بلدیہ ٹاؤن: نجی اسپتال میں شہری کی خود سوزی‘ حالت تشویشناک
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) بلدیہ ٹاؤن میں واقعہ ایک نجی اسپتال کے واش روم میں شہری کی جانب سے خود سوزی کی کوشش کا افسوسناک واقعہ پیش آیا۔ پولیس کے مطابق شہری پیٹرول کی بوتل ساتھ لایا تھا اور واش روم میں خود کو آگ لگا لی جس کے نتیجے میں اس کا تقریباً 95 فیصد جسم جھلس گیا۔ واقعے کی اطلاع ملنے پر اسپتال انتظامیہ اور پولیس فوری طور پر متحرک ہو گئی۔ متاثرہ شہری کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد سول اسپتال کے برنس وارڈ منتقل کر دیا گیا جہاں اس کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ پولیس حکام کے مطابق خود سوزی کی کوشش کرنے والے شہری کی شناخت 40 سالہ عبدالرحمان کے نام سے ہوئی ہے جومواچھ گوٹھ کا رہائشی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ زخمی شہری نے ابتدائی بیان میں انکشاف کیا ہے کہ اس کا تعلق نیازی کالونی کی رہائشی ایک لڑکی سے تھا جس سے دوستی کے دوران مالی لین دین بھی ہوا۔ پولیس کے مطابق شہری کا کہنا ہے کہ اس نے لڑکی کو 50 ہزار روپے دیے تھے تاہم بعد ازاں لڑکی کے کسی اور شخص کے ساتھ نظر آنے پر وہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہو گیا اور اسی کیفیت میں اس نے انتہائی قدم اٹھانے کی کوشش کی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔