زوبین گرگ قتل کیس: منیجر نے لالچ میں قتل کی سازش کی، تفتیشی حکام
اشاعت کی تاریخ: 4th, January 2026 GMT
بولی ووڈ کے مشہور گلوکار زوبین گرگ کی موت کے معاملے میں تفتیش کی پرتیں آہستہ آہستہ کھل رہی ہیں۔
ستمبر 2025 میں سنگاپور میں ایک میوزک فیسٹیول کے دوران ان کی ناگہانی موت نے نہ صرف اہل خانہ بلکہ لاکھوں شائقین کو صدمے میں ڈال دیا تھا۔ تاہم، اب خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) کی تحقیقات نے مالی سازش اور قتل کے ممکنہ محرکات سامنے لا دیے ہیں۔
ایس آئی ٹی نے عدالت میں بتایا ہے کہ زوبین کے سابق منیجر اور مرکزی ملزم سدھارتھ شرما نے گلوکار کی رقم کا غبن کیا اور تقریباً 1.
ایس آئی ٹی نے واضح کیا کہ سدھارتھ کی سرمایہ کاری، بے نامی لین دین اور منی لانڈرنگ اس قتل کی منصوبہ بندی کی اصل بنیاد تھی۔ اگر عدالت ضبطی کے احکامات جاری نہیں کرتی تو ملزم اور اس کے ساتھی جائیداد بیچ کر رقم سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، جس سے کیس میں انصاف کا عمل متاثر ہو سکتا ہے۔
عدالت نے اس جائیداد کو قرق کرنے کی درخواست پر 17 جنوری تک جواب طلب کیا ہے۔
واضح رہے کہ زوبین گرگ ستمبر 2025 میں سنگاپور میں ایک فیسٹیول میں پرفارم کرنے گئے تھے۔ اس دوران وہ سمندر میں تیرنے کی کوشش کے دوران بے ہوش ہو گئے اور بعد میں پانی میں مردہ حالت میں پائے گئے۔
ابتدائی طور پر موت کو حادثاتی قرار دیا گیا تھا، لیکن مزید شواہد، ویڈیوز اور گواہوں کے بیانات نے معاملے کو قتل کے زمرے میں ڈال دیا۔
زوبین کے اہل خانہ اور شائقین نے موت کے بارے میں جاننے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس پر آسام حکومت نے عدالتی کمیشن قائم کیا تاکہ کیس کی گہرائی سے چھان بین کی جا سکے۔
زوبین گرگ کے قتل کی تحقیقات کے دوران، ایس آئی ٹی نے سات افراد کے خلاف قانونی کارروائی دائر کی ہے، ابتدائی تحقیقات میں زوبین کے سابق منیجر اور فیسٹیول آرگنائزر گرفتار ہوئے، جبکہ بینڈ کے ساتھیوں اور دیگر شامل ملزمان پر بھی قانونی کارروائی کی گئی۔ مقدمے میں انہیں قتل، سازش، اور مالی بدعنوانی کے الزامات کا سامنا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ایس آئی ٹی قتل کی
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔