عالمی امور کے ماہر اور سینیئر سیاستدان کا کہنا ہے کہ امریکہ پچھلے 20 سال سے سویا ہوا تھا، اس دوران چین آگے بڑھ گیا، چین نے بھی پاکستان اور انڈیا میں کشیدگی کے دوران ثالثی کا کردار ادا کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ جس طرح وینزویلا کے صدر کو گرفتار کیا گیا ہے، 35 سال پہلے پاناما کے صدر کو بھی اسی طرح گرفتار کیا گیا تھا، آج وہی تاریخ دہرائی جا رہی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مسلم لیگ ن کے رہنما مشاہد حسین سید نے کہا ہے کہ دنیا میں نیا ورلڈ آرڈر قائم ہو رہا ہے اور جس کی لاٹھی اس کی بھینس پر عمل ہو رہا ہے۔ نجی ٹی وی 24 نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے مشاہد حسین سید نے کہا کہ امریکہ پچھلے 20 سال سے سویا ہوا تھا، اس دوران چین آگے بڑھ گیا، چین نے بھی پاکستان اور انڈیا میں کشیدگی کے دوران ثالثی کا کردار ادا کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ جس طرح وینزویلا کے صدر کو گرفتار کیا گیا ہے، 35 سال پہلے پاناما کے صدر کو بھی اسی طرح گرفتار کیا گیا تھا، آج وہی تاریخ دہرائی جا رہی ہے۔ مشاہد حسین سید کے مطابق سعودی عرب اور امارات ایک دوسرے کے سامنے آگئے ہیں، اس سے اسرائیل کا ابراہیم اکارڈ ختم ہو گیا ہے، سعودی عرب نے بہت سخت زبان استعمال کی ہے۔
 

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: گرفتار کیا گیا مشاہد حسین سید کے صدر کو نے کہا

پڑھیں:

امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا

کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔

دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔

ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔

دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔

انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔

دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں آگ لگ گئی
  • علاقائی کشیدگی اور بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کی پالیسی
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے
  • قدرت کا حیرت انگیز شاہکار، ہولونگ درخت کے ’ہیلی کاپٹر پھلوں‘ کی حسین اڑان