آزادحکومت نے کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کیساتھ طے شدہ معاہدے پر عملدرآمد کی تفصیلات میڈیا کے سامنے پیش کر دیں
اشاعت کی تاریخ: 4th, January 2026 GMT
وزیراعظم سیکرٹریٹ میں کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے وزیراعظم آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر فیصل ممتاز راٹھور نے کہا کہ عوامی مفادات سے جڑے مسائل اور معاملات حل کرنے میں موجودہ حکومت نے ایک لمحہ تاخیر نہیں کی۔ اسلام ٹائمز۔ آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر نے جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ طے شدہ معاہدے پر عملدرآمد کی تفصیلات میڈیا کے سامنے رکھ دیں۔ وزیراعظم سیکرٹریٹ میں کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے وزیراعظم آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر فیصل ممتاز راٹھور نے کہا کہ عوامی مفادات سے جڑے مسائل اور معاملات حل کرنے میں موجودہ حکومت نے ایک لمحہ تاخیر نہیں کی۔ جن مسائل کی بنیاد پر عوام سڑکوں پر آئے حکومت نے ان کو حل کرنے کیلئے جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سے طے شدہ معاہدے پر عملدرآمد کو اولین ترجیح میں رکھا۔ کوئی بات مفروضے پر مبنی نہیں۔ گزشتہ اڑھائی سالہ حکومت کے دور میں عوام اور حکومت کے مابین کہیں نا کہیں دوری تھی جس کو پاکستان پیپلز پارٹی کی عوامی حکومت نے ختم کیا۔ ریاست بھی اپنی ہے اور عوام بھی اپنی ہے، جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی والے بھی ہمارے بھائی ہیں، بڑے سے بڑا مسئلہ بھی ڈائیلاگ اور بات چیت سے ہی حل کیا جا سکتا ہے۔ پر وہ بات کریں گے جو حقائق پر مبنی ہو۔ حکومت نے اقتدار سنبھالنے کے بعد ہر وہ کام کیا جو ممکن تھا، کمی کوتاہی کو دور کرنے کیلئے ہر ممکن اقدامات اٹھائیں گے۔
حکومت کے قیام کے سوا ماہ کے اندر ریاست میں عوام میں سیاستی اعتماد میں بحالی کو دیکھا جا سکتا ہے، موجودہ حکومت نے سوا ماہ میں دو ڈویژن کے دورے کیے اور عوام کی جانب سے پھولوں کی پتیوں سے استقبال کیا گیا، ہم نے گورننس میں بہتری سمیت تمام معاملات کو درست سمت لیکر چلنا ہے۔عوامی مسائل حل کرنے آئے ہیں۔ ہم نے ریاست کو آگے لیکر جانا ہے۔ وزیراعظ٘م آفس، وزراء اور بیوروکریسی کے دروازے عوام کے مسائل حل کرنے کے لیے کھلے ہیں۔ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے نکات سے ہٹ کر بھی مسائل کو حل کریں گے۔آزادکشمیر میں انوسٹمنٹ کانفرنس اور اس کے ساتھ ساتھ صاف و شفاف الیکشن بھی کروانے ہیں۔ اس موقع پر وزراء حکومت دیوان علی خان چغتائی، چوہدری قاسم مجید، چوہدری رفیق نیئر، چیف سیکرٹری خوشحال خان، پرنسپل سیکرٹری ظفر محمود خان، سیکرٹری اطلاعات عدنان خورشید بھی موجود تھے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے کبھی انا کو سامنے نہیں رکھا، خود چل کر ایکشن کمیٹی کے کور ممبر کے گھر گیا۔ انہوں نے کہا کہ جب حکومت معاہدے پر عملدرآمد کر رہی ہے تو لوگوں کو امتحان میں نہ ڈالا جائے۔ اس موقع پر جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ طے شدہ 39 نکاتی معاہدے پر عملدرآمد کے حوالے سے تفصیل بتاتے ہوئے حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے رکن وزیر خزانہ و ان لینڈ ریونیو چوہدری قاسم مجید نے معاہدے کی شق وار تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ معاہدے کی شق نمبر01 کے مطالبے کے مطابق حکومت نے 192ایف آئی آرز میں سے 177 ایف آئی آرز واپس لے لی ہیں جبکہ ایکشن کمیٹی سے معاہدے کے مطابق ہلاکتوں سے متعلق 15 ایف آئی آرکابینہ کی منظوری کے بعد عدالت العالیہ سے دو عدالتی کمیشنز کی سربراہی درج شدہ ایف آئی آرز کے جائزہ کے لیے معزز جج صاحب کی نامزدگی کی تحریک کر دی گئی ہے۔
معاہدے کی شق نمبر02 کے مطالبے پر عملدرآمد کرتے ہوئے حکومت نے یکم اور دو اکتوبر 2025ء کے واقعات میں ہلاک شدگان اور زخمیوں کے خاندانوں کو معاوضہ جات ادا کر دیے ہیں جبکہ مرحوم فیاض کے بھائی کو بطور سٹینو گرافر بی 14 محکمہ برقیات میں ملازمت اور دیگر ہلاک ہونے والے ہر شخص کے خاندان کے ایک ایک فرد کو محکمہ برقیات میں ملازمت فراہم کر دی گئی ہے۔ معاہدے کی شق نمبر03 کے تحت حکومت کی جانب سے مظفرآباد اور پونچھ ڈویژن کے لیے دو اضافی انٹرمیڈیٹ و سیکنڈری تعلیمی بورڈز کے قیام کی کابینہ نے منظوری دیدی ہے۔ شق نمبر04 کے تحت ضلع میرپور میں منگلا ڈیم اپ ریزنگ پراجیکٹ کے حوالے سے متاثرہ خاندانوں کو زمینوں کی حوالگی کے حوالے سے کابینہ کے یکم دسمبر 2025ء کے اجلاس میں اقدامات کیلئے تشکیل شدہ کمیٹی نے آج دو جنوری کو اپنی رپورٹ پیش کر دی ہے جس پر جلد از جلد عملدرآمد ہو گا۔ شق نمبر05 کے تحت موجودہ لوکل گورنمنٹ ایکٹ کو ضروری ترامیم کے بعد 1990ء کے ایکٹ کی طرز پر تبدیل کر دیا گیا ہے تاہم اس حوالے سے معاملہ ہائیکورٹ میں زیر سماعت ہے۔
شق نمبر06 کے تحت کابینہ نے ہیلتھ کارڈ کے اجرا کی منظوری دیدی ہے اور ضروری مراحل کی تکمیل کے بعد 20 جنوری 2026ء سے قبل ہر صورت ہیلتھ کارڈ سروسز شروع ہو جائیں گی۔ شق نمبر07 کے تحت تمام ضلعی ہسپتالوں میں MRI اور سی ٹی سکین مشینوں کی تنصیب کے لیے محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات نے ڈی ڈبلیو پی فورم سے ساڑھے پانچ ارب روپے کے پی سی ون کی منطوری دیدی ہے جس کے لیے وفاقی حکومت سے مطلوبہ فنڈز کی فراہمی کی بھی تحریک کر دی گئی ہے جوکہ وہاں سے فنڈز ملنے پر فراہم کر دی جائیں گی۔ شق نمبر08 کے تحت بجلی کے نظام کی اپ گریڈیشن کے لیے وفاقی حکومت کی جانب سے 10 ارب روپے کی یقین دہانی کروائی گئی ہے اور فنڈز کی فراہمی پر بجلی کے نظام کی اپ گریڈیشن کا کام شروع کر دیا جائیگا۔ شق نمبر09 میں مطالبہ تھا کہ 20 رکنی کابینہ رکھی جائے حکومت نے اس پر عملدرآمد کرتے ہوئے اپنی 20رکنی کابینہ ہی رکھی میں جس میں 18 وزیر اور 02 مشیر ہیں۔ جبکہ محکمہ جات کی تعداد کو بھی 20 کر دیا گیا ہے اس وقت چیف سیکرٹری کے علاوہ حکومت کے 20سیکرٹریز ہیں۔ شق نمبر 10 کے تحت احتساب بیورو اور اینٹی کرپشن کو ضم کرنے کے ساتھ ساتھ احتساب قوانین میں ترمیم کی منظوری دیدی گئی ہے اور قانون ساز اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں منظوری کے بعد یہ قانون بن جائے گا۔
شق نمبر11 کے تحت نیلم ویلی روڈ پر کہوڑی کامسر روڈ اور چپلانی کے مقامات پر ٹنلز کی تعمیر کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ سینٹرل ڈیزائن آفس نے پہاڑوں کے استحکام کا جائزہ لینے کے بعد یہ قرار دیا ہے کہ اب سرنگوں کی ضرورت نہیں تاہم حکومت پاکستان کے این ایچ اے اس کی توثیق کے عمل میں ہے اور سعودی فنڈز کو مظفرآباد مانسہرہ ایکسپریس وے میں استعمال کرنے کے امکانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ شق نمبر12 کے تحت آزاد جموں و کشمیر اسمبلی کے اراکین کے حوالے سے آزادکشمیر کے حلقوں کے علاوہ مہاجرین نشستوں کے حوالے سے آئینی کمیٹی بنا دی گئی ہے اور اس کمیٹی کا آج اسلام آبادمیں اجلاس ہو رہا ہے۔ شق نمبر13 کے تحت بنجونسہ، مظفرآباد، پلاک، دھیرکٹ، میرپور اور ریان کوٹلی میں ہونے والے واقعات کی ایف آئی آرز کے حوالے سے کابینہ کی منظوری کے بعد معزز ہائیکورٹ کے رجسٹرار سے عدالتی کمیشنز کی سربراہی اور درج شدہ ایف آئی آرز کے جائزہ کیلئے معزز جج صاحب کی نامزدگی کی تحریک کر دی گئی ہے۔
شق نمبر 14 کے تحت میرپور انٹرنیشنل ائیرپورٹ کے قیام کے لیے وفاقی حکومت نے فزیلبٹی رپورٹ تیار کر لی ہے اور اس حوالے سے 05 جنوری 2026ء کو مانیٹرنگ اینڈ عملدرآمد کمیٹی کے اجلاس میں مزید پیش رفت ہو گی۔ شق نمبر 15 کے تحت پراپرٹی ٹرانسفر کرنے پر ٹیکس کو پنجاب کے برابر یعنی 8.
شق نمبر19 کے تحت ضلع کوٹلی میں گل پور پل کی تعمیر کو اے ڈی پی میں شامل کر دیا گیا ہے جبکہ رحمان پل کی حالت سی ڈی او کی رپورٹ کے مطابق تسلی بخش ہے اور اس کے ارد گرد اپروچ روڈ کی دوبارہ تعمیر کی جا رہی ہے۔ شق نمبر20 کے تحت حکومت اگر ایڈوانس ٹیکس ختم کرتی ہے تو یکدم 35ارب روپے کا جھٹکا لگے جو کہ حکومت فی الحال برداشت نہیں کر سکتی اس پر مزید جائزہ لیا جا رہا ہے اور ایکشن کمیٹی کے ساتھ بھی مانیٹرنگ اینڈ ایمپلیمنٹیشن کمیٹی کے پلیٹ فارم سے گفت و شنید جاری ہے۔ شق نمبر21 کے تحت محکمہ ہائر ایجوکیشن کے تحت تمام تعلیمی اداروں میں داخلے اوپن میرٹ پر کیے جا رہے ہیں۔ شق نمبر22 کے تحت ڈڈیال کشمیر کالونی کے لیے واٹرسپلائی اور ٹرانسمیشن لائن کی اے ڈی پی میں شامل کرنے کی کابینہ نے منظوری دیدی ہے۔
شق نمبر23 کے تحت مینڈر کالونی ڈڈیال کے مہاجرین کو مالکانہ حقوق دیے جانے بارے انہوں نے بتایا کہ خالصہ لینڈ مالکانہ حقوق عطائیگی قواعد2021ء کی معیاد ختم ہو چکی جس کی وجہ سے نئی پالیسی تشکیل کے آخری مراحل میں ہے۔ شق نمبر24 کے تحت کابینہ نے آج ٹرانسپورٹ پالیسی کی منظوری دیدی ہے جس کے مطابق استحقاق کے خلاف کوئی بھی سرکاری گاڑی استعمال نہیں کر سکے گا اور ہر محکمہ میں ایک ٹرانسپورٹ افسر مقرر کیا جائے گا جو اس حوالے سے پالیسی پر عملدرآمد یقینی بنائے گا۔ حکومت کے محکمہ جات کے علاوہ کارپوریشنز اور نیم سرکاری ادروں کو گرین نمبر پلیٹ کی اجازت نہیں ہو گی۔
شق نمبر25 کے تحت02 اور 03 اکتوبر کو راولپنڈی اسلام آباد میں گرفتار تمام کشمیری مظاہرین کو رہا کر دیا گیا ہے۔ شق نمبر26 کے تحت معاہدے پر عملدرآمد کے جائزہ کے لیے مانیٹرنگ اینڈ ایمپلیمنٹیشن کمیٹی بنا دی گئی ہے جس کی ایک میٹنگ منعقد ہو چکی ہے جبکہ آئندہ میٹنگ پانچ جنوری2026ء کو ہے۔ شق نمبر27 کے تحت ایکشن کمیٹی اراکین یا عوام کے خلاف مورخہ 09 مئی 2023ء تا 4 اکتوبر 2025ء کے درمیان درج کی گئی تمام ایف آر ز ماسوائے قتل کے واقعات کے واپس کردی گئی ہیں۔ شق نمبر28 کے تحت جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی سرگرمیوں میں شرکت کی وجہ سے معطل کیے گئے تمام سرکاری ملازمین بحال کر دیے گئے ہیں۔ شق نمبر29 کے تحت مرحوم اظہر کے بھائی کو محکمہ برقیات میں ملازمت دیدی گئی ہے۔ شق نمبر30 کے تحت منگلا ڈیم اپ ریزنگ پراجیکٹ کے متاثرین کو بجلی کے بلات معاف کرنے اور آئندہ بل جاری نہ کرنے کے حوالے سے کابینہ فیصلے کی روشنی میں نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔
شق نمبر31کے تحت حکومت آزادکشمیر ضلع سدھنوتی کی حدود کہوٹہ آزاد پتن روڑ کی ری الائنمنٹ و ری کنڈیشنگ کے حوالے سے آزاد کشمیر کے علاوہ پنجاب میں واقع سڑک کے حصوں کی بھی حکومت آزاد کشمیر کی جانب سے سٹڈی کروائی جا رہی ہے۔ شق نمبر32 کے تحت محکمہ برقیات میں ای ٹینڈرنگ کے ذریعے میٹرز کی خریداری کا عمل اپنایا گیا ہے۔ شق نمبر33 کے تحت آٹا کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے پاسکو محکمہ خوراک آزاد کشمیر کو پچاس فیصد مقامی اور پچاس فیصد امپورٹڈ گندم فراہم کر رہا ہے۔ شق نمبر34 کے تحت آزاد جموں و کشمیر میں سیلولر انٹرنٹ سروسز کی بہتری کیلئے یو ایس ایف فنڈز کے سی ای او کی تقرری کر دی گئی ہے۔ شق نمبر35 کے تحت آزاد جموں و کشمیر میں گاربیج سگریگیشن کے لیے سکیم اے ڈی پی میں شامل کر لی گئی ہے۔
شق نمبر36 کے تحت طلبہ یونین کی بحالی اور ضابطہ اخلاق تجویز کرنے کیلئے وزرائے کرام برائے لوکل گورنمنٹ و تعلیم طلبہ پر مشتمل کمیٹی بنا دی گئی ہے۔ شق نمبر37 کے تحت پرائیویٹ سکولز و کالجز کے لیے پانچ کے وی ٹیرف کی شرط ختم کر دی گئی ہے۔ کمرشل صارفین کو بھی ایک سے پندرہ سو یونٹ 25روپے فی یونٹ اور اس سے زیادہ کا ٹیرف 35روپے فی یونٹ مقرر کر دیا گیا ہے۔ شق نمبر38کے تحت بجلی چوری روکنے کے لیے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں اور امید ہے کہ عوامی ایکشن کمیٹی اس حوالے سے تعاون کریگی۔ شق نمبر39 کے تحت بینک آف آزاد جموں و کشمیر شیڈولنگ کے لیے 10ارب کی شرط پوری کرنے کیلیے حکومت نے مطلوبہ 2.9 ارب روپے بینک کو فراہم کر دیے ہیں اور بینک کی جلد اپلیکیشن لانچ کی جا رہی ہے جلد اے جے کے بینک شیڈول ہو جائے گا۔ وزیر خزانہ چوہدری قاسم مجید نے کہا کہ معاہدے پر عملدرآمد کیلیے تعاون کرنے پر حکومت پاکستان، صدر پاکستان، وزیراعظم پاکستان، چیئرمین پیپلزپارٹی سمیت قومی اداروں کے شکرگزار ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی معاہدے پر عملدرا مد کے لیے وفاقی حکومت اے ڈی پی میں محکمہ برقیات میں منظوری دیدی ہے ایکشن کمیٹی کے منظوری کے بعد کے حوالے سے ا کر دیا گیا ہے ایف ا ئی ا رز معاہدے کی شق کر دی گئی ہے اس حوالے سے کی جانب سے گئی ہے اور کابینہ نے کی منظوری نے کہا کہ حکومت نے کے علاوہ انہوں نے ارب روپے حکومت کے کے مطابق فراہم کر کے تحت ا جائے گا کرنے کی کرنے کے کے ساتھ رہا ہے جا رہی رہی ہے اور اس
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔