واشنگٹن سمیت امریکی شہروں میں وینزویلا پر حملے کے خلاف احتجاج، ٹرمپ کی گرفتاری کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 4th, January 2026 GMT
واشنگٹن اور دیگر امریکی شہروں میں وینزویلا کے خلاف امریکی فوجی کارروائی اور صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کے فیصلے کے خلاف مظاہرے کیے گئے، جن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف شدید نعرے بازی اور ان کی گرفتاری کا مطالبہ سامنے آیا۔ عالمی ردعمل تیز تر ہوتا جا رہا ہے، خاص طور پر امریکہ میں بھی شہریوں اور سیاسی حلقوں کی جانب سے مداخلت کی مخالفت میں احتجاج جاری ہے۔
امریکی احتجاج اور ردعمل
امریکی میڈیا کے مطابق چکاکو سمیت متعدد شہروں میں عوامی مظاہرے ہوئے، جن میں لوگوں نے وینزویلا میں امریکی فوجی کارروائی کو غیر قانونی اور ایک جارحیت قرار دیا۔ مظاہرین نے ٹرمپ انتظامیہ کے فیصلوں کے خلاف شدید نعرے لگائے اور مطالبہ کیا کہ صدر ٹرمپ کو قانون کے مطابق جوابدہ بنایا جائے۔
‘نو ٹو وار’ مطالبات
واشنگٹن اور پورٹ لینڈ جیسے شہروں میں احتجاجی پروگرام منصوبہ بندی کے تحت منعقد ہوئے، جن میں شرکا نے امریکی مداخلت کے خلاف نعرے لگائے اور مطالبہ کیا کہ امریکہ کو وینزویلا سمیت کسی بھی غیر ضروری جنگ میں شامل نہیں ہونا چاہیے۔ متحرک گروپس نے اس تنازعے کو آئینی اور بین الاقوامی اصولوں کے خلاف قرار دیا۔
ملکی سیاست اور فوجی کارروائی
صدر ٹرمپ نے خود اعلان کیا ہے کہ امریکہ وینزویلا پر اثرات قائم رکھے گا اور وہاں عبوری انتظام چلائے گا، جبکہ مادورو اور ان کی اہلیہ کو نیویارک میں عدالتوں میں مقدمات کا سامنا کرنا ہوگا۔ اس کارروائی نے بین الاقوامی سطح پر بھی شدید تنقید اور قانونی سوالات اٹھا دیے ہیں، جن میں امریکی اندرونی اور بیرونی دونوں سطحوں پر مخالفت شامل ہے۔
یہ خبر امریکی احتجاج اور ردعمل کو اجاگر کرتی ہے، جس میں نہ صرف لوگوں نے ٹرمپ انتظامیہ کے فیصلے پر عوامی اظہارِ مخالفت کیا بلکہ امریکہ میں سیاسی اور سویلین حلقوں نے بھی اس پر سخت تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کے خلاف
پڑھیں:
نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
بھارت میں نیٹ (NEET) امتحان کے مبینہ پیپر لیک کے خلاف دہلی سے شروع ہونے والا احتجاج اب ملک کے مختلف شہروں تک پھیل گیا ہے۔ طلبہ کی جانب سے امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور اصلاحات کے مطالبات زور پکڑتے جا رہے ہیں، جبکہ دہلی یونیورسٹی نے اپنے طلبہ اور اساتذہ کو جنتر منتر پر جاری احتجاج میں شرکت سے گریز کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
پیپر لیک کے خلاف احتجاج اب صرف دارالحکومت دہلی تک محدود نہیں رہا۔ ممبئی، کولکاتا، بنگلورو، حیدرآباد، پٹنہ، لکھنؤ، چندی گڑھ اور دیگر شہروں میں بھی طلبہ تنظیموں نے ریلیاں، دھرنے اور احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے ہیں۔ متعدد مقامات پر طلبہ نے امتحانی نظام میں اصلاحات، پیپر لیک میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی اور شفاف امتحانی عمل کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔
Huge crowd of students floods roads of Nashik.
Student protest is now getting pan India surge. pic.twitter.com/tW5HlH2LuY
— VIZHPUNEET (@vizhpuneet) July 23, 2026
ادھر اپوزیشن جماعتیں بھی طلبہ کی حمایت میں میدان میں آ گئی ہیں۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی اور ’انڈیا اتحاد‘ کے دیگر رہنماؤں نے احتجاجی طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ دہرایا ہے۔
دوسری جانب نیٹ دہلی یونیورسٹی نے اپنے سرکاری بیان میں کہا ہے کہ جنتر منتر پر ہونے والے اجتماعات سپریم کورٹ کی ہدایات کے تحت منظم کیے جاتے ہیں اور کسی بھی غیرقانونی مظاہرے میں شرکت کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق ایسے اقدامات طلبہ کی سلامتی، تعلیمی مستقبل اور پیشہ ورانہ مواقع کو متاثر کر سکتے ہیں، اس لیے انہیں احتجاجی سرگرمیوں سے دور رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ، نئی دہلی میں طلبہ کے احتجاج پر لاٹھی چارج
یونیورسٹی نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی جعلی اور گمراہ کن خبروں سے بھی خبردار کرتے ہوئے طلبہ کو غیر مصدقہ معلومات شیئر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ پیپر لیک معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، تاہم طلبہ تنظیموں نے واضح کیا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارت احتجاج دہلی احتجاج نیٹ پیپر لیک