مقبوضہ کشمیر، بھارتی پولیس نے”وی پی این“ کے استعمال پر 150 کے قریب لوگوں کیخلاف مقدمہ درج کر لیا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
یاد رہے کہ لیفٹیننٹ گورنر کے ماتحت انتظامیہ نے مقبوضہ وادی کشمیر کے تمام دس جبکہ جموں خطے کے متعدد اضلاع میں”وی پی این“ کے استعمال پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی پولیس نے انٹرنیٹ تک رسائی کے لیے اپنے موبائل فون پر ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورک (وی پی این) ایپلی کیشنز استعمال کرنے پر 150 کے قریب لوگوں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق پولیس نے نئی دہلی کے مسلط کردہ لیفٹیننٹ گورنر کے احکامات پر عمل کرتے ہوئے مختلف اضلاع میں کارروائی کرتے ہوئے اب تک تقریباً 150 لوگوں کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔ پلوامہ ضلع میں 95 افراد ،بارہمولہ کے علاقے سوپور میں 23، شوپیاں میں 15، کولگام میں 9، اسلام آباد میں 5، ڈوڈہ میں2، جبکہ ضلع راجوری میں 1 شخص کیخلاف مقدمہ درج کیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق ان میں راجوری سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ لیفٹیننٹ گورنر کے ماتحت انتظامیہ نے مقبوضہ وادی کشمیر کے تمام دس جبکہ جموں خطے کے متعدد اضلاع میں”وی پی این“ کے استعمال پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔ اس اقدام کا واحد مقصد لوگوں کو سوشل میڈیا پر مقبوضہ علاقے کی اصل صورتحال کے بارے میں معلومات فراہم کرنے سے روکنا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
پاکستان کے معروف ریپر اور گلوکار طلحہ انجم نے نئی دہلی میں تعلیمی نظام کے خلاف احتجاج کرنے والے بھارتی طلبا سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ان کے حوصلے اور ثابت قدمی کو سراہا ہے۔ انہوں نے طلبا پر ہونے والی پولیس کارروائی کے بعد ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے غصے اور احساسات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔
طلحہ انجم نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر بھارتی طلبا کے احتجاج کی ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں مظاہرین پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج ہوتے دکھایا گیا۔ ویڈیو کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ ’بھارت کے طلبا مظاہرین کے نام، مجھے آپ کی ثابت قدمی کا بے حد احترام ہے، میں آپ کی مایوسی اور غصے کو سمجھ سکتا ہوں، اور یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے، مضبوط رہیں۔‘
طلحہ انجم پاکستان کے سب سے زیادہ سنے جانے والے موسیقاروں میں شمار ہوتے ہیں اور اسٹریمنگ پلیٹ فارم اسپاٹیفائی پر ان کی مقبولیت کئی ریکارڈ قائم کر چکی ہے۔ بھارت میں بھی ان کے مداحوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ گزشتہ برس نیپال میں ایک کنسرٹ کے دوران ایک مداح کی جانب سے بھارتی پرچم پیش کیے جانے پر وہ خبروں میں آئے تھے، بعد ازاں انہوں نے پاکستان میں اس معاملے پر وضاحت بھی کی تھی۔
سماجی اور انسانی مسائل پر کھل کر مؤقف اختیار کرنے والے طلحہ انجم اس سے قبل بھی کئی معاملات پر آواز بلند کر چکے ہیں۔ اپریل میں صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں کے قبضے میں جانے والے پاکستانی ملاحوں کی رہائی کے لیے انہوں نے حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا تھا اور وزارتِ خارجہ سے متاثرہ خاندانوں کے لیے مستقل ہیلپ لائن قائم کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔
دوسری جانب بھارت میں تعلیمی امتحانات کے مبینہ پیپر لیکس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ گزشتہ ماہ سے جاری ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے پلیٹ فارم سے ہونے والے اس دھرنے میں طلبہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کے دوران پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔