڈھانچوں بشمول پلوں، بجلی گھروں اور تنصیبات پر حملے کرے گا۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکیوں کو گزشتہ دس دنوں کے واقعات کے بعد اب پوری طرح یقین ہو جانا چاہیے کہ ایران جہاں چاہتا ہے وہیں حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ایرانی فوجی عہدیدار نے مزید کہا کہ لہٰذا ٹرمپ اگر اس طرح کا کوئی خطرناک جوا کھیلتے ہیں تو اس کا انجام ایک بار پھر ان کی سبکی اور شرمندگی کی صورت میں نکلے گا۔انھوں نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کا حق استعمال کرتا رہے گا اور اس اہم آبی گزرگاہ پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کے اپنے پختہ عزم سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوگا۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اعلان کیا تھا کہ اگر ایران کی پاسدارانِ انقلاب آبنائے ہرمز میں کسی تجارتی جہاز پر میزائل، راکٹ، ڈرون یا کسی اور ہتھیار سے حملہ کرتی ہے تو امریکا ہر ایسے واقعے کے جواب میں ایران کے ایک پل یا بجلی گھر کو تباہ کر دے گا چاہے وہ تہران کے قریب ہی کیوں نہ واقع ہو۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے اور اسے ایران نے بند کر رکھا ہے جس کے باعث عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئی ہے۔
مزید :