برفانی تودا گرنے سے پاک فوج کے کیپٹن، سپاہی اور مشین آپریٹر شہید
اشاعت کی تاریخ: 4th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
گلگت(مانیٹرنگ ڈیسک) گلگت بلتستان کے ضلع استور کے علاقے برزل پاس میں سڑک سے برف ہٹانے کے آپریشن کے دوران برفانی تودہ گرنے سے پاک فوج کے کیپٹن، سپاہی اور مشین آپریٹر شہید ہوگئے۔آئی ایس پی آر کے مطابق 2اور 3 جنوری کی درمیانی شب برزل پاس کو کھولنے کیلئے برف ہٹانے کا آپریشن کیا گیا، دوران آپریشن برفانی تودا گرنے سے پاک فوج کے کیپٹن، جوان اور مشین آپریٹر شہید ہوگئے۔آپریشن کا مقصد علاقے میں فو ج کی آپریشنل نقل و حرکت کو ممکن بنانا تھا،شہید ہونے والوں میں کیپٹن اصمد، سپاہی رضوان اور مشین آپریٹر عیسیٰ شامل ہیں۔وزیراعظم نے برزل پاس کلیئرنس آپریشن کے دوران شہید ہونے والے جوانوں کو خراج عقیدت پیش کیا، وزیراعظم شہباز شریف نے شہدا کی بلندی درجات کی دعا اور اہلخانہ سے اظہار تعزیت کیا۔شہبازشریف کا کہنا تھا کہ شہدا نے جان کی پروا نہ کرتے ہوئے برفباری سے متاثر برزل پاس کھولنے کا کام جاری رکھا ،شہدا نے جان کی پروا نہ کرتے ہوئے برزل پاس پر آمدورفت یقینی بنانے میں کردار ادا کیا،قوم شہدا کو سلام پیش کرتی ہے۔وزیرداخلہ نے بھی برزل پاس پر برف ہٹانے کے دوران برفانی تودہ گرنے شہید ہونیوالوں کو خراج عقیدت پیش کیا ، محسن نقوی نے کہا کہ شہید کیپٹن اصمد، سپاہی رضوان اور مشین آپریٹر عیسیٰ کی عظیم قربانی کو سلام پیش کرتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اور مشین ا پریٹر برزل پاس
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔