وینزویلا پر امریکی کارروائی کے بعد عالمی تشویش
اشاعت کی تاریخ: 4th, January 2026 GMT
اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خبردار کیا ہے کہ وینزویلا میں حالیہ پیش رفت بین الاقوامی قانون کے لیے ایک خطرناک مثال بن سکتی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل پیر کے روز ہنگامی اجلاس منعقد کرے گی، جس میں وینزویلا میں امریکا کی فوجی کارروائی پر بڑھتی ہوئی عالمی تشویش اور بین الاقوامی نظام کو لاحق ممکنہ خطرات پر غور کیا جائے گا۔ اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خبردار کیا ہے کہ وینزویلا میں حالیہ پیش رفت بین الاقوامی قانون کے لیے ایک خطرناک مثال بن سکتی ہے۔ ان کے ترجمان کے مطابق سیکریٹری جنرل اس بات پر شدید فکرمند ہیں کہ امریکا کی کارروائی سے خطے میں عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے اصولوں کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ یہ اجلاس کولمبیا کی درخواست پر بلایا گیا، جس کی چین اور روس نے حمایت کی، جبکہ وینزویلا نے بھی باضابطہ طور پر سلامتی کونسل سے رجوع کیا ہے۔ اجلاس ’’بین الاقوامی امن و سلامتی کو لاحق خطرات‘‘ کے ایجنڈے کے تحت ہو گا اور سیکریٹری جنرل کونسل کے ارکان کو بریفنگ دیں گے۔ وینزویلا نے امریکی اقدام کو اپنی خودمختاری کے خلاف جارحیت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کارروائی قدرتی وسائل، خصوصاً تیل کے ذخائر پر قبضے کی کوشش ہے۔ چین اور روس نے بھی امریکا کے اقدام کی شدید مذمت کی ہے اور اسے بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ دوسری جانب امریکا کا مؤقف ہے کہ یہ کارروائی سکیورٹی اور جرائم سے نمٹنے کے لیے کی گئی، تاہم متعدد ممالک کا کہنا ہے کہ کسی بھی ریاستی سربراہ کو طاقت کے ذریعے ہٹانا اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے منافی ہے۔ سفارتی حلقوں کے مطابق سلامتی کونسل کے اجلاس میں سخت اختلافات متوقع ہیں اور کسی متفقہ قرارداد کا امکان کم ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سیکریٹری جنرل بین الاقوامی سلامتی کو متحدہ کے
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔