امریکی طیارہ وینزویلا کے مغوی صدر مادورو کو لے کر نیویارک پہنچ گیا
اشاعت کی تاریخ: 4th, January 2026 GMT
نیویارک(ویب ڈیسک) امریکا کے وینزویلا پر حملے کے بعد پکڑے جانے والے صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کو لے کر امریکی طیارہ نیویارک پہنچ گیا۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق وینزویلا کے صدر نیکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو لے کر امریکی طیارہ نیو یارک کی اسٹیورٹ ایئر نیشنل گارڈ بیس پہنچ گیا، جہاں یہ امکان ہے کہ صدر نکولس کو آئندہ ہفتے مین ہٹن کی وفاقی عدالت میں منشیات اور اسلحے کے الزامات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
یاد رہے کہ امریکا نے ہفتے کے روز وینزویلا پر حملہ کیا تھا، امریکی ڈیلٹا فورس وینزویلا کے صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کو ان کے صدارتی محل سے اٹھا کر لے گئی جس کے بعد ٹرمپ نے نیوز بریفنگ میں بتایا کہ ان کی ہدایت پر امریکی فوج نے وینزویلا میں غیرمعمولی آپریشن کیا ہے۔
صدر ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ وینزویلا آپریشن میں کئی جہازوں اور ہیلی کاپٹروں نے حصہ لیا، آپریشن کی خفیہ تیاری دسمبر کے اوائل میں کی تھی، جبکہ دوسرے حملے کیلئے بھی تیار ہیں، امریکا میں مادورو کے خلاف منشیات اور دہشت گردی کے الزامات کے تحت مقدمہ چلے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔